41

امریکا ایران کشیدگی کے باوجود آبنائے ہرمز سے 48 بحری جہاز بحفاظت گزر گئے، اہم مذاکرات بھی طے

تہران (29 جون 2026): امریکا اور ایران کے درمیان حالیہ فوجی کشیدگی اور حملوں کے تبادلے کے باوجود آبنائے ہرمز سے بحری جہازوں کی آمدورفت جاری ہے۔ تازہ اعداد و شمار کے مطابق 48 بحری جہاز اس اہم عالمی تجارتی گزرگاہ سے بحفاظت گزر گئے، تاہم خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث بحری ٹریفک میں نمایاں کمی بھی ریکارڈ کی گئی ہے۔

ماہرین کے مطابق آبنائے ہرمز عالمی توانائی کی ترسیل کے لیے انتہائی اہم راستہ ہے، جہاں کسی بھی قسم کی کشیدگی نہ صرف مشرق وسطیٰ بلکہ پوری دنیا کی تیل مارکیٹ اور عالمی تجارت کو متاثر کر سکتی ہے۔

48 بحری جہاز بحفاظت گزر گئے

قطری ٹی وی کی جانب سے جاری کیے گئے اعداد و شمار کے مطابق 25 اور 26 جون کے دوران مجموعی طور پر 48 بحری جہاز آبنائے ہرمز سے بحفاظت گزرے۔ ان میں 28 تیل اور قدرتی گیس کے ٹینکر شامل تھے، جبکہ دیگر جہازوں میں بلک کیریئرز، کارگو شپ اور کنٹینر بردار بحری جہاز بھی شامل تھے۔

رپورٹ کے مطابق کشیدگی کے باوجود شپنگ کمپنیوں نے احتیاطی تدابیر اختیار کرتے ہوئے اپنی سرگرمیاں جاری رکھیں، تاہم بعض بحری جہازوں نے متبادل راستوں اور اضافی حفاظتی اقدامات کو بھی ترجیح دی۔

کشیدگی کے باعث بحری آمدورفت میں کمی

الجزیرہ کے اوپن سورس یونٹ کی جانب سے جاری کیے گئے اعداد و شمار کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیان حملوں کے تبادلے اور جنگ بندی معاہدے کی مبینہ خلاف ورزیوں کے بعد آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بحری جہازوں کی تعداد میں واضح کمی دیکھی گئی۔

رپورٹ کے مطابق حالیہ کشیدگی سے پہلے بدھ کے روز 70 بحری جہاز جبکہ جمعرات کو 54 جہاز اس آبی گزرگاہ سے گزرے تھے، لیکن تازہ فوجی تناؤ کے بعد یہ تعداد کم ہو کر 48 رہ گئی، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ عالمی شپنگ کمپنیاں صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔

عالمی تیل منڈی پر ممکنہ اثرات

ماہرین اقتصادیات کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز دنیا کی سب سے اہم تیل بردار گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے۔ اگر یہاں کشیدگی میں مزید اضافہ ہوتا ہے یا بحری آمدورفت متاثر ہوتی ہے تو عالمی منڈی میں خام تیل اور قدرتی گیس کی قیمتوں میں نمایاں اتار چڑھاؤ دیکھنے کو مل سکتا ہے۔

اگرچہ حالیہ صورتحال میں بحری راستہ مکمل طور پر بند نہیں ہوا، لیکن غیر یقینی حالات نے عالمی توانائی مارکیٹ میں خدشات ضرور پیدا کر دیے ہیں۔

امریکا اور ایران مذاکرات پر آمادہ

دوسری جانب امریکی نیوز ویب سائٹ Axios کی رپورٹ کے مطابق امریکا اور ایران نے کشیدگی کم کرنے اور آبنائے ہرمز سے متعلق تنازع کے حل کے لیے براہ راست مذاکرات پر رضامندی ظاہر کر دی ہے۔

رپورٹ کے مطابق دونوں ممالک کے نمائندے منگل کے روز قطر کے دارالحکومت دوحہ میں ملاقات کریں گے، جہاں حملے روکنے، جنگ بندی کو مؤثر بنانے اور خطے میں استحکام کے لیے مختلف تجاویز پر غور کیا جائے گا۔

قطر ایک بار پھر سفارتی کردار میں

تجزیہ کاروں کے مطابق قطر ماضی میں بھی امریکا اور ایران کے درمیان ثالثی کا کردار ادا کرتا رہا ہے۔ اس بار بھی دوحہ میں متوقع ملاقات کو خطے میں امن کے لیے اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔

سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ اگر مذاکرات کامیاب ہوتے ہیں تو نہ صرف خطے میں کشیدگی کم ہوگی بلکہ عالمی تجارت اور تیل کی سپلائی بھی معمول پر آنے میں مدد ملے گی۔

عالمی برادری کی نظریں مذاکرات پر

بین الاقوامی برادری اس وقت امریکا اور ایران کے درمیان ہونے والے مجوزہ مذاکرات پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔ مختلف ممالک اور عالمی اداروں نے دونوں فریقین پر زور دیا ہے کہ وہ مسائل کا حل فوجی کارروائیوں کے بجائے سفارت کاری اور مذاکرات کے ذریعے تلاش کریں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر دونوں ممالک کسی قابل قبول معاہدے تک پہنچ جاتے ہیں تو نہ صرف آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت مزید محفوظ ہوگی بلکہ عالمی معیشت پر منفی اثرات بھی کم کیے جا سکیں گے۔

صورتحال بدستور حساس

اگرچہ آبنائے ہرمز سے بحری جہازوں کی آمدورفت جاری ہے، تاہم خطے کی مجموعی صورتحال اب بھی حساس سمجھی جا رہی ہے۔ دفاعی اور تجارتی ادارے مسلسل حالات کا جائزہ لے رہے ہیں، جبکہ شپنگ کمپنیاں بھی اپنے آپریشنز کو موجودہ سیکیورٹی صورتحال کے مطابق ترتیب دے رہی ہیں۔

ماہرین کا خیال ہے کہ آنے والے چند دن اس حوالے سے انتہائی اہم ثابت ہوں گے، کیونکہ دوحہ میں ہونے والے مذاکرات کے نتائج خطے کے مستقبل اور عالمی توانائی مارکیٹ پر گہرے اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں