27

پاکستان میں سونے کی قیمت تاریخ کی بلند ترین سطح پر، فی تولہ 4 لاکھ 33 ہزار 836 روپے کا نیا ریکارڈ

کراچی (9 جولائی 2026): پاکستان میں سونے کی قیمت نے ایک بار پھر ملکی تاریخ کا نیا ریکارڈ قائم کر دیا ہے۔ عالمی مارکیٹ میں سونے کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافے کے بعد مقامی صرافہ بازاروں میں بھی فی تولہ سونے کی قیمت 3 ہزار 600 روپے بڑھ کر 4 لاکھ 33 ہزار 836 روپے کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی۔ اسی طرح 10 گرام سونے کی قیمت میں بھی نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جس کے باعث سونا عام شہری کی پہنچ سے مزید دور ہو گیا ہے۔

جیولرز اور معاشی ماہرین کے مطابق عالمی معاشی غیر یقینی صورتحال، مہنگائی اور محفوظ سرمایہ کاری کی بڑھتی ہوئی طلب سونے کی قیمتوں میں مسلسل اضافے کی بنیادی وجوہات ہیں۔

فی تولہ سونے کی قیمت میں ریکارڈ اضافہ

آل پاکستان جیولرز ایسوسی ایشن کے مطابق مقامی صرافہ بازاروں میں فی تولہ سونے کی قیمت میں ایک ہی دن میں 3 ہزار 600 روپے کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

اس اضافے کے بعد فی تولہ سونے کی قیمت بڑھ کر 4 لاکھ 33 ہزار 836 روپے کی تاریخی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی، جو ملکی تاریخ کی سب سے زیادہ قیمت ہے۔

10 گرام سونا بھی مہنگا

فی تولہ سونے کے ساتھ ساتھ 10 گرام سونے کی قیمت میں بھی نمایاں اضافہ دیکھا گیا۔

اعداد و شمار کے مطابق 10 گرام سونے کی قیمت 3 ہزار 86 روپے بڑھنے کے بعد 3 لاکھ 71 ہزار 944 روپے ہو گئی، جس سے زیورات خریدنے والے صارفین اور سرمایہ کار دونوں متاثر ہوئے ہیں۔

عالمی مارکیٹ میں بھی نئی بلندیاں

بین الاقوامی بلین مارکیٹ میں بھی سونے کی قیمتوں میں زبردست اضافہ دیکھنے میں آیا۔

رپورٹس کے مطابق فی اونس سونے کی قیمت 36 ڈالر اضافے کے بعد 4 ہزار 113 ڈالر کی نئی ریکارڈ سطح پر بند ہوئی، جس کے اثرات براہِ راست پاکستان سمیت دیگر ممالک کی مقامی مارکیٹوں پر بھی مرتب ہوئے۔

قیمتوں میں اضافے کی وجوہات

ڈیلرز اور معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ عالمی سطح پر جاری معاشی غیر یقینی صورتحال، جغرافیائی کشیدگی، مہنگائی اور مالیاتی منڈیوں میں اتار چڑھاؤ کے باعث سرمایہ کار محفوظ سرمایہ کاری کی تلاش میں سونے کی جانب زیادہ توجہ دے رہے ہیں۔

جب عالمی معیشت دباؤ کا شکار ہوتی ہے تو سونے کی طلب بڑھ جاتی ہے، جس کے نتیجے میں اس کی قیمت میں بھی نمایاں اضافہ دیکھنے میں آتا ہے۔

سونا محفوظ سرمایہ کاری کیوں سمجھا جاتا ہے؟

سونے کو دنیا بھر میں روایتی طور پر محفوظ سرمایہ کاری (Safe Haven Asset) تصور کیا جاتا ہے۔

ماہرین کے مطابق افراطِ زر، سیاسی عدم استحکام، جنگی حالات اور معاشی بحران کے دوران سرمایہ کار اپنے سرمائے کو محفوظ رکھنے کے لیے سونے میں سرمایہ کاری کو ترجیح دیتے ہیں، کیونکہ اس کی قدر طویل مدت میں نسبتاً مستحکم رہتی ہے۔

اسی وجہ سے عالمی سطح پر غیر یقینی حالات پیدا ہوتے ہی سونے کی قیمتوں میں تیزی آنا معمول کی بات سمجھی جاتی ہے۔

پاکستان میں قیمتوں کے تعین کا طریقہ

واضح رہے کہ پاکستان میں گزشتہ برس سونے کی قیمت مقرر کرنے کے طریقہ کار میں تبدیلی کی گئی تھی۔

اس نئے نظام کے تحت مقامی مارکیٹ میں سونے کی قیمت بین الاقوامی مارکیٹ میں فی اونس سونے کی قیمت سے 20 ڈالر زیادہ مقرر کی جاتی ہے، جس کے باعث عالمی مارکیٹ میں معمولی تبدیلی بھی پاکستان میں سونے کی قیمت پر فوری اثر ڈالتی ہے۔

عام شہریوں پر اثرات

سونے کی قیمتوں میں مسلسل اضافے نے زیورات خریدنے والے صارفین، شادی بیاہ کی تیاری کرنے والے خاندانوں اور چھوٹے سرمایہ کاروں کو شدید متاثر کیا ہے۔

تاجروں کا کہنا ہے کہ قیمتیں بڑھنے کے باعث خرید و فروخت میں کمی آ رہی ہے، جبکہ عام خریدار صرف ضرورت کے تحت ہی سونا خریدنے کو ترجیح دے رہے ہیں۔

نتیجہ

عالمی مارکیٹ میں مسلسل تیزی کے باعث پاکستان میں بھی سونے کی قیمت تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہے۔ فی تولہ سونا 4 لاکھ 33 ہزار 836 روپے جبکہ 10 گرام سونا 3 لاکھ 71 ہزار 944 روپے کا ہو چکا ہے۔ ماہرین کے مطابق جب تک عالمی معاشی غیر یقینی صورتحال برقرار رہے گی، سونے کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ اور مزید اضافے کے امکانات موجود رہیں گے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں