تہران (10 اگست 2026): ایران میں پیٹرول کی قیمتوں میں اضافے کے مجوزہ منصوبے کو پارلیمانی دباؤ کے بعد مؤخر کر دیا گیا ہے۔ ایرانی پارلیمنٹ کے ارکان نے حکومت کی جانب سے پیٹرول مہنگا کرنے کی مخالفت کرتے ہوئے ایندھن کے موجودہ نظام میں اصلاحات اور پیٹرول کی طلب کم کرنے کے لیے متبادل اقدامات تجویز کیے ہیں۔
ایرانی پارلیمنٹ کے ترجمان عباس گودرزی کے مطابق اراکین پارلیمنٹ نے پیٹرول کی قیمتوں میں اضافے کے بجائے ایندھن کے کوٹے کو قومی شناختی نمبروں سے منسلک کرنے سمیت دیگر تجاویز حکومت کے سامنے رکھی ہیں۔ پارلیمانی ارکان کا مؤقف ہے کہ موجودہ حالات میں صرف قیمتیں بڑھانا مسئلے کا مستقل حل نہیں بلکہ اس کے بجائے پیٹرول کی کھپت اور طلب کو کم کرنے کے لیے مؤثر اقدامات کیے جانے چاہئیں۔
ایرانی حکومت نے پیٹرول مہنگا کرنے کا منصوبہ مؤخر کردیا
ایران میں پیٹرول کی قیمتوں میں اضافے کی تجویز ایسے وقت میں سامنے آئی تھی جب ملک کو ایندھن کی طلب، رسد اور درآمدی مشکلات کا سامنا ہے۔ تاہم پارلیمنٹ کے دباؤ کے بعد حکومت نے فوری طور پر قیمتوں میں اضافے کے منصوبے کو مؤخر کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
پارلیمانی ارکان کا کہنا ہے کہ پیٹرول کی قیمت میں اضافہ کرنے سے عوام پر اضافی مالی بوجھ پڑ سکتا ہے، جبکہ اس اقدام سے ایندھن کی طلب میں خاطر خواہ کمی آنے کی ضمانت بھی نہیں دی جا سکتی۔
حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ قیمتیں بڑھانے کے بجائے ایسا نظام متعارف کرایا جائے جس کے ذریعے پیٹرول کے استعمال کو بہتر انداز میں منظم کیا جا سکے۔
پیٹرول کو قومی شناختی نمبروں سے منسلک کرنے کی تجویز
ایرانی پارلیمنٹ کے ترجمان عباس گودرزی کے مطابق ارکان نے پیٹرول کے کوٹے کو شہریوں کے قومی شناختی نمبروں سے منسلک کرنے کی تجویز پیش کی ہے۔
اس تجویز کا مقصد ایندھن کی تقسیم کو مزید شفاف اور منظم بنانا اور پیٹرول کے استعمال کی نگرانی کو بہتر بنانا ہے۔ پارلیمانی ارکان کے مطابق موجودہ نظام میں اصلاحات کے ذریعے ایندھن کی غیر ضروری کھپت کو کم کیا جا سکتا ہے۔
ارکان نے حکومت پر زور دیا ہے کہ پیٹرول کی قیمت میں اضافہ کرنے کے بجائے پہلے ایندھن کی تقسیم اور استعمال کے نظام میں بنیادی تبدیلیاں لائی جائیں۔
قیمت بڑھانے کے باوجود طلب میں کمی نہیں آئی
ایرانی پارلیمانی ارکان کا کہنا ہے کہ ماضی میں پیٹرول کی قیمتوں میں اضافے کے باوجود ایندھن کی طلب میں نمایاں کمی نہیں دیکھی گئی۔
ارکان کے مطابق صرف قیمت بڑھانے سے شہریوں کی پیٹرول کی ضرورت ختم نہیں ہوتی، خاص طور پر ایسے حالات میں جب نقل و حمل اور روزمرہ ضروریات کے لیے ایندھن کا استعمال ناگزیر ہو۔
پارلیمنٹ نے حکومت کو تجویز دی ہے کہ پیٹرول کی طلب میں کمی کے لیے جامع پالیسی مرتب کی جائے، جس میں ایندھن کے کوٹے، تقسیم کے نظام اور گاڑیوں کے استعمال سے متعلق اقدامات شامل ہوں۔
ایک تہائی پیٹرول اب بھی فیول کارڈز سے خریدا جا رہا ہے
ایرانی پارلیمانی ارکان کے مطابق ملک میں استعمال ہونے والے پیٹرول کا تقریباً ایک تہائی حصہ اب بھی فیول کارڈز کے ذریعے خریدا جا رہا ہے۔
پارلیمنٹ میں اس صورتحال پر بھی غور کیا گیا اور حکومت سے مطالبہ کیا گیا کہ ایندھن کی تقسیم کے موجودہ نظام کو مزید مؤثر بنایا جائے۔
ارکان کا کہنا ہے کہ فیول کارڈز کے ذریعے پیٹرول کی خریداری اور کوٹے کے نظام کو بہتر بنا کر ایندھن کے استعمال کو زیادہ مؤثر انداز میں کنٹرول کیا جا سکتا ہے۔
جنگی حالات اور ناکہ بندی سے درآمدی پیٹرول متاثر
ایران کو موجودہ حالات میں پیٹرول کی درآمد کے حوالے سے بھی مشکلات کا سامنا ہے۔ پارلیمانی ارکان کے مطابق جنگی حالات اور ناکہ بندی نے بیرون ملک سے درآمد کیے جانے والے پیٹرول تک رسائی کو مزید مشکل بنا دیا ہے۔
ایندھن کی درآمد میں رکاوٹوں کے باعث ایران کو ملکی ضروریات پوری کرنے کے لیے دستیاب وسائل کا زیادہ مؤثر استعمال کرنا پڑ رہا ہے۔ اسی وجہ سے حکومت کے لیے پیٹرول کی طلب اور رسد میں توازن برقرار رکھنا ایک اہم چیلنج بن گیا ہے۔
ایران کو طویل عرصے سے ایندھن کی قلت کا سامنا
ایران کو طویل عرصے سے پیٹرول کی رسد اور طلب کے درمیان فرق کا سامنا ہے۔ ملک میں پیٹرول کی طلب میں مسلسل اضافے اور درآمدی مشکلات نے حکومت کے لیے ایندھن کی فراہمی کو ایک اہم مسئلہ بنا دیا ہے۔
علاقائی اور بین الاقوامی پابندیوں کے باعث ایران کے لیے پیٹرول درآمد کرنا انتہائی مشکل ہو گیا ہے۔ بعض حالات میں بیرون ملک سے ایندھن حاصل کرنا تقریباً ناممکن بھی ہو جاتا ہے، جس کے باعث ملکی پیداوار اور موجودہ ذخائر پر دباؤ بڑھ جاتا ہے۔
حکومت کے لیے بڑا چیلنج
ایران میں پیٹرول کی قیمتوں میں اضافے کا منصوبہ مؤخر ہونے کے بعد حکومت کے سامنے اب ایندھن کی طلب کم کرنے اور رسد کو مستحکم رکھنے کا چیلنج موجود ہے۔
پارلیمنٹ کی جانب سے قیمتوں میں اضافے کے بجائے اصلاحات اور متبادل اقدامات کی تجاویز سے ظاہر ہوتا ہے کہ حکومت کو پیٹرول پالیسی کے حوالے سے محتاط انداز اپنانا ہوگا۔ آنے والے دنوں میں یہ واضح ہوگا کہ حکومت پارلیمانی تجاویز پر کس حد تک عملدرآمد کرتی ہے اور ایندھن کے بحران سے نمٹنے کے لیے کون سے نئے اقدامات کیے جاتے ہیں۔
ایران میں پیٹرول کی قیمتوں کا معاملہ عوامی اور سیاسی دونوں سطحوں پر حساس سمجھا جاتا ہے، اس لیے حکومت کی جانب سے کسی بھی نئے فیصلے کے ملکی معیشت اور عوام پر براہ راست اثرات مرتب ہونے کا امکان ہے۔