37

نورستان میں تباہ کن سیلاب، 20 افراد جاں بحق، 80 سے زائد زخمی، 100 کے قریب لاپتا

افغانستان کے صوبہ نورستان میں شدید بارشوں اور سیلاب نے تباہی مچا دی

افغانستان کے مشرقی صوبے نورستان میں ہونے والی شدید بارشوں اور اچانک آنے والے سیلاب نے بڑے پیمانے پر جانی و مالی نقصان پہنچایا ہے۔ پاکستان کی سرحد سے متصل اس پہاڑی علاقے میں سیلابی ریلوں نے مکانات، بازاروں، ہوٹلوں اور دیگر بنیادی ڈھانچے کو شدید نقصان پہنچایا۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق کم از کم 20 افراد جاں بحق، 80 سے زائد زخمی جبکہ تقریباً 100 افراد لاپتا ہیں۔ ریسکیو ٹیمیں مسلسل امدادی کارروائیوں میں مصروف ہیں اور متاثرہ علاقوں میں صورتحال انتہائی تشویشناک ہے۔


شدید بارشوں نے معمولات زندگی مفلوج کر دیے

نورستان اور اس کے گردونواح میں مسلسل ہونے والی موسلادھار بارشوں نے ندی نالوں کو خطرناک حد تک بھر دیا، جس کے بعد اچانک آنے والے سیلاب نے ہر طرف تباہی پھیلا دی۔ پانی کے تیز بہاؤ نے سڑکیں، پل اور رابطہ راستے بہا دیے جس سے کئی دیہات اور بستیاں ایک دوسرے سے کٹ گئیں۔

مقامی افراد کے مطابق پانی کی رفتار اتنی زیادہ تھی کہ لوگوں کو سنبھلنے کا موقع تک نہیں ملا۔ متعدد خاندان اپنے گھروں میں محصور ہو گئے جبکہ کئی افراد بہتے پانی کی زد میں آ کر لاپتا ہو گئے۔


پارون شہر میں بڑے پیمانے پر تباہی

صوبائی دارالحکومت پارون سیلاب سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے علاقوں میں شامل ہے۔ دریا کے کنارے قائم مارکیٹیں، دکانیں اور چھوٹے کاروبار مکمل طور پر تباہ ہو گئے۔ سیلابی پانی کے ساتھ آنے والے بڑے پتھروں اور کیچڑ نے کئی عمارتوں کو زمین بوس کر دیا۔

ہوٹلز، رہائشی مکانات اور تجارتی مراکز کو شدید نقصان پہنچنے سے سینکڑوں خاندان بے گھر ہو گئے ہیں۔ مقامی تاجروں کا کہنا ہے کہ برسوں کی محنت چند گھنٹوں میں سیلاب کی نذر ہو گئی۔


جانی نقصان اور زخمیوں کی تعداد میں اضافے کا خدشہ

افغان ڈیزاسٹر مینجمنٹ حکام کے مطابق اب تک 20 افراد کی لاشیں نکالی جا چکی ہیں جبکہ 80 سے زائد زخمی مختلف اسپتالوں میں زیر علاج ہیں۔ حکام کو خدشہ ہے کہ لاپتا افراد کی تلاش مکمل ہونے کے بعد جاں بحق افراد کی تعداد میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔

متاثرہ علاقوں میں مواصلاتی نظام متاثر ہونے کی وجہ سے درست اعداد و شمار جمع کرنا بھی ایک بڑا چیلنج بنا ہوا ہے۔


ریسکیو آپریشن مسلسل جاری

ریسکیو اداروں، مقامی رضاکاروں اور حکومتی ٹیموں نے فوری طور پر امدادی کارروائیاں شروع کر دیں۔ بھاری مشینری، کشتیوں اور دیگر وسائل کی مدد سے ملبے میں دبے افراد کو نکالنے اور لاپتا شہریوں کی تلاش کا عمل جاری ہے۔

دور دراز پہاڑی علاقوں تک رسائی مشکل ہونے کی وجہ سے امدادی کارروائیوں میں مشکلات کا سامنا ہے، تاہم حکام کا کہنا ہے کہ تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں۔


متاثرہ خاندانوں کو امداد کی فراہمی

سیلاب سے متاثرہ ہزاروں افراد کو خوراک، صاف پانی، ادویات اور عارضی رہائش کی اشد ضرورت ہے۔ امدادی ادارے متاثرہ خاندانوں تک بنیادی ضروریات پہنچانے کی کوشش کر رہے ہیں، تاہم کئی علاقوں میں سڑکیں تباہ ہونے کے باعث امدادی سامان کی ترسیل سست روی کا شکار ہے۔

حکام نے عوام اور فلاحی تنظیموں سے بھی متاثرین کی مدد کے لیے تعاون کی اپیل کی ہے۔


مزید بارشوں اور سیلاب کا الرٹ جاری

افغان ڈیزاسٹر مینجمنٹ ایجنسی نے خبردار کیا ہے کہ آئندہ چند روز کے دوران مختلف صوبوں میں مزید بارشوں اور طوفان کا امکان موجود ہے۔ شہریوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ دریاؤں، ندی نالوں اور سیلابی گزرگاہوں کے قریب جانے سے گریز کریں۔

انتظامیہ نے مقامی آبادی سے کہا ہے کہ وہ موسمی انتباہات پر عمل کریں اور کسی بھی ہنگامی صورتحال میں متعلقہ اداروں سے فوری رابطہ کریں تاکہ مزید جانی نقصان سے بچا جا سکے۔


ماہرین کی نظر میں موسمیاتی تبدیلیوں کا اثر

ماہرین کا کہنا ہے کہ خطے میں حالیہ برسوں کے دوران شدید بارشوں، اچانک سیلاب اور دیگر قدرتی آفات کے واقعات میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث پہاڑی علاقوں میں بارشوں کی شدت بڑھ رہی ہے، جس سے لینڈ سلائیڈنگ اور فلیش فلڈز کے خطرات بھی بڑھ جاتے ہیں۔

ماہرین اس بات پر زور دیتے ہیں کہ مستقبل میں ایسے نقصانات سے بچنے کے لیے جدید وارننگ سسٹم، بہتر انفراسٹرکچر اور مؤثر ڈیزاسٹر مینجمنٹ حکمت عملی اختیار کرنا ناگزیر ہے۔


حکومتی اقدامات اور آئندہ لائحہ عمل

افغان حکام نے متاثرہ علاقوں میں امدادی سرگرمیاں تیز کرنے، زخمیوں کے علاج اور لاپتا افراد کی تلاش کے لیے تمام متعلقہ اداروں کو ہائی الرٹ کر دیا ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ متاثرہ خاندانوں کی بحالی اور تباہ شدہ انفراسٹرکچر کی تعمیر نو کے لیے جامع منصوبہ تیار کیا جا رہا ہے۔

عوام سے بھی اپیل کی گئی ہے کہ وہ غیر ضروری سفر سے گریز کریں، سرکاری ہدایات پر عمل کریں اور موسم کی صورتحال سے باخبر رہیں تاکہ کسی بھی ممکنہ خطرے سے محفوظ رہا جا سکے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں