ایل پی جی ڈیلرز، مارکیٹنگ کمپنیوں اور اسٹیک ہولڈرز کا کہنا ہے کہ اوگرا کی ناقص پالیسیوں نے عوام کو مہنگی گیس خریدنے پر مجبور کر دیا، مطالبات نہ مانے گئے تو اگلے ہفتے سے ملک گیر احتجاج ہوگا۔
لاہور: ایل پی جی انڈسٹری کا ہنگامی اجلاس
لاہور میں آل پاکستان ایل پی جی مارکیٹنگ آرگنائزنگ کمیٹی کا ہنگامی اجلاس منعقد ہوا، جس میں ملک بھر سے ایل پی جی مارکیٹنگ کمپنیوں، پلانٹس مالکان، ٹرانسپورٹرز اور ڈیلرز کے نمائندوں نے شرکت کی۔ اجلاس میں ملک میں ایل پی جی کی موجودہ صورتحال، قیمتوں میں مسلسل اضافے اور کاروبار کو درپیش مسائل پر تفصیلی غور کیا گیا۔ اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے چیئرمین حاجی نعمان احمد نے اوگرا کی پالیسیوں پر شدید تحفظات کا اظہار کیا اور کہا کہ موجودہ بحران کا اصل ذمہ دار اوگرا ہے۔
اوگرا پر حکومت کو گمراہ کرنے کا الزام
چیئرمین حاجی نعمان احمد نے کہا کہ ایل پی جی ہر پاکستانی گھر کی بنیادی ضرورت بن چکی ہے، لیکن اوگرا کی جانب سے قیمتوں کے تعین اور نوٹیفکیشن کے حوالے سے حکومت کو درست حقائق نہیں بتائے جا رہے۔ ان کا کہنا تھا کہ عوام کو مہنگی ایل پی جی خریدنے پر مجبور کیا جا رہا ہے جبکہ اصل مسائل کو نظر انداز کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ اوگرا کے اعداد و شمار زمینی حقائق سے مطابقت نہیں رکھتے۔
ناقص حکمت عملی نے بحران کو جنم دیا
اجلاس میں شریک مارکیٹنگ کمپنیوں، پلانٹس مالکان اور ٹرانسپورٹرز نے مؤقف اختیار کیا کہ متعلقہ وزارت اور اوگرا کی ناقص حکمت عملی نے ایل پی جی سیکٹر کو شدید بحران سے دوچار کر دیا ہے۔ ان کے مطابق کاروباری لاگت میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے جبکہ حکومتی پالیسیوں کی وجہ سے نہ صرف کاروبار متاثر ہو رہا ہے بلکہ صارفین بھی مہنگی گیس خریدنے پر مجبور ہیں۔
کاروبار تباہی کے دہانے پر پہنچ گیا
ایل پی جی ڈیلرز اور دیگر اسٹیک ہولڈرز نے کہا کہ موجودہ حالات میں ان کا کاروبار تباہی کے دہانے پر پہنچ چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مسلسل بڑھتے ہوئے اخراجات، قیمتوں کے تنازعات اور غیر یقینی پالیسیوں نے کاروبار کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو ہزاروں افراد کا روزگار بھی خطرے میں پڑ سکتا ہے۔
اوگرا کے دعوؤں کو مسترد کر دیا گیا
اجلاس کے شرکاء نے اوگرا کے ان دعوؤں کو مسترد کیا جن میں کہا جاتا ہے کہ مارکیٹ میں ایل پی جی کی فراہمی معمول کے مطابق ہے۔ اسٹیک ہولڈرز کے مطابق زمینی حقائق اس کے برعکس ہیں اور مختلف علاقوں میں صارفین کو مہنگے داموں گیس خریدنی پڑ رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اوگرا عوام اور حکومت دونوں کے سامنے اصل صورتحال پیش کرنے میں ناکام رہا ہے۔
ملک گیر احتجاج اور ہڑتال کی دھمکی
ایل پی جی مارکیٹنگ کمیٹی نے واضح کیا کہ اگر ان کے مطالبات فوری طور پر تسلیم نہ کیے گئے تو اگلے ہفتے سے ملک بھر میں ایل پی جی پلانٹس بند کر دیے جائیں گے، دکانوں کو تالے لگا دیے جائیں گے اور ٹرانسپورٹ بھی معطل کر دی جائے گی۔ انہوں نے اعلان کیا کہ اس کے بعد ملک گیر احتجاج کیا جائے گا اور سڑکوں پر نکل کر اپنے مطالبات کے حق میں آواز بلند کی جائے گی۔
عوام کو مشکلات کا سامنا ہو سکتا ہے
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر ایل پی جی ڈیلرز اور پلانٹس مالکان اپنی ہڑتال کے اعلان پر عمل کرتے ہیں تو ملک کے مختلف شہروں میں ایل پی جی کی فراہمی متاثر ہو سکتی ہے۔ اس صورتحال میں گھریلو صارفین، ہوٹل انڈسٹری، کمرشل ادارے اور ٹرانسپورٹ سیکٹر کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، کیونکہ لاکھوں افراد روزمرہ ضروریات کے لیے ایل پی جی پر انحصار کرتے ہیں۔
حکومت سے فوری مداخلت کا مطالبہ
ایل پی جی انڈسٹری کے نمائندوں نے وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اوگرا کی پالیسیوں کا ازسرنو جائزہ لے اور صنعت کے تحفظ کے لیے فوری اقدامات کرے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر حکومت نے بروقت مداخلت نہ کی تو بحران مزید شدت اختیار کر سکتا ہے، جس کے اثرات براہ راست عوام اور معیشت پر مرتب ہوں گے۔
نتیجہ
ایل پی جی انڈسٹری اور اوگرا کے درمیان بڑھتا ہوا تنازع ایک نئے مرحلے میں داخل ہو چکا ہے۔ ایک جانب اسٹیک ہولڈرز اوگرا کو مہنگی گیس اور بحران کا ذمہ دار قرار دے رہے ہیں جبکہ دوسری جانب ملک گیر احتجاج اور ہڑتال کی دھمکی نے صورتحال کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔ اب تمام نظریں حکومت پر ہیں کہ وہ اس معاملے کو کس طرح حل کرتی ہے تاکہ عوام کو کسی بڑے بحران کا سامنا نہ کرنا پڑے۔