35

ٹرمپ کا تیسری بار صدارتی الیکشن لڑنے کا عندیہ، قانون اجازت نہیں دیتا

تیسری بار انتخاب لڑنے کی خواہش کا اظہار

واشنگٹن (12 اگست 2026): امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر تیسری مرتبہ صدارتی الیکشن لڑنے کی خواہش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہر کوئی چاہتا ہے کہ وہ تیسری بار بھی صدر کا انتخاب لڑیں، تاہم امریکی قانون اس کی اجازت نہیں دیتا۔

ایئرپورٹ پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ وہ ذاتی طور پر دوبارہ صدارتی الیکشن لڑنا چاہیں گے، لیکن قانون اس حوالے سے واضح ہے اور انہیں تیسری مرتبہ انتخاب لڑنے کی اجازت نہیں دیتا۔ ان کا کہنا تھا کہ لوگ مسلسل ان سے یہی سوال پوچھ رہے ہیں، تاہم اس معاملے میں قانونی صورتحال بالکل واضح اور سخت ہے۔

ٹرمپ کا تیسری مدت سے متعلق اہم بیان

امریکی صدر کے بیان نے ایک بار پھر ان کے مستقبل کے سیاسی ارادوں سے متعلق بحث کو جنم دے دیا ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ اس سے قبل بھی مختلف مواقع پر تیسری صدارتی مدت کے امکان پر بات کر چکے ہیں، تاہم اس بار انہوں نے واضح طور پر کہا کہ وہ خود دوبارہ الیکشن لڑنے کے خواہش مند ہیں، مگر قانون ان کے راستے میں رکاوٹ ہے۔

ٹرمپ نے کہا کہ اگر لوگوں کی خواہش دیکھی جائے تو بہت سے افراد چاہتے ہیں کہ وہ ایک مرتبہ پھر صدارتی امیدوار بنیں، لیکن آئینی اور قانونی پابندیوں کے باعث ایسا ممکن نہیں۔ ان کے مطابق وہ اس حوالے سے قانون کی صورتحال سے بخوبی آگاہ ہیں۔

نیٹو سمٹ کے دوران سیکیورٹی خطرات کا سامنا

ڈونلڈ ٹرمپ نے نیٹو سمٹ کے دوران پیش آنے والے حالات پر بھی گفتگو کی اور کہا کہ انہیں اپنی ذمہ داریوں کے دوران کئی طرح کے خطرات کا سامنا رہتا ہے۔

امریکی صدر کے مطابق نیٹو سمٹ میں شرکت کے دوران سیکرٹ سروس کی ہدایت پر انہوں نے اپنا طیارہ تبدیل کیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ صدارتی سطح پر سیکیورٹی کو انتہائی اہمیت حاصل ہے اور کسی بھی ممکنہ خطرے کے پیش نظر فوری اقدامات کیے جاتے ہیں۔

ٹرمپ نے اس موقع پر سیکیورٹی اہلکاروں کے کردار کا بھی ذکر کیا اور بتایا کہ سیکرٹ سروس کی جانب سے خطرات کا جائزہ لے کر انہیں حفاظتی اقدامات کرنے کی ہدایت کی گئی تھی۔

آبنائے ہرمز پر امریکی کنٹرول کا دعویٰ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کی صورتحال پر بھی بڑا دعویٰ کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ آبنائے ہرمز پر امریکی فوج کو مکمل کنٹرول حاصل ہے۔

ٹرمپ نے ایران پر اعتماد نہ کرنے کا اظہار کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ ایران مسلسل جھوٹ بول رہا ہے۔ ان کے مطابق ایران گزشتہ 50 برس سے مشرق وسطیٰ میں مسائل پیدا کرتا رہا ہے اور خطے میں اس کے کردار پر امریکا کو شدید تحفظات ہیں۔

امریکی صدر کے اس بیان کے بعد خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور آبنائے ہرمز کی اہمیت ایک بار پھر عالمی توجہ کا مرکز بن گئی ہے، کیونکہ یہ سمندری راستہ عالمی تجارت اور توانائی کی ترسیل کے لیے انتہائی اہم سمجھا جاتا ہے۔

امریکی فوج کا ایرانی بندرگاہ جانے والے جہاز کے خلاف کارروائی کا اعتراف

دوسری جانب امریکی فوج نے آبنائے ہرمز میں پاناما کے پرچم بردار ایک تجارتی جہاز کو ناکارہ بنانے کا اعتراف کیا ہے۔

امریکی سینٹرل کمانڈ کے مطابق کارگو جہاز ایم وی ویلانووا کے اسٹیئرنگ سسٹم کو ناکارہ بنایا گیا۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ مذکورہ جہاز ایرانی بندرگاہ کی جانب جانے کی کوشش کر رہا تھا۔

سینٹ کام کے مطابق ایران پر عائد بحری ناکہ بندی پر عمل درآمد جاری ہے اور امریکی فوج خطے میں سمندری سرگرمیوں کی مسلسل نگرانی کر رہی ہے۔

مشرق وسطیٰ میں 20 سے زائد امریکی جنگی بحری جہاز تعینات

امریکی فوج کے مطابق مشرق وسطیٰ میں 20 سے زائد امریکی جنگی بحری جہاز تعینات کیے گئے ہیں۔ یہ تعیناتی خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور بحری راستوں کی نگرانی کے تناظر میں اہم قرار دی جا رہی ہے۔

سینٹ کام نے بتایا کہ بحری ناکہ بندی دوبارہ نافذ کیے جانے کے بعد سے 55 تجارتی جہازوں کا رخ موڑا جا چکا ہے۔ امریکی فوج کا کہنا ہے کہ ایسے جہازوں کے خلاف کارروائی کی جا رہی ہے جو جاری وارننگز کو نظر انداز کرتے ہیں۔

دو جہازوں کو ناکارہ بنانے کا دعویٰ

امریکی سینٹرل کمانڈ کے مطابق وارننگ نظر انداز کرنے پر اب تک دو جہازوں کو ناکارہ بنایا جا چکا ہے۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ بحری ناکہ بندی کا مقصد ایران کی جانب جانے والی سمندری سرگرمیوں کو محدود کرنا اور آبنائے ہرمز میں امریکی کارروائیوں کو یقینی بنانا ہے۔

موجودہ صورتحال میں امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی کے باعث آبنائے ہرمز کی صورتحال پر عالمی برادری کی نظریں مرکوز ہیں۔ اس سمندری گزرگاہ سے بڑی مقدار میں عالمی توانائی کی تجارت وابستہ ہے، اس لیے یہاں پیدا ہونے والی کسی بھی کشیدگی کے اثرات عالمی منڈیوں تک پہنچ سکتے ہیں۔

عالمی سطح پر تشویش میں اضافہ

ڈونلڈ ٹرمپ کے تازہ بیانات، آبنائے ہرمز میں امریکی فوجی موجودگی اور تجارتی جہازوں کے خلاف کارروائیوں نے خطے کی صورتحال کو مزید اہم بنا دیا ہے۔ ایک جانب امریکی صدر ایران پر عدم اعتماد کا اظہار کر رہے ہیں تو دوسری جانب امریکی فوج آبنائے ہرمز میں بحری کارروائیوں اور نگرانی کا دائرہ وسیع کیے ہوئے ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق آبنائے ہرمز میں کشیدگی بڑھنے سے نہ صرف امریکا اور ایران کے درمیان تعلقات متاثر ہو سکتے ہیں بلکہ عالمی تجارت، توانائی کی ترسیل اور خطے کی مجموعی سیکیورٹی صورتحال پر بھی اس کے اثرات مرتب ہونے کا خدشہ ہے۔

نتیجہ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے تیسری بار صدارتی الیکشن لڑنے کی خواہش کا اظہار ایک مرتبہ پھر امریکی سیاست میں بحث کا موضوع بن گیا ہے۔ تاہم خود ٹرمپ نے تسلیم کیا ہے کہ موجودہ قانون انہیں تیسری مرتبہ صدارتی انتخاب لڑنے کی اجازت نہیں دیتا۔

دوسری جانب آبنائے ہرمز میں امریکی فوجی سرگرمیوں، تجارتی جہازوں کا رخ موڑنے اور دو جہازوں کو ناکارہ بنانے کے دعووں نے مشرق وسطیٰ کی صورتحال کو مزید حساس بنا دیا ہے۔ ایران کے حوالے سے ٹرمپ کے سخت مؤقف اور امریکی بحری موجودگی میں اضافے کے باعث آنے والے دنوں میں خطے کی صورتحال پر عالمی سطح پر مزید توجہ متوقع ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں