نیب مقدمات سے متعلق سپریم کورٹ کا تحریری فیصلہ جاری
اسلام آباد: سپریم کورٹ آف پاکستان نے نیب مقدمات کے دائرہ اختیار سے متعلق محفوظ کیا گیا اہم تحریری فیصلہ جاری کر دیا ہے، جس کے مطابق اب نیب مقدمات سننے اور ان کی اپیلوں پر فیصلہ کرنے کا اختیار وفاقی آئینی عدالت (Federal Constitutional Court) کے پاس ہوگا۔ فیصلے کے بعد سپریم کورٹ کا نیب مقدمات میں اپیلیں سننے کا اختیار ختم ہو گیا ہے، جبکہ زیر التوا تمام اپیلیں اور لیو ٹو اپیل درخواستیں وفاقی آئینی عدالت منتقل کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔
تین رکنی بینچ کا متفقہ فیصلہ
اے آر وائی نیوز کے مطابق سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ، جس میں جسٹس محمد علی مظہر، جسٹس مسرت ہلالی اور جسٹس شاہد بلال شامل تھے، نے اتفاق رائے سے یہ فیصلہ سنایا۔ یہ فیصلہ 3 جولائی 2026 کو محفوظ کیا گیا تھا، جبکہ تحریری فیصلہ جسٹس محمد علی مظہر نے قلمبند کیا۔
عدالت نے اپنے فیصلے میں واضح کیا کہ آئینی ترمیم اور نئی قانون سازی کے بعد نیب مقدمات کی اپیلوں کا فورم تبدیل ہو چکا ہے، اس لیے سپریم کورٹ اب ان مقدمات کی سماعت نہیں کر سکتی۔
تمام زیر التوا نیب اپیلیں وفاقی آئینی عدالت منتقل ہوں گی
تحریری فیصلے کے مطابق سپریم کورٹ میں زیر سماعت تمام نیب اپیلیں، لیو ٹو اپیل درخواستیں اور دیگر متعلقہ مقدمات وفاقی آئینی عدالت کو منتقل کیے جائیں گے۔
عدالت نے رجسٹرار آفس کو ہدایت کی ہے کہ ایسے تمام مقدمات جلد از جلد وفاقی آئینی عدالت بھیجے جائیں تاکہ نئی قانونی پالیسی کے مطابق ان کی سماعت جاری رکھی جا سکے۔
ضمانت اور سزا معطلی کی درخواستیں بھی وفاقی آئینی عدالت سنے گی
سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں واضح کیا کہ نیب مقدمات میں ضمانت، سزا معطلی، عبوری ریلیف اور دیگر ضمنی درخواستوں کی سماعت بھی اب وفاقی آئینی عدالت کرے گی۔
اس فیصلے کے بعد نیب سے متعلق تمام اپیلی اور ضمنی معاملات ایک ہی فورم پر سنے جائیں گے، جس کا مقصد قانونی کارروائی کو زیادہ منظم اور مؤثر بنانا بتایا جا رہا ہے۔
27 ویں آئینی ترمیم کے بعد دائرہ اختیار تبدیل
تحریری فیصلے میں کہا گیا ہے کہ 27 ویں آئینی ترمیم اور اس کے بعد کی گئی قانون سازی کے نتیجے میں نیب مقدمات کی اپیلوں کا اختیار وفاقی آئینی عدالت کو منتقل ہو چکا ہے۔
عدالت نے قرار دیا کہ جب قانون واضح طور پر کسی فورم کو دائرہ اختیار دے دے تو کوئی دوسری عدالت اس اختیار کو استعمال نہیں کر سکتی، چاہے فریقین اس پر متفق ہی کیوں نہ ہوں۔
نیب ترامیم 2026 اور سیکشن 32 اے مؤثر قرار
سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں نیب ترامیم 2026 کے تحت سیکشن 32 اے کو مؤثر قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ شق وفاقی آئینی عدالت کو اپیلی اختیار فراہم کرتی ہے۔
فیصلے میں مزید کہا گیا کہ اب نیب مقدمات میں لیو ٹو اپیل کی ضرورت نہیں ہوگی بلکہ متاثرہ فریق کو براہ راست دوسری اپیل کا حق حاصل ہوگا، جو وفاقی آئینی عدالت میں دائر کی جائے گی۔
سپریم کورٹ نے قانونی اصول بھی واضح کر دیا
عدالت نے اپنے فیصلے میں ایک اہم قانونی اصول بھی بیان کیا کہ اگر کسی عدالت کے پاس قانون کے تحت دائرہ اختیار موجود نہ ہو تو وہ صرف فریقین کی رضامندی کی بنیاد پر بھی مقدمہ نہیں سن سکتی۔
یہ اصول آئندہ ایسے مقدمات میں بھی رہنمائی فراہم کرے گا جہاں عدالت کے دائرہ اختیار پر سوال اٹھایا جائے۔
قانونی ماہرین کی رائے
قانونی ماہرین کے مطابق یہ فیصلہ پاکستان کے عدالتی نظام میں ایک اہم پیش رفت ہے کیونکہ اس سے نیب مقدمات کے اپیلی نظام میں واضح تقسیم سامنے آ گئی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ تمام اپیلوں، ضمانت کی درخواستوں اور دیگر متعلقہ معاملات کو ایک ہی عدالت میں منتقل کرنے سے مقدمات کی سماعت میں یکسانیت پیدا ہوگی اور قانونی پیچیدگیوں میں بھی کمی آئے گی۔
نتیجہ
سپریم کورٹ کے تحریری فیصلے کے بعد نیب مقدمات کی سماعت اور اپیلوں کا اختیار مکمل طور پر وفاقی آئینی عدالت کو منتقل ہو گیا ہے۔ زیر التوا تمام اپیلیں، لیو ٹو اپیل درخواستیں، ضمانت، سزا معطلی اور دیگر ضمنی درخواستیں بھی اب وفاقی آئینی عدالت ہی سنے گی۔ اس فیصلے نے نیب مقدمات کے عدالتی دائرہ اختیار کو واضح کرتے ہوئے مستقبل کے قانونی طریقہ کار کی سمت بھی متعین کر دی ہے۔