32

امریکی ایوانِ نمائندگان نے 1.15 ٹریلین ڈالر کا دفاعی بجٹ منظور کر لیا، ایران جنگ کے لیے مزید فنڈنگ کی راہ ہموار

تعارف

امریکی ایوانِ نمائندگان نے 1.15 ٹریلین ڈالر مالیت کا دفاعی پالیسی بل منظور کر لیا ہے، جس کے بعد ایران سے متعلق فوجی سرگرمیوں، پینٹاگون کے اخراجات اور اسرائیل کے ساتھ دفاعی تعاون کے لیے مزید اربوں ڈالر مختص کیے جانے کی راہ ہموار ہو گئی ہے۔ اس بل کی منظوری کے دوران کانگریس میں شدید سیاسی اختلافات بھی سامنے آئے، جہاں ریپبلکن اور ڈیموکریٹ ارکان کے درمیان ایران پالیسی اور فوجی اختیارات کے حوالے سے سخت بحث ہوئی۔ اب یہ بل قانون بننے سے قبل سینیٹ اور دیگر آئینی مراحل سے گزرے گا۔


1.15 ٹریلین ڈالر کا دفاعی بجٹ منظور

امریکی ایوانِ نمائندگان نے بدھ کے روز 1.15 ٹریلین ڈالر کا دفاعی بجٹ منظور کیا، جو آئندہ مالی سال میں امریکی دفاعی اخراجات کی بنیاد فراہم کرے گا۔

بل 216 کے مقابلے میں 212 ووٹوں سے منظور ہوا۔ ووٹنگ کے دوران چند ڈیموکریٹ ارکان نے بھی اس کی حمایت کی، جبکہ بعض ریپبلکن اراکین نے مخالفت میں ووٹ دیا، جس سے دونوں جماعتوں کے اندر بھی اختلافات واضح ہو گئے۔


ایران جنگ کے لیے مزید اربوں ڈالر کی راہ ہموار

منظور شدہ بجٹ کے تحت پینٹاگون اور امریکی انٹیلی جنس اداروں کے لیے مزید 73 ارب ڈالر مختص کرنے کی گنجائش پیدا ہوگی۔

رپورٹس کے مطابق اس اضافی فنڈ کا بڑا حصہ ایران سے متعلق فوجی کارروائیوں، دفاعی تیاریوں، انٹیلی جنس سرگرمیوں اور عسکری آپریشنز پر خرچ کیا جا سکتا ہے۔


اسرائیل کے ساتھ دفاعی تعاون مزید مضبوط ہوگا

دفاعی پالیسی بل میں اسرائیل کے ساتھ دفاعی تعاون کو مزید مضبوط بنانے سے متعلق اہم شق بھی شامل کی گئی ہے۔

اس اقدام کا مقصد خطے میں امریکی اتحادیوں کی دفاعی صلاحیت کو بہتر بنانا اور مشرقِ وسطیٰ میں سیکیورٹی تعاون کو فروغ دینا بتایا جا رہا ہے۔


کانگریس میں شدید سیاسی اختلافات سامنے آگئے

اس مرتبہ دفاعی بجٹ پر کانگریس میں غیر معمولی سیاسی اختلافات دیکھنے میں آئے۔

ڈیموکریٹ ارکان کا مؤقف تھا کہ بل میں ایران کے خلاف ٹرمپ انتظامیہ کے فوجی اختیارات پر مؤثر نگرانی یا پابندی کی کوئی واضح شق شامل نہیں، جبکہ ریپبلکن ارکان نے قومی سلامتی کو ترجیح دیتے ہوئے اس مؤقف کو مسترد کر دیا۔


دو جماعتی اتفاقِ رائے میں دراڑ

امریکی دفاعی بجٹ ماضی میں عموماً دونوں بڑی جماعتوں کی مشترکہ حمایت سے منظور ہوتا رہا ہے، تاہم اس بار نتائج نے ظاہر کیا کہ اس روایت میں تبدیلی آ رہی ہے۔

سیاسی مبصرین کے مطابق ایران، مشرقِ وسطیٰ اور دفاعی پالیسی کے معاملات پر دونوں جماعتوں کے درمیان اختلافات پہلے سے کہیں زیادہ نمایاں ہو چکے ہیں۔


سینیٹ میں بل کو سخت امتحان کا سامنا

اگرچہ ایوانِ نمائندگان سے بل منظور ہو چکا ہے، لیکن اسے قانون بننے کے لیے امریکی سینیٹ سے بھی منظوری درکار ہوگی۔

اطلاعات کے مطابق سینیٹ میں ڈیموکریٹس اس بل پر مزید ترامیم چاہتے ہیں، خصوصاً ایران کے خلاف فوجی کارروائیوں کے اختیارات کو محدود کرنے سے متعلق شقیں شامل کرنے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔


وائٹ ہاؤس بھیجنے سے پہلے آئینی مراحل باقی

دفاعی بجٹ کے قانون بننے سے قبل ایوانِ نمائندگان اور سینیٹ سے منظور ہونے والے مسودوں میں موجود اختلافات ختم کرنا ضروری ہوگا۔

اگر دونوں ایوان کسی مشترکہ متن پر متفق ہو جاتے ہیں تو حتمی بل صدر کے دستخط کے لیے وائٹ ہاؤس بھیجا جائے گا، جس کے بعد یہ باضابطہ قانون کی شکل اختیار کرے گا۔


دفاعی اخراجات اور عالمی اثرات

ماہرین کا کہنا ہے کہ اتنے بڑے دفاعی بجٹ کی منظوری نہ صرف امریکی فوجی حکمتِ عملی کو تقویت دے گی بلکہ مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی، عالمی سیکیورٹی اور بین الاقوامی تعلقات پر بھی اس کے نمایاں اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

دوسری جانب ناقدین کا مؤقف ہے کہ دفاعی اخراجات میں مسلسل اضافہ سفارتی کوششوں کو متاثر کر سکتا ہے، جبکہ حامیوں کے مطابق موجودہ عالمی حالات میں دفاعی تیاری ناگزیر ہے۔


نتیجہ

امریکی ایوانِ نمائندگان کی جانب سے 1.15 ٹریلین ڈالر کے دفاعی بجٹ کی منظوری امریکا کی دفاعی پالیسی میں ایک اہم پیش رفت سمجھی جا رہی ہے۔ اس بل کے ذریعے ایران سے متعلق فوجی اخراجات، پینٹاگون کی فنڈنگ اور اسرائیل کے ساتھ دفاعی تعاون کو مزید تقویت ملنے کا امکان ہے۔ تاہم بل کو قانون بننے کے لیے سینیٹ کی منظوری اور دیگر آئینی مراحل سے گزرنا ابھی باقی ہے، جہاں اس پر مزید سیاسی بحث اور ممکنہ ترامیم متوقع ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں