40

ایران امریکا جنگ بندی کی امید، عالمی منڈی میں خام تیل سستا، برینٹ 88.52 ڈالر فی بیرل پر آگیا

سفارتی کوششوں کے اثرات، عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتوں میں معمولی کمی

مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے باوجود امریکا اور ایران کے درمیان ممکنہ جنگ بندی کی سفارتی کوششوں نے عالمی تیل مارکیٹ کو وقتی ریلیف فراہم کیا ہے۔ ثالثی کرنے والے ممالک کی سرگرمیوں اور جنگ بندی سے متعلق مثبت اشاروں کے بعد بین الاقوامی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتوں میں معمولی کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر مذاکرات کامیاب رہے تو عالمی توانائی مارکیٹ میں مزید استحکام پیدا ہو سکتا ہے، تاہم خطے کی صورتحال اب بھی غیر یقینی ہے۔


جنگ بندی کی کوششوں نے مارکیٹ کا رخ بدل دیا

غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق مختلف ممالک امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی کم کرنے اور کم از کم 10 روزہ جنگ بندی پر اتفاق رائے پیدا کرنے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔

ان سفارتی سرگرمیوں نے سرمایہ کاروں کے خدشات میں عارضی کمی پیدا کی ہے، جس کے باعث عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں پر بھی مثبت اثرات دیکھنے میں آئے ہیں۔


برینٹ خام تیل 88.52 ڈالر فی بیرل پر آگیا

کاروباری روز کے دوران اتار چڑھاؤ کے بعد برینٹ خام تیل کی قیمت میں 0.78 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی، جس کے بعد اس کی قیمت 88 ڈالر 52 سینٹ فی بیرل تک آ گئی۔

یہ کمی اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ مارکیٹ اس وقت جنگ بندی کی خبروں کو مثبت انداز میں دیکھ رہی ہے، اگرچہ سرمایہ کار اب بھی صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔


امریکی خام تیل بھی سستا ہوگیا

برینٹ کے ساتھ ساتھ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) خام تیل کی قیمت میں بھی کمی دیکھی گئی۔

امریکی خام تیل 0.39 فیصد کمی کے بعد 82 ڈالر 15 سینٹ فی بیرل پر ٹریڈ کر رہا ہے، جو عالمی مارکیٹ میں طلب، رسد اور سفارتی پیش رفت کے اثرات کو ظاہر کرتا ہے۔


تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کیوں آ رہا ہے؟

ماہرین کے مطابق مشرقِ وسطیٰ دنیا کے اہم ترین تیل پیدا کرنے والے خطوں میں شامل ہے، اس لیے وہاں پیدا ہونے والی ہر کشیدگی عالمی توانائی مارکیٹ پر فوری اثر ڈالتی ہے۔

اگر جنگ میں شدت آتی ہے تو تیل کی سپلائی متاثر ہونے کا خدشہ بڑھ جاتا ہے، جس سے قیمتیں تیزی سے اوپر جا سکتی ہیں۔ اس کے برعکس جنگ بندی یا سفارتی پیش رفت کی خبریں مارکیٹ میں اعتماد پیدا کرتی ہیں اور قیمتوں میں کمی کا رجحان سامنے آتا ہے۔


سپلائی میں رکاوٹ کا خدشہ اب بھی برقرار

اگرچہ حالیہ مذاکرات نے مارکیٹ کو وقتی سکون دیا ہے، لیکن ماہرین کا کہنا ہے کہ سپلائی میں خلل کا خطرہ ابھی مکمل طور پر ختم نہیں ہوا۔

اگر مذاکرات ناکام ہوتے ہیں یا خطے میں دوبارہ کشیدگی بڑھتی ہے تو خام تیل کی قیمتیں دوبارہ تیزی سے بڑھ سکتی ہیں، کیونکہ سرمایہ کار فوری طور پر ممکنہ خطرات کو قیمتوں میں شامل کرنا شروع کر دیتے ہیں۔


10 روزہ جنگ بندی کی تجویز کتنی اہم ہے؟

تجزیہ کاروں کے مطابق اگر امریکا اور ایران 10 روزہ جنگ بندی پر متفق ہو جاتے ہیں تو نہ صرف خطے میں کشیدگی کم ہوگی بلکہ عالمی توانائی منڈی کو بھی استحکام ملے گا۔

اس دوران مزید سفارتی مذاکرات کا موقع مل سکتا ہے، جس سے طویل المدتی امن کی راہ بھی ہموار ہونے کی امید پیدا ہو سکتی ہے۔


پاکستان سمیت درآمدی ممالک پر ممکنہ اثرات

پاکستان جیسے تیل درآمد کرنے والے ممالک کے لیے عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں کمی ایک مثبت پیش رفت سمجھی جاتی ہے۔

اگر بین الاقوامی قیمتوں میں کمی کا رجحان برقرار رہتا ہے تو مستقبل میں پٹرول اور ڈیزل کی درآمدی لاگت کم ہو سکتی ہے، جس سے مقامی قیمتوں پر بھی مثبت اثر پڑنے کا امکان پیدا ہوگا۔ تاہم اس کا انحصار حکومتی پالیسی، ٹیکسز اور دیگر مالیاتی عوامل پر بھی ہوگا۔


ماہرین کی رائے

ماہرینِ معاشیات کے مطابق اس وقت عالمی تیل مارکیٹ انتہائی حساس مرحلے سے گزر رہی ہے۔ ایک طرف جنگی خدشات قیمتوں کو اوپر لے جانے کی صلاحیت رکھتے ہیں، جبکہ دوسری جانب سفارتی کوششیں اور ممکنہ جنگ بندی قیمتوں کو متوازن رکھنے میں اہم کردار ادا کر رہی ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ آئندہ چند دن عالمی توانائی مارکیٹ کے لیے انتہائی اہم ہوں گے، کیونکہ مذاکرات کے نتائج ہی خام تیل کی قیمتوں کی آئندہ سمت کا تعین کریں گے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں