31

ایچ ای سی کا بڑا ایکشن، حافظ آباد کا نجی تعلیمی ادارہ غیر قانونی قرار

حافظ آباد (9 جولائی 2026): ہائر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی) نے حافظ آباد میں قائم “مسلم یونیورسٹی انسٹیٹیوٹ آف ایجوکیشن اینڈ ہیلتھ سائنسز” کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے طلبہ، والدین اور عوام کے لیے اہم انتباہ جاری کر دیا ہے۔ ایچ ای سی کے مطابق یہ ادارہ ڈگری ایوارڈ کرنے والا تسلیم شدہ تعلیمی ادارہ نہیں ہے، اس لیے اس کی جانب سے جاری کی جانے والی کسی بھی ڈگری، ڈپلومہ یا سرٹیفکیٹ کی کوئی قانونی حیثیت نہیں ہوگی۔

ایچ ای سی نے شہریوں کو مشورہ دیا ہے کہ کسی بھی تعلیمی ادارے میں داخلہ لینے سے پہلے اس کی قانونی حیثیت ضرور چیک کریں تاکہ مستقبل میں تعلیمی اور پیشہ ورانہ مشکلات سے بچا جا سکے۔

ایچ ای سی کا باضابطہ الرٹ

ہائر ایجوکیشن کمیشن کی جانب سے جاری کردہ الرٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ مذکورہ ادارہ پاکستان میں ڈگری جاری کرنے کے مجاز اداروں کی فہرست میں شامل نہیں ہے۔

ترجمان ایچ ای سی کے مطابق ادارہ نہ تو ہائر ایجوکیشن کمیشن سے تسلیم شدہ ہے اور نہ ہی اسے کسی بھی سطح پر ڈگری، ڈپلومہ یا تعلیمی اسناد جاری کرنے کی اجازت حاصل ہے۔

ڈگریاں اور اسناد قابلِ قبول نہیں ہوں گی

ایچ ای سی نے واضح کیا ہے کہ اس ادارے سے جاری ہونے والی کسی بھی ڈگری، ڈپلومہ یا سرٹیفکیٹ کو کمیشن کی جانب سے نہ تو اٹیسٹ کیا جائے گا اور نہ ہی اس کی تصدیق (Verification) کی جائے گی۔

حکام کے مطابق ایسی اسناد سرکاری یا نجی اداروں میں ملازمت، اعلیٰ تعلیم یا دیگر سرکاری معاملات میں قابلِ قبول نہیں ہوں گی، جس سے طلبہ کو مستقبل میں شدید مشکلات پیش آ سکتی ہیں۔

طلبہ اور والدین کے لیے اہم ہدایت

ایچ ای سی نے طلبہ اور والدین کو خبردار کیا ہے کہ وہ اپنے قیمتی وقت، محنت اور مالی وسائل کو ضائع ہونے سے بچانے کے لیے غیر تسلیم شدہ اداروں میں داخلہ لینے سے گریز کریں۔

کمیشن کا کہنا ہے کہ کسی بھی تعلیمی ادارے میں داخلہ لینے سے پہلے اس کی منظوری، قانونی حیثیت اور تسلیم شدہ ہونے کی تصدیق ضرور کرنی چاہیے تاکہ بعد میں کسی قسم کی پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

قانونی حیثیت جانچنے کا طریقہ

ایچ ای سی نے شہریوں کو ہدایت کی ہے کہ کسی بھی یونیورسٹی یا کالج میں داخلہ لینے سے قبل ہائر ایجوکیشن کمیشن کی سرکاری ویب سائٹ پر موجود تسلیم شدہ جامعات کی فہرست ضرور چیک کریں۔

ماہرین تعلیم کا کہنا ہے کہ طلبہ کو اشتہارات یا پرکشش دعوؤں پر انحصار کرنے کے بجائے صرف مستند ذرائع سے معلومات حاصل کرنی چاہئیں۔

غیر قانونی اداروں کے نقصانات

تعلیمی ماہرین کے مطابق غیر تسلیم شدہ اداروں سے حاصل کی گئی ڈگریاں طلبہ کے مستقبل پر منفی اثر ڈال سکتی ہیں۔ ایسی اسناد نہ صرف ملازمت کے مواقع محدود کر دیتی ہیں بلکہ بیرونِ ملک تعلیم، اسکالرشپس اور پیشہ ورانہ رجسٹریشن کے مراحل میں بھی مشکلات پیدا ہو سکتی ہیں۔

اسی لیے ماہرین مسلسل اس بات پر زور دیتے ہیں کہ طلبہ داخلے سے پہلے ادارے کی قانونی حیثیت ضرور جانچیں۔

ایچ ای سی کی عوام سے اپیل

ہائر ایجوکیشن کمیشن نے عوام سے اپیل کی ہے کہ اگر کسی ادارے کی قانونی حیثیت کے بارے میں شبہ ہو تو فوری طور پر ایچ ای سی سے رابطہ کریں یا سرکاری ویب سائٹ سے معلومات حاصل کریں۔

کمیشن نے اس عزم کا بھی اظہار کیا کہ غیر قانونی تعلیمی اداروں کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی تاکہ طلبہ کے تعلیمی مستقبل کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔

نتیجہ

ایچ ای سی کی جانب سے حافظ آباد کے “مسلم یونیورسٹی انسٹیٹیوٹ آف ایجوکیشن اینڈ ہیلتھ سائنسز” کو غیر قانونی قرار دینا طلبہ اور والدین کے لیے ایک اہم انتباہ ہے۔ کمیشن نے واضح کر دیا ہے کہ اس ادارے کی جاری کردہ ڈگریاں اور اسناد نہ تو اٹیسٹ ہوں گی اور نہ ہی ان کی تصدیق کی جائے گی، اس لیے داخلہ لینے سے قبل ہر تعلیمی ادارے کی قانونی حیثیت کی مکمل جانچ انتہائی ضروری ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں