تعارف
بھارت کی جانب سے سلال ڈیم کے تمام آہنی گیٹ کھولنے کے بعد دریائے چناب میں پانی کے بہاؤ میں غیر معمولی اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جس کے باعث پاکستان کے مختلف علاقوں میں سیلابی صورتحال پیدا ہونے کا خدشہ بڑھ گیا ہے۔ محکمہ آبپاشی پنجاب کے مطابق متعدد ہیڈ ورکس پر اونچے اور درمیانے درجے کا سیلاب ریکارڈ کیا جا رہا ہے جبکہ متعلقہ اداروں نے ہنگامی اقدامات تیز کر دیے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر پانی کا بہاؤ اسی رفتار سے جاری رہا تو نشیبی علاقوں میں مزید خطرات پیدا ہو سکتے ہیں۔
بھارت کی جانب سے سلال ڈیم کے تمام گیٹ کھول دیے گئے
بھارت نے سلال ڈیم کے تمام آہنی گیٹ کھول دیے ہیں، جس کے نتیجے میں دریائے چناب میں پانی کی مقدار اچانک بڑھ گئی ہے۔ اس اقدام کے بعد پاکستان کے دریائی نظام پر دباؤ بڑھنے لگا ہے اور متعلقہ ادارے صورتحال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہیں۔
حکام کے مطابق پانی کے تیز بہاؤ کے باعث دریائے چناب سے ملحقہ علاقوں میں حفاظتی انتظامات مزید سخت کر دیے گئے ہیں تاکہ کسی بھی ممکنہ ہنگامی صورتحال سے بروقت نمٹا جا سکے۔
ہیڈ خانکی، قادر آباد اور لہڑی پر اونچے درجے کا سیلاب
محکمہ آبپاشی پنجاب کے مطابق سلال ڈیم کے دروازے کھلنے کے بعد ہیڈ خانکی، قادر آباد اور لہڑی ہیڈ گوگی پر اونچے درجے کا سیلاب ریکارڈ کیا گیا ہے۔
پانی کے بہاؤ میں مسلسل اضافے کے باعث ان علاقوں میں حفاظتی بندوں، آبادیوں اور زرعی اراضی کی نگرانی بڑھا دی گئی ہے تاکہ کسی بھی نقصان سے بچا جا سکے۔
مرالہ، بلوکی اور نالہ بسنتر میں درمیانے درجے کی سیلابی صورتحال
دریائے چناب کے علاوہ دیگر مقامات پر بھی پانی کی سطح میں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔
لاہور کے قریب ہیڈ مرالہ اور بلوکی پر درمیانے درجے کا سیلاب ریکارڈ کیا گیا ہے جبکہ نارووال کے نالہ بسنتر میں بھی درمیانے درجے کی سیلابی صورتحال برقرار ہے۔
مقامی انتظامیہ نے نشیبی علاقوں کے رہائشیوں کو محتاط رہنے اور سرکاری ہدایات پر عمل کرنے کی ہدایت جاری کی ہے۔
تربیلا، منگلا اور دیگر مقامات پر نچلے درجے کا سیلاب
محکمہ آبپاشی کے مطابق تربیلا، چشمہ، منگلا، نوشہرہ، چینوٹ برج اور نالہ ڈیک میں نچلے درجے کا سیلاب رپورٹ کیا گیا ہے۔
اگرچہ ان مقامات پر صورتحال فی الحال قابو میں ہے، تاہم مسلسل بارشوں اور دریاؤں میں پانی کے اضافے کے باعث متعلقہ ادارے ہر لمحہ صورتحال کا جائزہ لے رہے ہیں۔
ڈیموں میں پانی کی سطح مسلسل بلند ہونے لگی
اعداد و شمار کے مطابق تربیلا ڈیم میں پانی کی سطح 1519.11 فٹ جبکہ منگلا ڈیم میں پانی کی سطح 1183.90 فٹ ریکارڈ کی گئی ہے۔
ماہرین کے مطابق اگر بارشوں کا سلسلہ جاری رہا اور بھارت کی جانب سے مزید پانی چھوڑا گیا تو ڈیموں اور دریاؤں میں پانی کی سطح مزید بلند ہو سکتی ہے، جس سے سیلابی خطرات بڑھنے کا امکان ہے۔
ہیڈ ورکس پر پانی کے بہاؤ میں مسلسل اضافہ
ہیڈ مرالہ، خانکی، قادر آباد، منگلا، لہڑی اور بلوکی سمیت مختلف مقامات پر پانی کے بہاؤ میں مسلسل اضافہ ریکارڈ کیا جا رہا ہے۔
محکمہ آبپاشی اور ضلعی انتظامیہ نے تمام متعلقہ افسران کو الرٹ رہنے کی ہدایت جاری کر دی ہے جبکہ ریسکیو اداروں کو بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے تیار رہنے کا کہا گیا ہے۔
انتظامیہ نے ہنگامی تیاریاں مکمل کر لیں
ممکنہ سیلاب کے پیش نظر ضلعی انتظامیہ، ریسکیو اداروں اور دیگر متعلقہ محکموں نے حفاظتی اقدامات تیز کر دیے ہیں۔
نشیبی علاقوں کی نگرانی، حفاظتی بندوں کا معائنہ، امدادی سامان کی فراہمی اور متاثرہ علاقوں میں فوری امدادی کارروائیوں کے لیے ٹیمیں تیار رکھی گئی ہیں تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال میں بروقت کارروائی کی جا سکے۔
پاکستان کے لیے ممکنہ اثرات
اگر دریائے چناب میں پانی کے بہاؤ میں مزید اضافہ ہوا تو پنجاب کے متعدد اضلاع متاثر ہو سکتے ہیں۔
زرعی زمینیں زیر آب آنے، دیہات کے رابطہ سڑکوں کے متاثر ہونے، نقل و حمل میں مشکلات اور شہری آبادیوں کو خطرات لاحق ہونے کا خدشہ موجود ہے۔ اسی لیے متعلقہ ادارے مسلسل صورتحال کی نگرانی کر رہے ہیں اور عوام سے احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی اپیل کر رہے ہیں۔
نتیجہ
بھارت کی جانب سے سلال ڈیم کے تمام گیٹ کھولنے کے بعد دریائے چناب میں پانی کے بہاؤ میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، جس کے باعث پاکستان کے مختلف علاقوں میں سیلابی خطرات بڑھ گئے ہیں۔ متعدد ہیڈ ورکس پر اونچے اور درمیانے درجے کا سیلاب ریکارڈ کیا جا چکا ہے جبکہ ڈیموں میں پانی کی سطح بھی مسلسل بلند ہو رہی ہے۔ اگر آنے والے دنوں میں بارشوں اور پانی کے اخراج کا سلسلہ جاری رہا تو صورتحال مزید سنگین ہو سکتی ہے، اسی لیے متعلقہ ادارے ہائی الرٹ پر ہیں۔