33

ایران اپنے منجمد اثاثوں سے امریکی کسانوں سے خوراک خریدے، ٹرمپ

ٹرمپ کا ایران کے منجمد اثاثوں کے حوالے سے بڑا بیان

واشنگٹن (25 جون 2026): امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کو اپنے منجمد اثاثوں سے امریکی کسانوں سے خوراک خریدنی چاہیے تاکہ ملک میں غذائی قلت کے مسائل پر قابو پایا جا سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران کو اب تک کوئی رقم فراہم نہیں کی گئی اور نہ ہی کسی قسم کے فنڈز جاری کیے گئے ہیں۔

غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق صدر ٹرمپ نے واضح کیا کہ امریکا ایران کے منجمد فنڈز پر کنٹرول برقرار رکھے گا اور ان فنڈز کے استعمال کو مخصوص مقاصد تک محدود رکھا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ اگر فنڈز استعمال کیے جاتے ہیں تو ان کے ذریعے امریکی کسانوں سے زرعی اجناس خریدی جائیں گی، جس سے ایک طرف ایران کی غذائی ضروریات پوری ہوں گی جبکہ دوسری طرف امریکی زراعت کو بھی فائدہ پہنچے گا۔

امریکی کسانوں سے گندم، مکئی اور سویابین خریدنے کی تجویز

صدر ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم “ٹروتھ سوشل” پر جاری بیان میں کہا کہ ایران میں خوراک کی قلت ایک اہم مسئلہ بنتی جا رہی ہے۔ ان کے مطابق ایران اپنے منجمد اثاثوں کے بدلے امریکی کسانوں سے مکئی، گندم اور سویابین خرید سکتا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ اس منصوبے کے تحت خریدی جانے والی تمام زرعی مصنوعات امریکا سے ہی حاصل کی جائیں گی۔ ٹرمپ کے مطابق اس اقدام سے امریکی کسانوں کی آمدنی میں اضافہ ہوگا جبکہ ایران کو بنیادی غذائی اشیا کی فراہمی بھی ممکن ہو سکے گی۔

سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ یہ تجویز امریکا کی جانب سے ایران کے ساتھ جاری مذاکرات کے دوران ایک نئی حکمت عملی کے طور پر سامنے آئی ہے، جس کا مقصد اقتصادی دباؤ برقرار رکھتے ہوئے انسانی ضروریات کو پورا کرنا ہے۔

آبنائے ہرمز اور مذاکرات سے متعلق انتباہ

صدر ٹرمپ نے اپنے بیان میں آبنائے ہرمز کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ ایران اس اہم بحری گزرگاہ سے گزرنے والے جہازوں پر کوئی ٹیکس وصول نہیں کر رہا۔ انہوں نے اس حوالے سے پھیلائی جانے والی بعض خبروں کو غلط قرار دیتے ہوئے کہا کہ اگر امریکا کو مذاکرات کے دوران غلط معلومات فراہم کی گئیں تو بات چیت کا عمل فوری طور پر ختم کیا جا سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ امریکا شفاف اور سنجیدہ مذاکرات کا خواہاں ہے، تاہم کسی بھی قسم کی غلط بیانی یا حقائق چھپانے کی کوشش کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔

ایرانی جوہری تنصیبات کے معائنے کا معاملہ

دریں اثنا صدر ٹرمپ نے فاکس نیوز کو دیے گئے انٹرویو میں ایرانی جوہری تنصیبات کے ممکنہ معائنے سے متعلق بھی گفتگو کی۔ انہوں نے کہا کہ اگر عالمی جوہری توانائی ایجنسی (IAEA) کے معائنہ کار ایران کا دورہ کرتے ہیں تو ان کے ساتھ امریکی معائنہ کار بھی شامل ہوں گے۔

ٹرمپ کے مطابق ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق عالمی برادری کے خدشات کو دور کرنے کے لیے شفافیت انتہائی ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکا اس بات کو یقینی بنانا چاہتا ہے کہ جوہری سرگرمیاں بین الاقوامی قوانین اور معاہدوں کے مطابق ہوں۔

ایران پر معاہدوں سے متعلق تنقید

امریکی صدر نے ایران پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ایرانی حکام اکثر مذاکرات کے دوران کسی معاہدے پر رضامندی ظاہر کرتے ہیں اور اسے تحریری شکل بھی دیتے ہیں، لیکن بعد میں عوامی سطح پر اس کی مختلف تشریح پیش کرتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ یہی وجہ ہے کہ امریکا کسی بھی نئے معاہدے میں واضح شرائط اور مضبوط نگرانی کے نظام کو ضروری سمجھتا ہے تاکہ مستقبل میں کسی قسم کی غلط فہمی پیدا نہ ہو۔

آئی اے ای اے کے دورے پر پیش رفت

صدر ٹرمپ نے مزید بتایا کہ ایرانی حکام عالمی جوہری توانائی ایجنسی کے معائنہ کاروں کے دورے پر اصولی طور پر رضامند ہیں، تاہم ابھی تک دورے کی حتمی تاریخ طے نہیں کی گئی۔

انہوں نے کہا کہ امریکا کو معائنہ کاروں کی فوری روانگی کی کوئی جلدی نہیں، لیکن مناسب وقت پر یہ عمل مکمل ہونا چاہیے تاکہ عالمی برادری کو ایران کے جوہری پروگرام کے بارے میں درست معلومات حاصل ہو سکیں۔

نتیجہ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکا اور ایران کے درمیان تعلقات ایک حساس مرحلے سے گزر رہے ہیں۔ ایران کے منجمد اثاثوں کو امریکی زرعی مصنوعات کی خریداری کے لیے استعمال کرنے کی تجویز نہ صرف اقتصادی بلکہ سیاسی لحاظ سے بھی اہم سمجھی جا رہی ہے۔ آنے والے دنوں میں یہ واضح ہوگا کہ ایران اس تجویز پر کیا ردعمل دیتا ہے اور جوہری مذاکرات کس سمت میں آگے بڑھتے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں