عمان میں ایرانی اسپیکر کا اہم بیان
عمان (23 جون 2026) : ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر باقر قالیباف نے انکشاف کیا ہے کہ سوئٹزرلینڈ کے برگن اسٹاک میں ہونے والے مذاکرات کے دوران ایرانی وفد نے امریکی وفد کے ساتھ مشترکہ فریم میں آنے اور مشترکہ تصویر بنوانے سے انکار کر دیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران نے ہمیشہ برابری اور باہمی احترام کی بنیاد پر مذاکرات کی حمایت کی ہے، لیکن دھمکیوں اور دباؤ کی سیاست کو کبھی قبول نہیں کیا۔
امریکی وفد کے ساتھ مشترکہ فریم سے انکار
باقر قالیباف کے مطابق مذاکرات کے دوران امریکی وفد کے ساتھ مشترکہ تصویر اور ایک ہی فریم میں آنے کی تجویز دی گئی تھی، تاہم ایرانی وفد نے اسے مسترد کر دیا۔ انہوں نے کہا کہ ایران اپنی خارجہ پالیسی میں قومی وقار اور خودمختاری کو اولین ترجیح دیتا ہے اور اسی اصول کے تحت یہ فیصلہ کیا گیا۔
ٹرمپ کے بیان کے بعد مذاکراتی سیشن چھوڑ دیا
ایرانی اسپیکر نے بتایا کہ مذاکرات مثبت انداز میں آگے بڑھ رہے تھے، لیکن امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ایک دھمکی آمیز بیان نے صورتحال کو تبدیل کر دیا۔ ان کے مطابق اس بیان کے بعد ایرانی وفد نے احتجاجاً مذاکراتی سیشن چھوڑ دیا اور مزید براہ راست بات چیت جاری نہ رکھنے کا فیصلہ کیا۔
جے ڈی وینس کو مفاہمتی یادداشت یاد دلائی
باقر قالیباف کا کہنا تھا کہ انہوں نے امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کو یاد دلایا کہ مذاکرات کے آغاز میں ایک مفاہمتی یادداشت پر اتفاق کیا گیا تھا جس میں واضح طور پر درج تھا کہ دونوں فریق دھمکی آمیز بیانات اور اشتعال انگیز زبان سے گریز کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ امریکی قیادت کی جانب سے اس اصول کی خلاف ورزی کی گئی جس کے باعث مذاکرات متاثر ہوئے۔
پاکستان اور قطر نے ثالثی کا کردار ادا کیا
ایرانی اسپیکر کے مطابق براہ راست مذاکرات معطل ہونے کے باوجود ایران نے ثالث ممالک کے ذریعے پیغامات کے تبادلے کی اجازت دی۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان اور قطر نے اس دوران اہم ثالثی کردار ادا کیا اور دونوں فریقوں کے درمیان رابطے برقرار رکھنے میں مدد فراہم کی۔
براہ راست مذاکرات سے انکار
باقر قالیباف نے کہا کہ ایرانی وفد نے ثالث ممالک کو واضح کر دیا تھا کہ امریکی وفد کے ساتھ براہ راست ملاقات یا مذاکرات نہیں ہوں گے۔ ان کے مطابق جب تک دھمکیوں کی پالیسی ختم نہیں کی جاتی، اس وقت تک براہ راست بات چیت ممکن نہیں۔
اسرائیل پر مذاکرات سبوتاژ کرنے کا الزام
ایرانی اسپیکر نے اسرائیل پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیلی حکومت کسی بھی سفارتی پیش رفت کی مخالف ہے۔ ان کے بقول اسرائیل مذاکراتی عمل میں اپنی سیاسی شکست دیکھتا ہے اور اسی وجہ سے مختلف طریقوں سے مذاکرات کو ناکام بنانے کی کوشش کرتا ہے۔
ٹرمپ نے اسرائیل کو روکنے کی کوشش کی، دعویٰ
باقر قالیباف نے دعویٰ کیا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کئی مواقع پر اسرائیلی قیادت کو سخت زبان استعمال کرتے ہوئے تحمل کا مظاہرہ کرنے کا کہا۔ ان کے مطابق امریکی صدر نے بعض اوقات اسرائیل کو براہ راست ہدایات بھی دیں تاکہ مذاکراتی عمل متاثر نہ ہو۔
مسعود پزشکیان کا پاکستان کا دورہ
دوسری جانب ایرانی صدر مسعود پزشکیان آج پاکستان کے دورے پر اسلام آباد پہنچ رہے ہیں۔ اس دورے کے دوران دوطرفہ تعلقات، علاقائی سلامتی، اقتصادی تعاون اور مشرق وسطیٰ کی موجودہ صورتحال پر تبادلہ خیال متوقع ہے۔
خطے میں سفارتکاری کی اہمیت برقرار
سیاسی مبصرین کے مطابق باقر قالیباف کے حالیہ انکشافات ایران اور امریکا کے درمیان سفارتی رابطوں کی پیچیدگی کو ظاہر کرتے ہیں۔ اگرچہ براہ راست مذاکرات تعطل کا شکار ہیں، تاہم پاکستان اور قطر جیسے ممالک کی ثالثی اس بات کا اشارہ ہے کہ سفارتی راستے اب بھی مکمل طور پر بند نہیں ہوئے۔