31

مون سون کے خطرات پر ہائی الرٹ، خیبرپختونخوا کے 11 اضلاع انتہائی حساس قرار

فلیش فلڈ، لینڈ سلائیڈنگ، دریائی طغیانی اور گلیشیئر جھیل پھٹنے کے خدشات، تمام متعلقہ اداروں کو ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے الرٹ کر دیا گیا۔


مون سون سیزن کے پیش نظر ہائی الرٹ جاری

ملک میں مون سون بارشوں کی شدت اور موسمیاتی تبدیلیوں کے بڑھتے ہوئے اثرات کے پیش نظر وفاقی حکومت اور خیبرپختونخوا حکومت نے ممکنہ قدرتی آفات سے نمٹنے کے لیے ہنگامی اقدامات تیز کر دیے ہیں۔ اعلیٰ حکام کے اجلاس میں مون سون سیزن کے دوران پیدا ہونے والے خطرات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا، جس کے بعد متعلقہ تمام اداروں کو ہائی الرٹ رہنے کی ہدایت جاری کر دی گئی۔

حکام کے مطابق عوام کی جان و مال کے تحفظ کے لیے تمام اضلاع میں پیشگی حفاظتی اقدامات مکمل کیے جا رہے ہیں تاکہ کسی بھی ممکنہ ہنگامی صورتحال سے فوری طور پر نمٹا جا سکے۔


موسمیاتی تبدیلیوں سے خطرات میں اضافہ

سرکاری حکام کا کہنا ہے کہ موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث خیبرپختونخوا، گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر میں قدرتی آفات کے امکانات پہلے کے مقابلے میں زیادہ بڑھ گئے ہیں۔

غیر متوقع اور شدید بارشیں، فلیش فلڈ، دریاؤں میں طغیانی، لینڈ سلائیڈنگ، شدید گرمی اور گلیشیئر جھیل پھٹنے (GLOF) جیسے خطرات مون سون کے دوران کسی بھی وقت سامنے آ سکتے ہیں، جس کے باعث متعلقہ اداروں کو مکمل طور پر متحرک کر دیا گیا ہے۔


خیبرپختونخوا کے 37 اضلاع میں ایمرجنسی پلان فعال

حکام کے مطابق خیبرپختونخوا کے تمام 37 اضلاع میں مون سون ایمرجنسی پلان نافذ کر دیا گیا ہے تاکہ کسی بھی ناخوشگوار صورتحال میں بروقت امدادی کارروائیاں کی جا سکیں۔

ضلعی انتظامیہ، ریسکیو اداروں، صحت کے محکموں اور دیگر متعلقہ اداروں کو مسلسل رابطے میں رہنے اور کسی بھی ایمرجنسی کی صورت میں فوری ردعمل دینے کی ہدایات جاری کی گئی ہیں۔


11 اضلاع کو انتہائی حساس قرار

خطرات کے تازہ جائزے کے بعد خیبرپختونخوا کے 11 اضلاع کو انتہائی حساس قرار دیا گیا ہے۔

ان علاقوں میں فلیش فلڈ، لینڈ سلائیڈنگ، دریائی طغیانی اور گلیشیئر جھیل پھٹنے کے امکانات نسبتاً زیادہ ہیں، جس کے باعث خصوصی نگرانی اور اضافی حفاظتی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ پہاڑی علاقوں میں مسلسل بارشوں کے دوران عوام کو غیر ضروری سفر سے گریز کرنا چاہیے اور مقامی انتظامیہ کی ہدایات پر عمل کرنا چاہیے۔


خطرناک مقامات کی نشاندہی مکمل

سرکاری حکام کے مطابق صوبے بھر میں ممکنہ خطرناک مقامات کی نشاندہی کر لی گئی ہے۔

ضلعی ہنگامی منصوبوں کو اپ ڈیٹ کرکے انہیں صوبائی ایمرجنسی سسٹم سے منسلک کر دیا گیا ہے تاکہ کسی بھی حادثے کی صورت میں فوری معلومات کا تبادلہ اور امدادی کارروائیاں ممکن بنائی جا سکیں۔


ریسکیو ٹیمیں اور امدادی مراکز تیار

ممکنہ ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے انخلا کے راستوں، محفوظ مقامات اور امدادی مراکز کا تعین بھی مکمل کر لیا گیا ہے۔

حکام کے مطابق ریسکیو آلات، ایمبولینسیں، مواصلاتی نظام، بھاری مشینری اور دیگر ضروری وسائل ہر وقت استعمال کے لیے تیار رکھے گئے ہیں تاکہ کسی بھی آفت کی صورت میں فوری امدادی کارروائی کی جا سکے۔


عوامی آگاہی مہم میں تیزی

حکومت کی جانب سے عوامی آگاہی مہم کو بھی مزید تیز کر دیا گیا ہے تاکہ شہری مون سون کے دوران احتیاطی تدابیر اختیار کریں۔

رضاکاروں کی تربیت مکمل کر لی گئی ہے، جبکہ شہریوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ شدید بارشوں، سیلابی ریلوں، لینڈ سلائیڈنگ کے خدشے والے علاقوں اور دریاؤں کے کناروں سے دور رہیں اور کسی بھی ہنگامی صورتحال میں متعلقہ اداروں سے فوری رابطہ کریں۔


ایمرجنسی آپریشن سینٹرز کو ہدایات

حکام نے ایمرجنسی آپریشن سینٹرز، ضلعی انتظامیہ اور تمام متعلقہ اداروں کو چوبیس گھنٹے رابطے میں رہنے کی ہدایت جاری کر دی ہے۔

اس کے علاوہ موسم کی صورتحال پر مسلسل نظر رکھنے اور عوام کو بروقت اطلاعات فراہم کرنے کے لیے جدید مواصلاتی نظام بھی فعال کر دیا گیا ہے۔


نتیجہ

مون سون سیزن کے دوران ممکنہ قدرتی آفات کے خدشات کے پیش نظر وفاقی اور خیبرپختونخوا حکومت نے ہنگامی تیاریاں مکمل کر لی ہیں۔ صوبے کے تمام 37 اضلاع میں مون سون ایمرجنسی پلان نافذ کر دیا گیا ہے، جبکہ 11 اضلاع کو انتہائی حساس قرار دیتے ہوئے فلیش فلڈ، لینڈ سلائیڈنگ، دریائی طغیانی اور گلیشیئر جھیل پھٹنے کے خطرات سے نمٹنے کے لیے خصوصی انتظامات کیے گئے ہیں۔ حکام نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ احتیاطی تدابیر اختیار کریں اور کسی بھی ہنگامی صورتحال میں سرکاری ہدایات پر عمل کریں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں