عالمی کشیدگی کے پیشِ نظر 21 اور 22 جولائی کی سپلائی کے لیے عالمی کمپنیوں سے بولیاں طلب، توانائی ضروریات پوری کرنے کے اقدامات تیز۔
ایل این جی کی خریداری کے لیے ہنگامی اقدام
خطے میں بڑھتی ہوئی جغرافیائی کشیدگی اور آبنائے ہرمز کی ممکنہ بندش کے خدشات کے باعث پاکستان ایل این جی لمیٹڈ (PLL) نے اسپاٹ مارکیٹ سے ایل این جی خریدنے کے لیے ایک اور ہنگامی ٹینڈر جاری کر دیا ہے۔
حکام کے مطابق اس اقدام کا مقصد ملک میں گیس کی بلا تعطل فراہمی کو یقینی بنانا اور توانائی کی ضروریات کو بروقت پورا کرنا ہے۔ عالمی حالات کے باعث توانائی کی منڈی میں غیر یقینی صورتحال برقرار ہے، جس کے پیش نظر حکومت متبادل انتظامات پر خصوصی توجہ دے رہی ہے۔
عالمی کمپنیوں سے بولیاں طلب
پی ایل ایل کی جانب سے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق دنیا بھر کی ایل این جی سپلائی کرنے والی کمپنیوں کو ٹینڈر میں شرکت کی دعوت دی گئی ہے۔
تمام دلچسپی رکھنے والی کمپنیوں سے 15 جولائی تک باقاعدہ بولیاں طلب کی گئی ہیں، جبکہ یہ کارگو 21 اور 22 جولائی کو پاکستان پہنچانے کے لیے درکار ہوگا۔
حکام کا کہنا ہے کہ اس عمل کو تیز اور شفاف بنانے کے لیے موصول ہونے والی تمام بولیاں اسی روز فوری طور پر کھول دی جائیں گی تاکہ جلد فیصلہ کیا جا سکے۔
آبنائے ہرمز کی صورتحال کیوں اہم ہے؟
توانائی کے ماہرین کے مطابق آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین سمندری گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے، جہاں سے عالمی سطح پر بڑی مقدار میں خام تیل اور ایل این جی کی ترسیل ہوتی ہے۔
اگر اس راستے پر کسی بھی قسم کی رکاوٹ پیدا ہوتی ہے تو عالمی توانائی کی سپلائی متاثر ہو سکتی ہے، جس کے نتیجے میں قیمتوں میں اضافہ اور سپلائی میں تاخیر جیسے مسائل پیدا ہونے کا خدشہ ہوتا ہے۔
اسی پس منظر میں پاکستان سمیت کئی ممالک اپنی توانائی کی ضروریات کے لیے پیشگی اقدامات کر رہے ہیں۔
پاکستان کی توانائی ضروریات اور حکومتی حکمت عملی
پاکستان اپنی گیس کی ضروریات پوری کرنے کے لیے درآمدی ایل این جی پر انحصار کرتا ہے، خصوصاً گرمی اور سردی کے موسم میں طلب میں اضافے کے باعث اس کی اہمیت مزید بڑھ جاتی ہے۔
حکومت کی کوشش ہے کہ عالمی مارکیٹ میں ممکنہ اتار چڑھاؤ کے باوجود ملکی صنعت، بجلی گھروں اور گھریلو صارفین کو گیس کی فراہمی متاثر نہ ہو۔
اسی مقصد کے تحت پی ایل ایل وقتاً فوقتاً اسپاٹ مارکیٹ سے ایل این جی کارگو خریدنے کے لیے ٹینڈر جاری کرتی رہتی ہے۔
اس سے پہلے بھی دو ٹینڈر جاری کیے جا چکے ہیں
حکام کے مطابق حکومتِ پاکستان جولائی کی ضروریات پوری کرنے کے لیے اس سے قبل بھی دو ایل این جی ٹینڈر کامیابی سے مکمل کر چکی ہے۔
یہ اقدامات اس بات کی عکاسی کرتے ہیں کہ عالمی توانائی مارکیٹ میں غیر یقینی صورتحال کے باوجود حکومت پیشگی منصوبہ بندی کے ذریعے گیس کی دستیابی یقینی بنانے کی کوشش کر رہی ہے۔
حالیہ ایل این جی خریداری کی قیمتیں
پی ایل ایل کے مطابق 10 سے 11 جولائی کی سپلائی کے لیے ایل این جی کارگو 17.37 ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو (MMBTU) کی قیمت پر خریدا گیا تھا۔
اس سے قبل 30 جون سے 4 جولائی تک کی سپلائی کے لیے ایل این جی کارگو 16.73 ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو کے نرخ پر حاصل کیا گیا تھا۔
ماہرین کے مطابق عالمی مارکیٹ میں قیمتوں کا انحصار جغرافیائی حالات، سپلائی، طلب اور بین الاقوامی کشیدگی پر ہوتا ہے۔
ماہرین کی رائے
توانائی کے شعبے سے وابستہ ماہرین کا کہنا ہے کہ موجودہ حالات میں بروقت ایل این جی خریداری ملک کی توانائی سیکیورٹی کے لیے ضروری ہے۔
ان کے مطابق اگر عالمی کشیدگی میں مزید اضافہ ہوتا ہے تو نہ صرف قیمتیں مزید بڑھ سکتی ہیں بلکہ سپلائی چین بھی متاثر ہونے کا خدشہ موجود ہے، اس لیے پیشگی خریداری ایک مؤثر حکمت عملی ثابت ہو سکتی ہے۔
نتیجہ
خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور آبنائے ہرمز کی صورتحال کے پیش نظر پاکستان ایل این جی لمیٹڈ نے ایک اور ہنگامی ٹینڈر جاری کرتے ہوئے عالمی کمپنیوں سے 15 جولائی تک بولیاں طلب کر لی ہیں۔ حکومت کی کوشش ہے کہ عالمی حالات کے باوجود ملک میں ایل این جی کی بلا تعطل فراہمی یقینی بنائی جائے اور توانائی کی ضروریات بروقت پوری کی جا سکیں۔ ماہرین کے مطابق عالمی منڈی میں غیر یقینی صورتحال برقرار رہنے کی صورت میں توانائی کی قیمتوں اور سپلائی پر مزید اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔