آسٹریلیا، چین، انڈونیشیا اور برازیل سمیت کئی ممالک نے بچوں کو آن لائن خطرات سے محفوظ رکھنے کے لیے نئے قوانین اور سخت ضوابط متعارف کرا دیے۔
سوشل میڈیا کے منفی اثرات پر عالمی تشویش
دنیا بھر میں کم عمر بچوں میں سوشل میڈیا کے بڑھتے ہوئے استعمال نے والدین، ماہرین تعلیم، ماہرین نفسیات اور حکومتوں کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔ بچوں کی ذہنی، جسمانی اور اخلاقی نشوونما پر پڑنے والے منفی اثرات کے پیش نظر مختلف ممالک نے سخت اقدامات شروع کر دیے ہیں تاکہ نئی نسل کو آن لائن خطرات اور نامناسب مواد سے محفوظ رکھا جا سکے۔
کم عمر بچوں کے لیے نئے قوانین متعارف
رپورٹس کے مطابق دنیا کے مختلف ممالک سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو قانون کے دائرے میں لانے کے لیے نئی قانون سازی کر رہے ہیں۔ عالمی خبر رساں اداروں کے مطابق حکومتوں کی کوشش ہے کہ کم عمر بچوں کی آن لائن سرگرمیوں کو محفوظ بنایا جائے اور انہیں سائبر جرائم، استحصال اور دیگر ڈیجیٹل خطرات سے بچایا جا سکے۔
آسٹریلیا کا سخت ترین فیصلہ
آسٹریلیا نے اس حوالے سے بڑا قدم اٹھاتے ہوئے 16 سال سے کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا استعمال پر پابندی عائد کر دی ہے۔ قانون کے تحت اگر سوشل میڈیا کمپنیاں ان پابندیوں پر عمل درآمد یقینی نہ بنائیں تو انہیں 49.5 ملین ڈالر تک جرمانے کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ اس اقدام کا مقصد بچوں کی ذہنی صحت اور آن لائن تحفظ کو یقینی بنانا ہے۔
چین میں ‘مائنر موڈ’ پروگرام نافذ
چین نے بھی بچوں کے لیے سخت ڈیجیٹل پالیسی اختیار کی ہے۔ چینی سائبر اسپیس ریگولیٹر نے “مائنر موڈ” پروگرام متعارف کرایا ہے، جس کے تحت ڈیوائس کی سطح پر پابندیاں، ایپس کے استعمال کے اوقات اور خصوصی حفاظتی قواعد نافذ کیے گئے ہیں۔ ان اقدامات کا مقصد بچوں کی آن لائن سرگرمیوں کو محدود، محفوظ اور متوازن بنانا ہے۔
انڈونیشیا اور برازیل کے اقدامات
انڈونیشیا نے تقریباً سات کروڑ بچوں کو سوشل میڈیا کے ممکنہ منفی اثرات سے بچانے کے لیے 16 سال سے کم عمر افراد کے لیے نئی پابندیاں متعارف کرائی ہیں۔ دوسری جانب برازیل نے قانون بنایا ہے کہ 16 سال سے کم عمر صارفین کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس کو قانونی سرپرست کے اکاؤنٹ سے منسلک کرنا لازمی ہوگا تاکہ والدین بچوں کی آن لائن سرگرمیوں پر مؤثر نگرانی رکھ سکیں۔
بچوں کو درپیش آن لائن خطرات
ماہرین کے مطابق کم عمر بچے سوشل میڈیا پر مختلف خطرات کا سامنا کرتے ہیں، جن میں سائبر بُلنگ، آن لائن استحصال، جعلی معلومات، نامناسب ویڈیوز، پرتشدد مواد اور غیر اخلاقی سرگرمیوں کی تشہیر شامل ہے۔ مسلسل اسکرین ٹائم بچوں کی تعلیم، نیند، ذہنی صحت، توجہ اور سماجی رویوں پر بھی منفی اثرات مرتب کر سکتا ہے۔
ماہرین کی رائے
ماہرین نفسیات اور تعلیم کا کہنا ہے کہ بچوں کو مکمل طور پر ٹیکنالوجی سے دور رکھنے کے بجائے محفوظ، متوازن اور نگرانی کے ساتھ استعمال کی طرف راغب کرنا زیادہ مؤثر حکمت عملی ہے۔ ان کے مطابق والدین، تعلیمی اداروں اور حکومتوں کو مل کر ایسا ماحول فراہم کرنا ہوگا جہاں بچے جدید ٹیکنالوجی کے فوائد بھی حاصل کریں اور اس کے نقصانات سے بھی محفوظ رہیں۔
پاکستان سمیت دیگر ممالک کے لیے پیغام
دنیا کے مختلف ممالک کی جانب سے اٹھائے جانے والے اقدامات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ بچوں کی آن لائن حفاظت اب ایک عالمی ترجیح بن چکی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان سمیت دیگر ممالک بھی بچوں کے لیے مؤثر ڈیجیٹل سیفٹی قوانین، والدین کی رہنمائی اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کی ذمہ داری کو یقینی بنانے کے لیے مناسب اقدامات پر غور کر سکتے ہیں۔
نتیجہ
کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا استعمال پر بڑھتی ہوئی عالمی پابندیاں اس حقیقت کی عکاسی کرتی ہیں کہ ڈیجیٹل دور میں بچوں کی ذہنی، جسمانی اور اخلاقی حفاظت انتہائی اہم ہو چکی ہے۔ اگر حکومتیں، والدین، تعلیمی ادارے اور ٹیکنالوجی کمپنیاں مشترکہ طور پر ذمہ داری ادا کریں تو بچوں کے لیے ایک محفوظ اور مثبت آن لائن ماحول فراہم کیا جا سکتا ہے۔