سونم وانگچک کا طویل احتجاج ختم، مذاکرات کے بعد بڑا فیصلہ
نئی دہلی: بھارت کے معروف سماجی کارکن، ماہرِ تعلیم اور عوام میں “سونم سر” کے نام سے معروف سونم وانگچک نے تعلیمی اصلاحات اور پرچہ لیک معاملے پر جاری اپنی 26 روزہ بھوک ہڑتال ختم کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ طویل مذاکرات، حکومتی یقین دہانیوں اور ملک کو ممکنہ تشدد سے بچانے کے پیش نظر یہ فیصلہ کیا گیا۔ ان کی بھوک ہڑتال نے بھارت میں تعلیمی نظام، امتحانی شفافیت اور طلبہ کے حقوق سے متعلق بحث کو ایک بار پھر نمایاں کر دیا۔
26 روز تک جاری رہنے والی بھوک ہڑتال
سونم وانگچک نے مسلسل 26 روز تک بھوک ہڑتال جاری رکھی، جس کا مقصد تعلیمی اصلاحات کے مطالبے اور امتحانی نظام میں شفافیت کے لیے آواز بلند کرنا تھا۔
ان کی ہڑتال کو ملک بھر میں مختلف سماجی حلقوں، طلبہ اور نوجوانوں کی توجہ حاصل رہی، جبکہ متعدد افراد نے ان کے مؤقف کی حمایت بھی کی۔
سوشل میڈیا پر ہڑتال ختم کرنے کا اعلان
سونم وانگچک نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (X) پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ انہوں نے طویل مذاکرات کے بعد اور ملک میں مزید کشیدگی یا تشدد سے بچنے کے لیے بھوک ہڑتال ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
انہوں نے امید ظاہر کی کہ حکومت تعلیمی اصلاحات کے حوالے سے کیے گئے وعدوں پر عمل درآمد کرے گی اور نوجوانوں کے مطالبات کو سنجیدگی سے لے گی۔
طلبہ کے احتجاج کی حمایت
سونم وانگچک ان نوجوان مظاہرین کی حمایت کر رہے تھے جو نیٹ (NEET) امتحان کے پرچہ لیک ہونے کے بعد تعلیمی اصلاحات، امتحانی نظام میں شفافیت اور بھارتی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کا مطالبہ کر رہے تھے۔
مظاہرین کا مؤقف تھا کہ پرچہ لیک ہونے کے واقعات نے لاکھوں طلبہ کے مستقبل کو متاثر کیا ہے، اس لیے ذمہ داروں کے خلاف سخت کارروائی اور تعلیمی نظام میں بنیادی اصلاحات ناگزیر ہیں۔
طبیعت بگڑنے پر اسپتال منتقل کیا گیا
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق گزشتہ ہفتے پولیس نے سونم وانگچک کو احتجاجی مقام سے اسپتال منتقل کیا تھا۔
طبی معائنے کے دوران بتایا گیا کہ طویل بھوک ہڑتال کے باعث ان کے جسمانی وزن میں تقریباً 11 کلوگرام کمی واقع ہوئی، جس پر ڈاکٹروں نے ان کی صحت کے حوالے سے تشویش کا اظہار کیا تھا۔
حکومتی یقین دہانی کے بعد پیش رفت
رپورٹس کے مطابق حکومت کی جانب سے جنتر منتر پر موجود مظاہرین کے خلاف قانونی کارروائی نہ کرنے کی یقین دہانی کرائی گئی۔
اس کے علاوہ وزرائے مملکت اور وزیر صحت نے سونم وانگچک سے ملاقات کی، جس کے بعد مذاکرات میں پیش رفت ہوئی اور انہوں نے اپنی بھوک ہڑتال ختم کرنے کا اعلان کر دیا۔
تعلیمی اصلاحات پر بحث ایک بار پھر تیز
اس احتجاج نے بھارت میں تعلیمی نظام، امتحانات کی شفافیت اور طلبہ کے حقوق کے حوالے سے نئی بحث چھیڑ دی ہے۔
تعلیمی ماہرین کا کہنا ہے کہ امتحانی نظام میں شفافیت برقرار رکھنا، پرچہ لیک جیسے واقعات کی روک تھام اور طلبہ کا اعتماد بحال کرنا حکومت کی اہم ذمہ داری ہے۔
نوجوانوں کے مطالبات پر نظریں
اب عوام اور طلبہ کی نظریں حکومت پر مرکوز ہیں کہ وہ تعلیمی اصلاحات، امتحانی نظام میں بہتری اور احتجاج کرنے والے نوجوانوں کے مطالبات کے حوالے سے کیا عملی اقدامات کرتی ہے۔
ماہرین کے مطابق اگر وعدوں پر مؤثر عمل درآمد نہ ہوا تو مستقبل میں دوبارہ احتجاجی تحریکیں جنم لے سکتی ہیں۔
نتیجہ
سونم وانگچک کی 26 روزہ بھوک ہڑتال کا خاتمہ بھارت میں تعلیمی اصلاحات کی تحریک میں ایک اہم موڑ سمجھا جا رہا ہے۔ حکومتی یقین دہانیوں اور مذاکرات کے بعد اگرچہ احتجاج کا یہ مرحلہ ختم ہو گیا ہے، تاہم تعلیمی نظام میں شفافیت، امتحانی اصلاحات اور طلبہ کے مطالبات اب بھی عوامی اور حکومتی توجہ کا مرکز بنے ہوئے ہیں۔