کراچی (10 جولائی 2026): کراچی میں ریبیز (Rabies) کا ایک اور انتہائی تشویشناک کیس سامنے آیا ہے، جہاں کتے کے کاٹنے کے بعد بروقت ویکسین نہ لگوانے والی 28 سالہ خاتون کی حالت نازک بتائی جا رہی ہے۔ جناح اسپتال کراچی کے طبی ماہرین کے مطابق مریضہ میں ریبیز کی واضح علامات موجود ہیں اور وائرس دماغ تک پہنچنے کے باعث برین انفیکشن کی شکایت بھی سامنے آئی ہے۔ ڈاکٹروں نے شہریوں سے ایک بار پھر اپیل کی ہے کہ کسی بھی جانور کے کاٹنے کی صورت میں فوری طبی امداد حاصل کریں اور ریبیز سے بچاؤ کی ویکسین کا مکمل کورس لازمی کروائیں۔
جناح اسپتال میں ریبیز کا ایک اور کیس رپورٹ
جناح اسپتال کراچی کے اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر عرفان کے مطابق نارتھ کراچی کی رہائشی 28 سالہ خاتون کو انتہائی تشویشناک حالت میں اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں معائنے کے دوران ان میں ریبیز کی واضح علامات پائی گئیں۔
انہوں نے بتایا کہ مریضہ کو تقریباً ڈیڑھ ماہ قبل ایک کتے نے کاٹا تھا، تاہم واقعے کے بعد انہوں نے حفاظتی ویکسین یا علاج نہیں کروایا، جس کے باعث وائرس جسم میں پھیلتا گیا۔
ویکسین نہ لگوانا جان لیوا ثابت ہوا
طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ ریبیز ایک ایسا مہلک وائرس ہے جس سے بروقت ویکسین کے ذریعے مکمل طور پر بچاؤ ممکن ہے، لیکن اگر متاثرہ شخص علاج میں تاخیر کرے تو وائرس اعصابی نظام پر حملہ آور ہو کر دماغ تک پہنچ جاتا ہے۔
ڈاکٹر عرفان کے مطابق خاتون میں اب دماغی سوزش (برین انفیکشن) کی علامات بھی ظاہر ہو چکی ہیں، جس کے باعث ان کی حالت انتہائی تشویشناک ہے اور انہیں خصوصی طبی نگرانی میں رکھا گیا ہے۔
رواں سال جناح اسپتال میں چھٹا کیس
جناح اسپتال کے اعداد و شمار کے مطابق رواں سال ریبیز کا یہ چھٹا کیس رپورٹ ہوا ہے، جو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ شہریوں میں آگاہی کے باوجود کئی افراد جانوروں کے کاٹنے کے بعد فوری علاج نہیں کرواتے۔
طبی ماہرین کے مطابق ہر نیا کیس اس بات کی یاد دہانی ہے کہ ریبیز اب بھی ایک سنجیدہ عوامی صحت کا مسئلہ ہے جس پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔
ریبیز کیا ہے؟
ریبیز ایک خطرناک وائرل بیماری ہے جو عموماً متاثرہ کتے، بلی، لومڑی، گیدڑ یا دیگر جانوروں کے کاٹنے سے انسان میں منتقل ہوتی ہے۔ یہ وائرس اعصابی نظام کو متاثر کرتا ہے اور بروقت علاج نہ ہونے کی صورت میں تقریباً ہمیشہ جان لیوا ثابت ہوتا ہے۔
ماہرین کے مطابق بیماری کی علامات ظاہر ہونے کے بعد علاج کے امکانات انتہائی محدود رہ جاتے ہیں، اس لیے احتیاط ہی سب سے مؤثر حفاظتی تدبیر ہے۔
جانور کے کاٹنے کے بعد کیا کرنا چاہیے؟
طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر کسی شخص کو کتا یا کوئی بھی آوارہ جانور کاٹ لے تو سب سے پہلے زخم کو کم از کم 15 منٹ تک صاف پانی اور صابن سے اچھی طرح دھونا چاہیے۔
اس کے بعد فوری طور پر قریبی اسپتال یا طبی مرکز جا کر ریبیز سے بچاؤ کی ویکسین اور ضرورت پڑنے پر ریبیز امیونوگلوبیولن لگوانا ضروری ہے۔ ویکسین کا مکمل کورس ادھورا چھوڑنا بھی خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔
شہریوں کے لیے ماہرین کی اہم ہدایات
ڈاکٹروں نے والدین اور شہریوں کو ہدایت کی ہے کہ بچوں کو آوارہ کتوں اور دیگر جانوروں سے دور رکھیں، جبکہ کسی بھی کاٹنے یا خراش کی صورت میں معمولی سمجھ کر نظر انداز نہ کریں۔
انہوں نے زور دیا کہ خود علاج کرنے یا دیسی ٹوٹکوں پر انحصار کرنے کے بجائے فوری طور پر مستند طبی مرکز سے رجوع کیا جائے تاکہ وائرس کے پھیلاؤ کو روکا جا سکے۔
انتظامیہ کے لیے بھی چیلنج
ماہرین صحت کے مطابق ریبیز کے بڑھتے ہوئے کیسز شہری انتظامیہ کے لیے بھی ایک بڑا چیلنج ہیں۔ آوارہ کتوں کی تعداد میں اضافہ اور عوام میں آگاہی کی کمی اس مسئلے کو مزید سنگین بنا رہی ہے۔
انہوں نے متعلقہ اداروں پر زور دیا کہ آوارہ جانوروں پر قابو پانے، ویکسین کی دستیابی یقینی بنانے اور عوامی آگاہی مہم کو مزید مؤثر بنایا جائے۔
نتیجہ
کراچی میں ریبیز کا ایک اور کیس اس حقیقت کی نشاندہی کرتا ہے کہ جانور کے کاٹنے کو معمولی سمجھنا انتہائی خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔ بروقت ویکسین، فوری طبی امداد اور احتیاطی تدابیر ہی اس جان لیوا بیماری سے محفوظ رہنے کا مؤثر ذریعہ ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ہر شہری کی ذمہ داری ہے کہ کسی بھی مشتبہ واقعے کی صورت میں فوری اسپتال سے رجوع کرے اور حفاظتی ویکسین کا مکمل کورس ضرور کروائے۔