31

ایران مذاکرات ناکام ہوئے تو ٹرمپ کے پاس متبادل منصوبہ تیار، لنزے گراہم کا انکشاف

واشنگٹن: ایران سے مذاکرات کی ناکامی کی صورت میں سخت اقدامات کا عندیہ

امریکا کے سینئر ریپبلکن سینیٹر لنزے گراہم نے انکشاف کیا ہے کہ ایران کے ساتھ جاری سفارتی مذاکرات اگر کسی مثبت نتیجے تک نہ پہنچ سکے تو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پاس ایک متبادل منصوبہ پہلے سے موجود ہے۔ ان کے مطابق یہ منصوبہ مشرق وسطیٰ میں امریکی مفادات کے تحفظ اور عالمی تجارتی راستوں پر کنٹرول مضبوط بنانے کے لیے ترتیب دیا گیا ہے۔

لنزے گراہم کے اس بیان نے عالمی سیاسی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے، کیونکہ آبنائے ہرمز کو دنیا کی اہم ترین تزویراتی آبی گزرگاہوں میں شمار کیا جاتا ہے اور یہاں ہونے والی کسی بھی پیش رفت کے عالمی معیشت اور توانائی کی منڈیوں پر گہرے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

آبنائے ہرمز کا کنٹرول حاصل کرنے کا منصوبہ

امریکی نشریاتی ادارے کو دیے گئے انٹرویو میں سینیٹر لنزے گراہم نے کہا کہ اگر ایران کے ساتھ سفارتی کوششیں ناکام ہو جاتی ہیں تو صدر ڈونلڈ ٹرمپ آبنائے ہرمز کا کنٹرول طاقت کے ذریعے حاصل کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ یہ اقدام خطے میں امریکی مفادات کے تحفظ، عالمی تجارت کے تسلسل اور توانائی کی سپلائی کو محفوظ بنانے کے لیے کیا جا سکتا ہے۔ ان کے مطابق امریکا اس اہم آبی راستے کو عالمی معیشت کی شہ رگ سمجھتا ہے، جہاں سے دنیا کے ایک بڑے حصے کو تیل اور گیس کی ترسیل ہوتی ہے۔

تجارتی جہازوں پر ٹول ٹیکس عائد کرنے کی تجویز

لنزے گراہم نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ اگر امریکا آبنائے ہرمز میں سیکیورٹی اور فوجی نگرانی کا نظام قائم کرتا ہے تو اس کے اخراجات پورے کرنے کے لیے وہاں سے گزرنے والے تجارتی جہازوں پر فیس یا ٹول ٹیکس بھی عائد کیا جا سکتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ عالمی تجارت کو محفوظ بنانے کے لیے جو وسائل استعمال کیے جائیں گے، ان کے مالی اخراجات پورے کرنے کے لیے یہ ایک قابل عمل تجویز ہو سکتی ہے۔ تاہم اس تجویز پر بین الاقوامی سطح پر مختلف ردعمل سامنے آنے کا امکان ہے کیونکہ آبنائے ہرمز بین الاقوامی سمندری گزرگاہ تصور کی جاتی ہے۔

آبنائے ہرمز کی عالمی اہمیت

آبنائے ہرمز دنیا کے اہم ترین بحری راستوں میں شمار ہوتی ہے۔ خلیج فارس کو بحیرہ عرب سے ملانے والی اس آبی گزرگاہ سے روزانہ لاکھوں بیرل خام تیل اور دیگر تجارتی سامان دنیا کے مختلف ممالک تک پہنچایا جاتا ہے۔

ماہرین کے مطابق عالمی سطح پر تیل کی مجموعی سمندری ترسیل کا ایک بڑا حصہ اسی راستے سے گزرتا ہے، جس کی وجہ سے یہاں کسی بھی قسم کی کشیدگی یا فوجی سرگرمی عالمی منڈیوں میں بے چینی پیدا کر سکتی ہے۔

اسی وجہ سے امریکا، ایران، خلیجی ممالک اور دیگر عالمی طاقتیں اس خطے کی صورتحال پر مسلسل نظر رکھتی ہیں۔

ایران امریکا کشیدگی اور سفارتی کوششیں

گزشتہ کئی برسوں سے ایران اور امریکا کے تعلقات مختلف اتار چڑھاؤ کا شکار رہے ہیں۔ جوہری پروگرام، اقتصادی پابندیاں، علاقائی سلامتی اور مشرق وسطیٰ میں اثر و رسوخ کے معاملات دونوں ممالک کے درمیان اختلافات کی بنیادی وجوہات رہے ہیں۔

حالیہ مہینوں میں سفارتی رابطوں اور مذاکرات کے ذریعے کشیدگی کم کرنے کی کوششیں جاری ہیں، تاہم ابھی تک کسی حتمی معاہدے یا بڑے بریک تھرو کا اعلان سامنے نہیں آیا۔

سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق اگر مذاکرات کامیاب ہو جاتے ہیں تو خطے میں استحکام پیدا ہو سکتا ہے، جبکہ ناکامی کی صورت میں کشیدگی میں اضافے کا خدشہ برقرار رہے گا۔

سعودی عرب اور اسرائیل تعلقات پر بھی زور

لنزے گراہم نے اپنے انٹرویو میں سعودی عرب اور اسرائیل کے تعلقات کا بھی ذکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ سعودی عرب کو اسرائیل کے ساتھ اپنے تعلقات کو معمول پر لانے پر غور کرنا چاہیے کیونکہ اس سے خطے میں نئی سیاسی اور اقتصادی شراکت داریوں کے دروازے کھل سکتے ہیں۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ مشرق وسطیٰ میں جاری سفارتی سرگرمیوں کے باعث 2026 کے دوران کئی اہم پیش رفت متوقع ہیں، جن میں علاقائی اتحاد، اقتصادی تعاون اور سیکیورٹی سے متعلق نئے معاہدے شامل ہو سکتے ہیں۔

عالمی منڈیوں پر ممکنہ اثرات

اگر آبنائے ہرمز کے حوالے سے کسی بھی قسم کی فوجی کارروائی یا سخت پالیسی اپنائی جاتی ہے تو اس کے اثرات براہ راست عالمی توانائی مارکیٹ پر مرتب ہو سکتے ہیں۔ تیل کی قیمتوں میں اضافہ، شپنگ لاگت میں بڑھوتری اور عالمی تجارت میں رکاوٹ جیسے خدشات پیدا ہو سکتے ہیں۔

معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ سرمایہ کار اس وقت ایران امریکا مذاکرات کی پیش رفت پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں کیونکہ اس کے نتائج عالمی مالیاتی اور توانائی منڈیوں کی سمت کا تعین کر سکتے ہیں۔

نتیجہ

سینیٹر لنزے گراہم کے بیان نے ایران امریکا تعلقات اور مشرق وسطیٰ کی مستقبل کی صورتحال کے حوالے سے نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ ان کے مطابق مذاکرات ناکام ہونے کی صورت میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پاس آبنائے ہرمز سے متعلق متبادل منصوبہ موجود ہے، جس میں فوجی اقدامات اور تجارتی جہازوں پر ٹول ٹیکس عائد کرنے جیسے اقدامات شامل ہو سکتے ہیں۔ آنے والے مہینوں میں ایران امریکا مذاکرات اور خطے کی سیاسی صورتحال عالمی توجہ کا مرکز بنی رہے گی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں