عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں ایک بار پھر اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ حالیہ دنوں میں نمایاں کمی کے بعد بین الاقوامی مارکیٹ میں تیل کی قیمتیں دوبارہ اوپر جانے لگی ہیں، جس کے باعث توانائی کی عالمی مارکیٹ میں نئی بحث شروع ہو گئی ہے۔ ماہرین کے مطابق قیمتوں میں یہ اتار چڑھاؤ عالمی طلب و رسد، معاشی اعشاریوں اور جغرافیائی سیاسی صورتحال سے گہرا تعلق رکھتا ہے۔
برینٹ خام تیل کی قیمت میں نمایاں اضافہ
تازہ اعداد و شمار کے مطابق برینٹ خام تیل کی قیمت میں 1.62 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جس کے بعد اس کی قیمت بڑھ کر 85.13 ڈالر فی بیرل ہو گئی۔ یہ اضافہ گزشتہ روز ہونے والی بڑی کمی کے بعد سامنے آیا ہے اور عالمی توانائی مارکیٹ میں دوبارہ تیزی کا اشارہ دے رہا ہے۔
امریکی خام تیل بھی مہنگا
برینٹ کے ساتھ ساتھ امریکی خام تیل (ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ) کی قیمت میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ امریکی خام تیل کی قیمت 1.24 فیصد بڑھنے کے بعد 81.33 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ عالمی منڈی میں تیل کی مجموعی قیمتیں دوبارہ اوپر کی جانب بڑھ رہی ہیں۔
قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کی وجوہات
معاشی ماہرین کے مطابق خام تیل کی قیمتوں میں حالیہ تبدیلی کی بنیادی وجہ عالمی طلب و رسد میں ردوبدل، سرمایہ کاروں کے رجحانات اور عالمی معاشی اعشاریے ہیں۔ مختلف ممالک میں توانائی کی بڑھتی ہوئی طلب اور سپلائی سے متعلق خدشات بھی قیمتوں پر براہِ راست اثر انداز ہو رہے ہیں۔
گزشتہ روز بڑی کمی کیوں آئی تھی؟
یاد رہے کہ گزشتہ روز عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی دیکھی گئی تھی۔ اس کی بڑی وجہ امریکی صدر کی جانب سے ایران پر حملوں کو روکنے کے اعلان کو قرار دیا گیا، جس کے بعد عالمی مارکیٹ میں کشیدگی میں کمی کی توقع پیدا ہوئی اور تیل کی قیمتیں تیزی سے نیچے آ گئی تھیں۔
برینٹ خام تیل میں چار ڈالر سے زائد کمی
گزشتہ کاروباری روز لندن برینٹ خام تیل کی قیمت 4 ڈالر 74 سینٹ کم ہو کر 83.16 ڈالر فی بیرل تک آ گئی تھی۔ یہ حالیہ عرصے کی نمایاں کمیوں میں شمار کی گئی، جس پر عالمی سرمایہ کاروں کی نظریں مرکوز رہی تھیں۔
ویسٹ ٹیکساس خام تیل بھی سستا ہوا تھا
اسی طرح ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) خام تیل کی قیمت میں بھی 5 ڈالر 21 سینٹ کی نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی تھی، جس کے بعد اس کی قیمت 79.45 ڈالر فی بیرل تک گر گئی تھی۔ تاہم تازہ کاروباری سیشن میں اس کی قیمت دوبارہ بڑھ کر 81.33 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی ہے۔
عالمی معیشت پر ممکنہ اثرات
خام تیل کی قیمتوں میں اضافے کا اثر دنیا بھر کی معیشتوں پر پڑ سکتا ہے۔ تیل مہنگا ہونے سے ٹرانسپورٹ، صنعت، بجلی کی پیداوار اور درآمدی اخراجات میں اضافہ ہونے کا امکان ہوتا ہے، جبکہ کئی ممالک میں مہنگائی پر بھی اس کے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
پاکستان سمیت درآمدی ممالک کی تشویش
پاکستان جیسے تیل درآمد کرنے والے ممالک کے لیے عالمی منڈی میں قیمتوں کا اتار چڑھاؤ انتہائی اہمیت رکھتا ہے۔ اگر خام تیل کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ جاری رہا تو درآمدی بل بڑھنے کے ساتھ ساتھ مقامی سطح پر پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں پر بھی دباؤ آ سکتا ہے۔
آئندہ دنوں میں مارکیٹ کا رجحان
ماہرین کا کہنا ہے کہ آئندہ چند روز میں عالمی معاشی اعداد و شمار، اوپیک پلس کے فیصلے، جغرافیائی سیاسی صورتحال اور توانائی کی طلب کے رجحانات خام تیل کی قیمتوں کا تعین کریں گے۔ سرمایہ کار بھی ان عوامل پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں، کیونکہ معمولی تبدیلی بھی عالمی مارکیٹ میں قیمتوں کو متاثر کر سکتی ہے۔