واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ مجوزہ معاہدے سے متعلق امریکی نشریاتی ادارے سی این این کی رپورٹنگ کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اسے جھوٹ اور فیک نیوز قرار دیا ہے۔ صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ایران کے ساتھ زیر غور معاہدے میں جوہری پروگرام سے متعلق شقیں نہ صرف شامل ہیں بلکہ یہ معاہدے کا بنیادی اور اہم ترین حصہ ہیں۔
امریکی میڈیا میں حالیہ دنوں ایران اور امریکا کے درمیان ممکنہ معاہدے کے حوالے سے مختلف رپورٹس سامنے آئی ہیں۔ بعض رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا کہ مجوزہ معاہدے میں ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق واضح شرائط شامل نہیں ہیں، تاہم صدر ٹرمپ نے ان خبروں کی سختی سے تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ حقائق اس کے برعکس ہیں۔
سی این این پر فیک نیوز پھیلانے کا الزام
صدر ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر جاری بیان میں کہا کہ سی این این نے ایک مرتبہ پھر عوام کو گمراہ کرنے کی کوشش کی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکی نشریاتی ادارہ مسلسل غلط معلومات پھیلا رہا ہے اور ایران سے متعلق معاہدے کے بارے میں بھی حقائق کو مسخ کر کے پیش کیا جا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ سی این این یہ تاثر دینے کی کوشش کر رہا ہے کہ ایران کے ساتھ ہونے والے ممکنہ معاہدے میں جوہری ہتھیاروں یا جوہری پروگرام کا کوئی ذکر موجود نہیں، جبکہ حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے۔
ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنا معاہدے کا بنیادی مقصد
صدر ٹرمپ نے واضح کیا کہ مجوزہ معاہدے میں صاف الفاظ میں درج ہے کہ ایران کسی بھی صورت جوہری ہتھیار حاصل نہیں کرے گا۔ ان کے مطابق یہی معاہدے کا سب سے اہم نکتہ ہے اور امریکا کی اولین ترجیح بھی یہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ امریکی انتظامیہ کسی ایسے معاہدے پر رضامند نہیں ہوگی جس میں ایران کے جوہری عزائم کو روکنے کے لیے واضح اور مضبوط ضمانتیں موجود نہ ہوں۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکا خطے میں امن و استحکام کے لیے ایران کے جوہری پروگرام پر سخت نگرانی چاہتا ہے۔
جوہری شقیں معاہدے کا مرکزی حصہ قرار
امریکی صدر کے مطابق ایران کے ساتھ زیر غور معاہدے کا بڑا حصہ جوہری پروگرام سے متعلق تفصیلی نکات پر مشتمل ہے۔ انہوں نے کہا کہ معاہدے میں ایسے اقدامات شامل کیے گئے ہیں جو ایران کی جوہری سرگرمیوں کی نگرانی اور ان پر پابندیوں کو یقینی بنائیں گے۔
ٹرمپ نے مزید کہا کہ جوہری شقیں نہ صرف موجود ہیں بلکہ انتہائی مضبوط انداز میں تحریر کی گئی ہیں تاکہ مستقبل میں کسی قسم کی ابہام یا غلط فہمی پیدا نہ ہو سکے۔ ان کے مطابق معاہدے کی کامیابی کا انحصار بھی انہی نکات پر ہے۔
امریکا اور ایران تعلقات میں نئی پیش رفت
حالیہ مہینوں کے دوران امریکا اور ایران کے درمیان سفارتی رابطوں میں تیزی دیکھی گئی ہے۔ عالمی مبصرین کا خیال ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان جاری مذاکرات مشرق وسطیٰ کی صورتحال پر بھی گہرے اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق اگر ایران اور امریکا کے درمیان کوئی نیا معاہدہ طے پا جاتا ہے تو اس سے نہ صرف خطے میں کشیدگی کم ہو سکتی ہے بلکہ عالمی توانائی مارکیٹ پر بھی مثبت اثرات مرتب ہونے کا امکان ہے۔ تاہم معاہدے کی حتمی شرائط اور تفصیلات سامنے آنے تک مختلف قیاس آرائیاں جاری رہیں گی۔
میڈیا رپورٹنگ اور سیاسی تنازع
صدر ٹرمپ اور امریکی میڈیا کے درمیان اختلافات کوئی نئی بات نہیں۔ اپنے پہلے دور صدارت سے لے کر اب تک ٹرمپ متعدد بار مختلف میڈیا اداروں پر جانبدارانہ رپورٹنگ اور فیک نیوز پھیلانے کے الزامات عائد کرتے رہے ہیں۔
سی این این بھی ان اداروں میں شامل ہے جسے ٹرمپ اکثر تنقید کا نشانہ بناتے ہیں۔ تازہ بیان کے بعد ایک مرتبہ پھر ایران معاہدے کے معاملے پر سیاسی اور میڈیا حلقوں میں بحث شروع ہو گئی ہے۔
عالمی برادری کی نظریں مذاکرات پر مرکوز
ایران کے جوہری پروگرام اور امریکا کے ساتھ ممکنہ معاہدے پر عالمی برادری کی گہری نظر ہے۔ یورپی ممالک، مشرق وسطیٰ کے اتحادی اور بین الاقوامی ادارے اس پیش رفت کو خطے کے امن و سلامتی کے لیے اہم قرار دے رہے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر معاہدے میں واقعی سخت جوہری شرائط شامل ہیں تو یہ مستقبل میں ایران کے جوہری پروگرام کو محدود رکھنے میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔ دوسری جانب مذاکرات کی ناکامی خطے میں کشیدگی بڑھانے کا سبب بھی بن سکتی ہے۔
نتیجہ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران سے متعلق مجوزہ معاہدے پر سی این این کی رپورٹنگ کو مسترد کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ معاہدے میں جوہری پروگرام سے متعلق مضبوط اور تفصیلی شقیں شامل ہیں۔ ان کے مطابق ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنا معاہدے کا بنیادی مقصد ہے۔ ٹرمپ کے اس بیان کے بعد ایران امریکا مذاکرات اور مجوزہ معاہدے پر عالمی توجہ مزید بڑھ گئی ہے جبکہ آنے والے دنوں میں اس حوالے سے مزید تفصیلات سامنے آنے کا امکان ہے۔