تعارف
ایران نے مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں خطے کے ممالک کو امریکا کے ساتھ عسکری تعاون پر نظرثانی کرنے کا مشورہ دیتے ہوئے سخت انتباہ جاری کیا ہے۔ ایرانی فوج کے مرکزی کمان مرکز خاتم الانبیاء ہیڈ کوارٹرز کے کمانڈر میجر جنرل علی عبداللہی نے کہا ہے کہ امریکا ایران کے خلاف اپنی حکمت عملی میں خطے کے ممالک کے وسائل اور تنصیبات کو استعمال کرنا چاہتا ہے، اور جو ممالک اس کا حصہ بنیں گے وہ ممکنہ جنگ کے اثرات سے محفوظ نہیں رہ سکیں گے۔
ایران کا خطے کے ممالک سے اہم مطالبہ
ایرانی میڈیا کے مطابق میجر جنرل علی عبداللہی نے خطے کے ممالک پر زور دیا کہ وہ امریکا کے ساتھ اپنے دفاعی اور عسکری تعاون پر ازسرِنو غور کریں۔
ان کا کہنا تھا کہ موجودہ حالات میں ایسے فیصلے پورے خطے کے امن اور استحکام پر گہرے اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔
امریکا پر سنگین الزام
میجر جنرل علی عبداللہی نے الزام عائد کیا کہ امریکا ایران کے خلاف ممکنہ کارروائیوں کے لیے خطے کے ممالک کے وسائل، اڈوں اور تنصیبات کو اپنی دفاعی حکمت عملی کا حصہ بنانا چاہتا ہے۔
ان کے مطابق واشنگٹن اپنی فوجی موجودگی کو مزید مضبوط بنانے کے لیے علاقائی شراکت داروں کو استعمال کر رہا ہے، جس سے کشیدگی میں اضافہ ہو سکتا ہے۔
دفاعی ڈھال بننے والے ممالک کے لیے انتباہ
ایرانی کمانڈر نے خبردار کیا کہ جو بھی ملک امریکا کی دفاعی ڈھال بننے کی کوشش کرے گا، وہ خود بھی ممکنہ جنگ کی لپیٹ میں آ سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ کسی بھی فوجی تعاون کے نتائج صرف ایران تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پورا خطہ اس کے اثرات محسوس کر سکتا ہے۔
وسیع علاقائی جنگ کا خدشہ
میجر جنرل علی عبداللہی کے مطابق امریکی اقدامات مشرقِ وسطیٰ کو ایک وسیع اور خطرناک جنگ کی طرف دھکیل رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اگر موجودہ پالیسیوں میں تبدیلی نہ آئی تو خطے میں کشیدگی مزید بڑھ سکتی ہے، جس کے اثرات عالمی امن، تجارت اور توانائی کی فراہمی پر بھی مرتب ہوں گے۔
واشنگٹن کی پالیسی پر تنقید
خاتم الانبیاء ہیڈ کوارٹرز کی جانب سے جاری بیان میں امریکا پر الزام لگایا گیا کہ وہ مشرقِ وسطیٰ میں اپنا اثر و رسوخ بڑھانے کے لیے غیر قانونی حکمت عملی اختیار کر رہا ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ خطے میں بڑھتی ہوئی فوجی سرگرمیاں امن کے بجائے مزید عدم استحکام پیدا کر سکتی ہیں۔
مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی کشیدگی
حالیہ ہفتوں میں ایران، امریکا اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی میں مسلسل اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔
دفاعی بیانات، سفارتی کشیدگی اور ممکنہ فوجی کارروائیوں کی اطلاعات نے عالمی برادری کی تشویش میں اضافہ کر دیا ہے، جبکہ مختلف ممالک خطے میں امن برقرار رکھنے کے لیے سفارتی کوششیں جاری رکھنے پر زور دے رہے ہیں۔
عالمی برادری کے لیے چیلنج
سیاسی اور دفاعی ماہرین کے مطابق مشرقِ وسطیٰ کی موجودہ صورتحال انتہائی حساس مرحلے میں داخل ہو چکی ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ اگر کشیدگی میں کمی نہ آئی تو اس کے اثرات صرف علاقائی ممالک تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ عالمی معیشت، تیل کی قیمتوں اور بین الاقوامی سلامتی پر بھی پڑ سکتے ہیں۔
سفارت کاری کی ضرورت
ماہرین کا ماننا ہے کہ موجودہ حالات میں تمام فریقوں کے لیے مذاکرات، سفارت کاری اور تحمل کا راستہ اختیار کرنا انتہائی ضروری ہے۔
کسی بھی ممکنہ فوجی تصادم سے بچنے کے لیے علاقائی اور عالمی طاقتوں کو مشترکہ کوششیں کرنا ہوں گی تاکہ امن اور استحکام برقرار رکھا جا سکے۔
نتیجہ
ایران کی جانب سے خطے کے ممالک کو امریکا کے ساتھ عسکری تعاون پر نظرثانی کی اپیل اور دفاعی ڈھال بننے والے ممالک کے لیے انتباہ مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کی عکاسی کرتا ہے۔ ایرانی فوجی قیادت کا مؤقف ہے کہ امریکی پالیسی خطے کو وسیع جنگ کی طرف لے جا سکتی ہے، جبکہ عالمی برادری سفارتی حل اور کشیدگی میں کمی کی ضرورت پر مسلسل زور دے رہی ہے۔