عالمی اور مقامی مارکیٹ میں گراوٹ، فی تولہ سونا 5 ہزار 600 روپے جبکہ چاندی بھی سستی ہو گئی۔
پاکستان میں سونے کی قیمتوں میں نمایاں کمی
پاکستان میں مسلسل اضافے کے بعد سونے کی قیمتوں میں بڑی کمی ریکارڈ کی گئی ہے، جس سے زیورات خریدنے والے شہریوں اور سرمایہ کاروں کو کچھ ریلیف ملا ہے۔ عالمی اور مقامی مارکیٹ میں قیمتوں میں کمی کے اثرات پاکستان کی صرافہ مارکیٹ میں بھی واضح طور پر دیکھنے میں آئے۔
صرافہ ایسوسی ایشن کے مطابق آج فی تولہ سونے کی قیمت میں 5 ہزار 600 روپے کی کمی کے بعد نئی قیمت 4 لاکھ 24 ہزار 136 روپے مقرر کی گئی ہے۔
10 گرام سونا بھی سستا ہو گیا
فی تولہ سونے کے ساتھ ساتھ 10 گرام سونے کی قیمت میں بھی نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی۔
تازہ اعداد و شمار کے مطابق 10 گرام سونا 4 ہزار 801 روپے سستا ہونے کے بعد 3 لاکھ 63 ہزار 628 روپے کا ہو گیا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ عالمی مارکیٹ میں قیمتوں میں کمی کا براہِ راست اثر مقامی مارکیٹ پر بھی پڑا ہے۔
عالمی مارکیٹ میں بھی گراوٹ
بین الاقوامی مارکیٹ میں بھی سونے کی قیمتوں میں نمایاں کمی دیکھی گئی۔
عالمی مارکیٹ میں فی اونس سونا 56 ڈالر سستا ہونے کے بعد 4017 ڈالر فی اونس کی سطح پر آ گیا۔
تجزیہ کاروں کے مطابق عالمی معاشی حالات، سرمایہ کاروں کے رجحانات، امریکی ڈالر کی قدر اور بین الاقوامی مالیاتی پالیسیوں میں تبدیلی سونے کی قیمتوں پر براہِ راست اثر انداز ہوتی ہیں۔
چاندی کی قیمتوں میں بھی کمی
سونے کے ساتھ ساتھ چاندی کی قیمت میں بھی کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔
صرافہ ایسوسی ایشن کے مطابق:
- فی تولہ چاندی 50 روپے کمی کے بعد 6 ہزار 289 روپے ہو گئی۔
- 10 گرام چاندی 43 روپے سستی ہو کر 5 ہزار 391 روپے کی سطح پر آ گئی۔
- عالمی مارکیٹ میں فی اونس چاندی 58.10 ڈالر پر ٹریڈ ہوتی رہی۔
یہ کمی قیمتی دھاتوں کی مجموعی عالمی مارکیٹ میں آنے والی گراوٹ کی عکاسی کرتی ہے۔
سونا محفوظ سرمایہ کاری کیوں سمجھا جاتا ہے؟
معاشی ماہرین کے مطابق سونا دنیا بھر میں محفوظ سرمایہ کاری (Safe Haven Asset) تصور کیا جاتا ہے۔
جب عالمی معیشت میں غیر یقینی صورتحال، افراطِ زر، سیاسی کشیدگی یا مالیاتی بحران پیدا ہوتا ہے تو سرمایہ کار اپنے سرمائے کو محفوظ رکھنے کے لیے سونے کا رخ کرتے ہیں۔
اسی وجہ سے عالمی حالات میں معمولی تبدیلی بھی سونے کی قیمتوں پر نمایاں اثر ڈال سکتی ہے۔
پاکستان میں سونے کی قیمت کیسے مقرر ہوتی ہے؟
پاکستان میں سونے کی قیمت کا تعین عالمی مارکیٹ کے نرخ، امریکی ڈالر کی قیمت اور مقامی مارکیٹ کی صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا جاتا ہے۔
گزشتہ برس سونے کی قیمت مقرر کرنے کے طریقہ کار میں تبدیلی کی گئی تھی، جس کے تحت پاکستان میں سونے کی قیمت بین الاقوامی مارکیٹ ریٹ سے 20 ڈالر فی اونس زیادہ مقرر کی جاتی ہے۔
اسی نظام کے تحت روزانہ عالمی قیمتوں میں تبدیلی کے مطابق مقامی نرخ بھی اپ ڈیٹ کیے جاتے ہیں۔
خریداروں اور سرمایہ کاروں کے لیے کیا معنی رکھتی ہے؟
ماہرین کا کہنا ہے کہ قیمتوں میں حالیہ کمی سے زیورات خریدنے کے خواہشمند افراد کو فائدہ پہنچ سکتا ہے، جبکہ سرمایہ کار بھی موجودہ صورتحال کا جائزہ لے رہے ہیں۔
تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ عالمی معاشی اور سیاسی حالات میں تبدیلی کے باعث سونے کی قیمتوں میں دوبارہ اتار چڑھاؤ آ سکتا ہے، اس لیے سرمایہ کاری سے قبل مارکیٹ کا تجزیہ ضروری ہے۔
نتیجہ
پاکستان میں سونے کی قیمت میں مسلسل اضافے کے بعد نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔ فی تولہ سونا 5 ہزار 600 روپے سستا ہو کر 4 لاکھ 24 ہزار 136 روپے پر آ گیا، جبکہ 10 گرام سونے اور چاندی کی قیمتوں میں بھی کمی دیکھنے میں آئی۔ عالمی مارکیٹ میں بھی سونے اور چاندی کی قیمتیں نیچے آئیں، جس کے اثرات مقامی مارکیٹ پر بھی مرتب ہوئے۔ ماہرین کے مطابق آئندہ دنوں میں عالمی معاشی اور سیاسی حالات کے مطابق قیمتی دھاتوں کی قیمتوں میں مزید ردوبدل ہو سکتا ہے۔