31

آپریشن شعبان میں بڑی کامیابی، مزید 9 دہشت گرد ہلاک، مجموعی تعداد 52 ہوگئی

بلوچستان میں آپریشن شعبان کامیابی سے جاری، مزید 9 دہشت گرد ہلاک

بلوچستان میں امن و امان کی بحالی کے لیے پاک فوج، ایف سی بلوچستان اور پولیس کی جانب سے مشترکہ “آپریشن شعبان” پوری شدت سے جاری ہے۔ سیکیورٹی ذرائع کے مطابق حالیہ کارروائی میں مزید 9 دہشت گرد ہلاک کیے گئے ہیں، جس کے بعد اس خصوصی آپریشن میں مارے جانے والے دہشت گردوں کی تعداد 52 تک پہنچ گئی ہے۔ سیکیورٹی فورسز کا کہنا ہے کہ دہشت گردوں کے مکمل خاتمے تک کارروائیاں بلا تعطل جاری رہیں گی۔


مشترکہ آپریشن میں اہم کامیابی

سیکیورٹی ذرائع کے مطابق بلوچستان کے مختلف حساس علاقوں میں پاک فوج، ایف سی بلوچستان اور پولیس مشترکہ طور پر دہشت گردوں کے خلاف کارروائیاں کر رہی ہیں۔

تازہ آپریشن کے دوران سیکیورٹی فورسز نے دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو مؤثر انداز میں نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں مزید 9 دہشت گرد مارے گئے۔ حکام کے مطابق کارروائی انٹیلی جنس اطلاعات کی بنیاد پر کی گئی۔


زمینی اور فضائی کارروائیاں جاری

ذرائع کا کہنا ہے کہ دہشت گرد دشوار گزار پہاڑی علاقوں اور دور دراز مقامات میں چھپے ہوئے ہیں، جہاں تک رسائی آسان نہیں۔

اسی وجہ سے سیکیورٹی فورسز زمینی دستوں کے ساتھ ساتھ فضائی نگرانی اور فضائی کارروائیوں سے بھی مدد لے رہی ہیں تاکہ دہشت گردوں کے محفوظ ٹھکانوں کو مؤثر انداز میں نشانہ بنایا جا سکے۔


آپریشن شعبان میں ہلاک دہشت گردوں کی تعداد 52 ہوگئی

حالیہ کارروائی کے بعد صرف آپریشن شعبان میں ہلاک ہونے والے دہشت گردوں کی تعداد 52 تک پہنچ چکی ہے۔

سیکیورٹی ذرائع کے مطابق 5 جولائی سے اب تک بلوچستان بھر میں مختلف انسدادِ دہشت گردی کارروائیوں کے دوران مجموعی طور پر 88 دہشت گرد مارے جا چکے ہیں، جو فورسز کی مسلسل کارروائیوں کی کامیابی کو ظاہر کرتا ہے۔


دہشت گردی کے خاتمے کا عزم

سیکیورٹی فورسز نے واضح کیا ہے کہ بلوچستان میں دہشت گردی کے مکمل خاتمے تک آپریشن جاری رکھا جائے گا۔

حکام کے مطابق دہشت گردوں کو دوبارہ منظم ہونے یا محفوظ پناہ گاہیں بنانے کا کوئی موقع نہیں دیا جائے گا، اور ہر ممکن وسائل استعمال کرتے ہوئے امن کی بحالی یقینی بنائی جائے گی۔


محسن نقوی کا سیکیورٹی فورسز کو خراجِ تحسین

وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کامیاب کارروائی پر پاک فوج، ایف سی بلوچستان اور پولیس کو زبردست خراجِ تحسین پیش کیا۔

انہوں نے اپنے بیان میں کہا کہ بہادر سیکیورٹی فورسز نے ایک بار پھر دہشت گردوں کے ناپاک عزائم کو ناکام بنایا ہے اور ملک کے دفاع کے لیے ان کی قربانیاں ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔


امن کے لیے قربانیاں ناقابلِ فراموش قرار

محسن نقوی نے کہا کہ بلوچستان میں امن و امان کے قیام کے لیے سیکیورٹی فورسز کی خدمات اور قربانیاں قابلِ فخر ہیں۔

ان کے مطابق فورسز کی مسلسل کارروائیوں کی بدولت دہشت گردوں کے نیٹ ورک کو شدید نقصان پہنچا ہے، جس سے ملک میں امن کے قیام کی کوششوں کو مزید تقویت ملی ہے۔


دہشت گردوں کے لیے کوئی محفوظ جگہ نہیں

وزیر داخلہ نے اپنے بیان میں کہا کہ دہشت گرد ملک اور قوم کے دشمن ہیں اور پاکستان کے بہتر مستقبل کے لیے ان کا مکمل خاتمہ ناگزیر ہے۔

انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ ملک کے کسی بھی حصے میں دہشت گردوں کو چھپنے یا دوبارہ منظم ہونے کی اجازت نہیں دی جائے گی اور قانون نافذ کرنے والے ادارے پوری قوت سے کارروائیاں جاری رکھیں گے۔


بلوچستان میں امن کی بحالی کے لیے مسلسل اقدامات

بلوچستان میں حالیہ مہینوں کے دوران سیکیورٹی فورسز نے انٹیلی جنس پر مبنی متعدد کامیاب کارروائیاں کی ہیں، جن کے نتیجے میں دہشت گردی کے کئی منصوبے ناکام بنائے گئے۔

حکام کا کہنا ہے کہ مقامی آبادی کے تعاون، جدید ٹیکنالوجی اور مؤثر انٹیلی جنس کے ذریعے دہشت گردوں کے خلاف کارروائیوں کو مزید مؤثر بنایا جا رہا ہے تاکہ صوبے میں دیرپا امن قائم کیا جا سکے۔


نتیجہ

بلوچستان میں جاری آپریشن شعبان دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی مسلسل کوششوں کا اہم حصہ ہے۔ حالیہ کارروائی میں مزید 9 دہشت گردوں کی ہلاکت کے بعد آپریشن میں مارے جانے والوں کی تعداد 52 جبکہ 5 جولائی سے مجموعی تعداد 88 تک پہنچ چکی ہے۔ سیکیورٹی فورسز نے واضح کیا ہے کہ دہشت گردی کے مکمل خاتمے تک کارروائیاں جاری رہیں گی، جبکہ وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے فورسز کی بہادری اور قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کیا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں