38

ایران میں پہلی بار امریکی بی ون بمبار کا استعمال، پاسدارانِ انقلاب کے اہداف پر بڑے حملے، خطے میں کشیدگی مزید بڑھ گئی

تعارف

ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی کے خاتمے کے بعد خطے میں ایک بار پھر کشیدگی شدت اختیار کر گئی ہے۔ امریکی افواج نے ایران میں پاسدارانِ انقلاب کے مبینہ اہداف کو نشانہ بنانے کے لیے پہلی مرتبہ جدید اور طویل فاصلے تک مار کرنے والے بی ون لانسر (B-1 Lancer) بمبار طیارے کا استعمال کیا ہے۔ دفاعی ماہرین کے مطابق یہ امریکی فضائیہ کے طاقتور ترین روایتی بمبار طیاروں میں شمار ہوتا ہے، جو ایک ہی مشن میں بڑی مقدار میں بم اور کروز میزائل لے جانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اس پیش رفت نے مشرقِ وسطیٰ کی سیکیورٹی صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔


امریکا نے پہلی بار بی ون بمبار کو جنگی کارروائی میں استعمال کیا

امریکی فوج نے ایران میں پاسدارانِ انقلاب کے مبینہ فوجی مراکز کو نشانہ بنانے کے لیے پہلی بار بی ون لانسر بمبار طیارہ استعمال کیا۔ رپورٹس کے مطابق یہ کارروائی جنگ بندی ختم ہونے کے بعد جاری ہونے والی نئی فوجی مہم کا حصہ ہے۔

دفاعی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس اقدام سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکا نے اپنی عسکری حکمت عملی کو مزید جارحانہ انداز میں آگے بڑھانے کا فیصلہ کیا ہے۔


پاسدارانِ انقلاب کے مبینہ اہداف پر فضائی حملے

رپورٹس کے مطابق امریکی فضائیہ نے ایران میں پاسدارانِ انقلاب سے منسلک مبینہ فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا۔

ذرائع کے مطابق حملوں کا مقصد ایران کی عسکری صلاحیتوں کو محدود کرنا اور خطے میں امریکی مفادات کو لاحق خطرات کو کم کرنا بتایا جا رہا ہے، تاہم ایران کی جانب سے ان حملوں پر سخت ردعمل کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔


بی ون لانسر کی عسکری صلاحیتیں

بی ون لانسر دنیا کے جدید ترین روایتی بمبار طیاروں میں شمار ہوتا ہے۔

یہ طیارہ ایک ہی مشن میں تقریباً 24 عدد 2,000 پاؤنڈ وزنی بم یا بڑی تعداد میں کروز میزائل لے جانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اس کے علاوہ یہ کم بلندی پر انتہائی تیز رفتاری سے پرواز کرتے ہوئے جدید فضائی دفاعی نظام سے بچ کر اپنے ہدف تک پہنچ سکتا ہے۔

اسی وجہ سے اسے امریکی فضائیہ کے اہم اسٹریٹجک ہتھیاروں میں شامل کیا جاتا ہے۔


جنگ کے حالیہ مرحلے میں اہم پیش رفت

دفاعی ماہرین کے مطابق موجودہ کشیدگی کے دوران یہ پہلا موقع ہے جب امریکا نے اس نوعیت کا بھاری بمبار طیارہ استعمال کیا ہے۔

اس اقدام کو خطے میں امریکی فوجی حکمت عملی میں بڑی تبدیلی قرار دیا جا رہا ہے، کیونکہ اس سے مستقبل میں مزید بڑے فضائی حملوں کے امکانات بھی بڑھ سکتے ہیں۔


امریکی فوجی موجودگی میں مسلسل اضافہ

رپورٹس کے مطابق امریکا مشرقِ وسطیٰ میں اپنی فوجی موجودگی مزید مضبوط کر رہا ہے۔

جدید لڑاکا طیاروں، بحری بیڑوں اور اسپیشل فورسز کی تعیناتی میں اضافہ کیا جا رہا ہے تاکہ کسی بھی ممکنہ فوجی کارروائی کے لیے مکمل تیاری برقرار رکھی جا سکے۔

ماہرین کے مطابق یہ اقدامات خطے میں طاقت کے توازن پر بھی اثر انداز ہو سکتے ہیں۔


ممکنہ بڑے حملوں کی اطلاعات

بین الاقوامی ذرائع ابلاغ کے مطابق امریکی اور اسرائیلی حکام کا مؤقف ہے کہ ایران کے خلاف مزید بڑی کارروائیاں زیر غور ہیں۔

رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ آئندہ چند دنوں میں نئی فوجی کارروائیوں کا امکان موجود ہے، جس کے پیش نظر اسٹریٹجک بمبار طیاروں اور دیگر عسکری وسائل کو ہائی الرٹ پر رکھا گیا ہے۔


مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی کے عالمی اثرات

ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی صرف خطے تک محدود نہیں رہے گی بلکہ عالمی معیشت، توانائی کی فراہمی اور بین الاقوامی تجارت بھی اس سے متاثر ہو سکتی ہے۔

خصوصاً تیل کی عالمی قیمتوں، سمندری راستوں کی سلامتی اور سرمایہ کاری کے ماحول پر اس تنازع کے اثرات مرتب ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔


عالمی برادری کی تشویش

بین الاقوامی مبصرین کا کہنا ہے کہ اگر دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی میں مزید اضافہ ہوا تو خطہ ایک وسیع جنگ کی طرف بڑھ سکتا ہے۔

اسی لیے مختلف ممالک اور عالمی ادارے صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں اور سفارتی ذرائع سے کشیدگی کم کرنے کی کوششوں پر زور دیا جا رہا ہے۔


نتیجہ

امریکا کی جانب سے ایران میں پہلی بار بی ون لانسر بمبار طیارے کے استعمال نے مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال کو مزید حساس بنا دیا ہے۔ جدید بمبار طیاروں، بڑھتی فوجی تعیناتی اور ممکنہ نئی کارروائیوں کی اطلاعات نے عالمی سطح پر تشویش میں اضافہ کر دیا ہے۔ اگر کشیدگی میں کمی نہ آئی تو اس کے اثرات نہ صرف خطے بلکہ عالمی معیشت، توانائی کی منڈیوں اور بین الاقوامی امن پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں