29

سعودی عرب میں 24 گھنٹے کاروبار کی اجازت، نئے ضوابط نافذ، سالانہ فیس اور منظوری لازمی

ریاض: سعودی حکومت نے کاروباری سرگرمیوں کو مزید منظم اور جدید بنانے کے لیے 24 گھنٹے کاروبار چلانے سے متعلق نئے قواعد و ضوابط نافذ کر دیے ہیں، جن کے تحت مخصوص شرائط پوری کرنے والے ادارے دن رات اپنی خدمات جاری


سعودی حکومت کا بڑا فیصلہ

سعودی عرب نے ملک میں معاشی سرگرمیوں کو فروغ دینے اور سرمایہ کاری کے مواقع بڑھانے کے لیے 24 گھنٹے کاروبار چلانے سے متعلق نئے ضوابط نافذ کر دیے ہیں۔ سعودی گزٹ کے مطابق نئے قوانین کے تحت کاروباری ادارے سالانہ مقررہ فیس ادا کرکے دن کے چوبیس گھنٹے اپنی تجارتی سرگرمیاں جاری رکھ سکیں گے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ اس اقدام سے نہ صرف کاروباری ماحول بہتر ہوگا بلکہ صارفین کو بھی ہر وقت سہولیات میسر آئیں گی۔


سالانہ فیس اور اجازت نامہ لازمی قرار

وزارتِ بلدیات و ہاؤسنگ کے مطابق 24 گھنٹے کاروبار کرنے کے خواہشمند اداروں کو متعلقہ بلدیہ اور پولیس سے پیشگی منظوری حاصل کرنا ہوگی۔ اس کے ساتھ مؤثر میونسپل لائسنس اور الیکٹرانک اجازت نامہ بھی لازمی ہوگا۔ حکومت نے واضح کیا ہے کہ یہ اجازت نامہ بنیادی طور پر رات 12 بجے سے صبح 5 بجے تک کاروبار جاری رکھنے کے لیے درکار ہوگا۔

نئے ضوابط کے مطابق سالانہ فیس زیادہ سے زیادہ ایک لاکھ سعودی ریال تک مقرر کی جا سکتی ہے، تاہم مختلف کاروباری سرگرمیوں کے لیے فیس کا تعین وزارتِ بلدیات کرے گی۔


رمضان اور عید کے لیے الگ قواعد

سعودی حکومت نے واضح کیا ہے کہ رمضان المبارک، عید الفطر اور عید الاضحیٰ کے دوران کاروباری اوقات کار کے لیے خصوصی موسمی ضوابط نافذ ہوں گے۔ ان مواقع پر کاروباری سرگرمیوں کی نوعیت اور عوامی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے الگ ہدایات جاری کی جائیں گی تاکہ شہریوں کو بہتر سہولیات فراہم کی جا سکیں۔


وزیرِ بلدیات کو خصوصی اختیارات

نئے قوانین کے تحت وزیرِ بلدیات کو یہ اختیار دیا گیا ہے کہ وہ مختلف کاروباری شعبوں کے لیے سالانہ فیس مقرر کریں۔ اس کے علاوہ اگر کسی کاروباری سرگرمی کو عوامی مفاد میں ضروری سمجھا جائے تو اسے فیس سے مکمل یا جزوی استثنا بھی دیا جا سکتا ہے۔

یہ اختیار اس مقصد کے لیے دیا گیا ہے تاکہ بنیادی عوامی خدمات بغیر کسی اضافی مالی بوجھ کے مسلسل جاری رہ سکیں۔


ملازمین کے حقوق کا بھی تحفظ

وزارتِ انسانی وسائل و سماجی ترقی کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ 24 گھنٹے کاروبار کرنے والے اداروں میں کام کرنے والے ملازمین کے لیے واضح قواعد مرتب کرے۔

ان ضوابط کا مقصد یہ یقینی بنانا ہے کہ اضافی اوقات کار کے دوران تمام ملازمین کو سعودی لیبر قانون کے مطابق تنخواہ، آرام، چھٹیوں اور دیگر قانونی حقوق حاصل ہوں۔ حکومت نے واضح کیا ہے کہ کسی بھی ادارے کو ملازمین کے حقوق متاثر کرنے کی اجازت نہیں ہوگی۔


کن اداروں کو فیس سے استثنا حاصل ہوگا؟

نئے ضوابط کے تحت کئی بنیادی خدمات فراہم کرنے والے اداروں کو سالانہ فیس سے مستثنیٰ قرار دیا گیا ہے۔

ان میں شامل ہیں:

  • پیٹرول اسٹیشنوں پر ایندھن کی فراہمی
  • شہری آبادی سے باہر واقع پیٹرول اسٹیشن
  • سروس سینٹرز
  • ہوٹل
  • ہوٹل اپارٹمنٹس
  • ریزورٹس
  • فارمیسیاں
  • شادی ہال
  • طبی مراکز
  • تفریحی آرام گاہیں
  • تعلیمی ادارے

حکومت کے مطابق یہ تمام شعبے عوام کی بنیادی ضروریات سے متعلق ہیں، اس لیے ان پر اضافی مالی بوجھ عائد نہیں کیا جائے گا۔


بلدیاتی اداروں کو نئے اختیارات

بلدیاتی اداروں کو اختیار دیا گیا ہے کہ وہ ایسے تجارتی مراکز، مارکیٹوں اور سڑکوں کی نشاندہی کریں جہاں چوبیس گھنٹے کاروبار کی اجازت دی جا سکے۔

تاہم اس بات کو یقینی بنایا جائے گا کہ مسلسل کاروباری سرگرمیوں سے رہائشی علاقوں میں شور، ٹریفک یا دیگر مسائل پیدا نہ ہوں اور شہریوں کے معیارِ زندگی پر منفی اثرات مرتب نہ ہوں۔


خواتین کے روزگار سے متعلق قوانین پر عمل درآمد

سعودی حکومت نے واضح کیا ہے کہ 24 گھنٹے کاروبار کرنے والے تمام اداروں کو سعودی لیبر قوانین اور خواتین کے روزگار سے متعلق تمام ضوابط پر مکمل عمل کرنا ہوگا۔

اس کا مقصد خواتین سمیت تمام ملازمین کے لیے محفوظ، منظم اور قانونی کام کا ماحول فراہم کرنا ہے تاکہ جدید معاشی نظام کے ساتھ ساتھ کارکنوں کے حقوق بھی محفوظ رہیں۔


قوانین کی خلاف ورزی پر کارروائی

اجازت نامہ حاصل کرنے والے تمام اداروں پر لازم ہوگا کہ وہ متعلقہ وزارتوں، بلدیاتی اداروں اور دیگر سرکاری محکموں کی ہدایات پر مکمل عمل کریں۔

اگر کوئی ادارہ ضوابط کی خلاف ورزی کرتا ہے تو اس کے خلاف قانونی کارروائی کی جا سکتی ہے۔ تاہم متاثرہ کاروباری اداروں کو یہ حق بھی حاصل ہوگا کہ وہ بلدیاتی شکایتی کمیٹی یا متعلقہ مجاز ادارے کے سامنے اپیل دائر کر سکیں۔


معاشی سرگرمیوں میں اضافہ متوقع

ماہرین کے مطابق سعودی عرب کا یہ اقدام سرمایہ کاری، سیاحت، تجارتی سرگرمیوں اور روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنے میں اہم کردار ادا کرے گا۔ اس سے نہ صرف مقامی بلکہ غیر ملکی سرمایہ کاروں کو بھی فائدہ پہنچے گا، جبکہ شہریوں کو ہر وقت بنیادی اور تجارتی سہولیات دستیاب رہیں گی۔ حکومت کا کہنا ہے کہ نئے ضوابط کے ذریعے کاروباری ماحول کو جدید، منظم اور بین الاقوامی معیار کے مطابق بنایا جا رہا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں