39

برطانیہ نے ایران کے خلاف جنگ میں شمولیت کی تردید کر دی، سیاسی حل پر زور

تعارف

تہران اور لندن کے درمیان سفارتی رابطوں میں ایک اہم پیش رفت اس وقت سامنے آئی جب برطانوی وزیر خارجہ ایڈ ملی بینڈ اور ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کے درمیان ٹیلی فونک رابطہ ہوا۔ اس گفتگو میں مشرقِ وسطیٰ کی موجودہ کشیدہ صورتحال، ایران کے خلاف ممکنہ فوجی کارروائی، سفارتی کوششوں اور بین الاقوامی قانون سے متعلق اہم امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ برطانیہ نے واضح الفاظ میں کہا کہ وہ ایران کے خلاف کسی بھی جنگ کا حصہ نہیں ہے اور حکومت اس بحران کا سیاسی اور سفارتی حل چاہتی ہے۔

برطانوی وزیر خارجہ کا واضح مؤقف

برطانوی وزیر خارجہ ایڈ ملی بینڈ نے ایرانی وزیر خارجہ کو یقین دہانی کرائی کہ برطانیہ ایران کے خلاف کسی بھی فوجی کارروائی میں شریک نہیں ہوگا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ موجودہ بحران کا حل طاقت کے استعمال کے بجائے مذاکرات اور سفارت کاری میں ہے۔

برطانوی حکومت کا مؤقف ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خطے میں کشیدگی مسلسل بڑھ رہی ہے اور مختلف ممالک ممکنہ جنگ کے خدشات کا اظہار کر رہے ہیں۔

عباس عراقچی کا سخت ردعمل

ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے گفتگو کے دوران واضح کیا کہ اگر کسی ملک کی سرزمین یا فوجی تنصیبات ایران کے خلاف حملے کے لیے استعمال کی گئیں تو ایران اسے بین الاقوامی قانون کے مطابق جارحیت تصور کرے گا۔

انہوں نے کہا کہ چاہے کسی ملک نے ماضی میں دفاعی معاہدے کیے ہوں، پھر بھی اس کی سرزمین کو کسی تیسرے ملک پر حملے کے لیے استعمال کرنا ناقابل قبول عمل ہے۔

عباس عراقچی کے مطابق ایسے اقدامات نہ صرف عالمی قوانین کی خلاف ورزی ہیں بلکہ اس سے خطے میں مزید عدم استحکام پیدا ہوگا۔

سفارتی کوششوں کا ذکر

ایرانی وزیر خارجہ نے کہا کہ ایران نے ہمیشہ سفارتی راستے کو ترجیح دی ہے اور نیک نیتی کے ساتھ مذاکرات کیے۔

انہوں نے بتایا کہ 17 جون کو جنگ کے خاتمے کے لیے ایک اہم مفاہمت طے پا گئی تھی، مگر امریکا نے اپنے وعدوں پر عمل نہ کرتے ہوئے اس معاہدے کو آگے بڑھنے سے روک دیا۔

ایران کا کہنا ہے کہ اگر تمام فریق اپنے وعدوں کی پاسداری کرتے تو موجودہ کشیدہ صورتحال سے بچا جا سکتا تھا۔

امریکا پر معاہدہ توڑنے کا الزام

عباس عراقچی نے امریکا پر الزام عائد کیا کہ اس نے طے شدہ سفارتی مفاہمت پر عمل درآمد روک کر خطے میں ایک نئی غیر یقینی کیفیت پیدا کر دی۔

انہوں نے کہا کہ اگر عالمی طاقتیں سفارتی معاہدوں کی پاسداری نہ کریں تو امن کی کوششیں کمزور پڑ جاتی ہیں اور کشیدگی میں اضافہ ہوتا ہے۔

ایران کا مؤقف ہے کہ عالمی برادری کو معاہدوں پر عمل درآمد یقینی بنانے کے لیے مؤثر کردار ادا کرنا چاہیے۔

بین الاقوامی قانون کی اہمیت

ایرانی وزیر خارجہ نے گفتگو میں بین الاقوامی قوانین کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ کسی بھی ملک کی سرزمین یا فوجی اڈوں کو کسی دوسرے ملک پر حملے کے لیے استعمال کرنا اقوام متحدہ کے اصولوں کے خلاف ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگر ایسا کیا گیا تو متاثرہ ملک کو اقوام متحدہ کے چارٹر کے مطابق اپنے دفاع کا مکمل حق حاصل ہوگا۔

ایران کا کہنا ہے کہ عالمی برادری کو ایسے اقدامات کی روک تھام کے لیے مؤثر کردار ادا کرنا چاہیے تاکہ خطے میں امن برقرار رہ سکے۔

خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی

حالیہ دنوں میں ایران، امریکا اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی میں مسلسل اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔

رپورٹس کے مطابق ایرانی توانائی کے مراکز کو ممکنہ نشانہ بنانے کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں، جس کے بعد تہران نے سخت ردعمل کا اظہار کیا ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق اگر سفارتی کوششیں ناکام رہیں تو خطے میں ایک بڑے تصادم کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔

برطانیہ کا سفارتی پیغام

برطانیہ نے اس گفتگو کے ذریعے واضح پیغام دیا ہے کہ وہ مشرق وسطیٰ میں مزید جنگ نہیں چاہتا بلکہ تمام فریقین کو مذاکرات کی میز پر واپس لانا ضروری سمجھتا ہے۔

برطانوی حکومت کا خیال ہے کہ طاقت کے استعمال سے مسائل حل ہونے کے بجائے مزید پیچیدہ ہو سکتے ہیں۔

اسی لیے لندن مسلسل سفارتی رابطوں کے ذریعے کشیدگی کم کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

عالمی برادری کے لیے چیلنج

موجودہ صورتحال عالمی برادری کے لیے ایک بڑا امتحان بن چکی ہے۔

اگر مختلف ممالک نے تحمل اور سفارت کاری کا راستہ اختیار نہ کیا تو نہ صرف خطے بلکہ عالمی معیشت، توانائی کی فراہمی اور بین الاقوامی امن بھی متاثر ہو سکتا ہے۔

ماہرین کے مطابق تمام متعلقہ ممالک کو مذاکرات، اعتماد سازی اور بین الاقوامی قوانین کی پاسداری پر توجہ دینی چاہیے۔

نتیجہ

برطانوی وزیر خارجہ ایڈ ملی بینڈ اور ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کے درمیان ہونے والی گفتگو نے ایک بار پھر واضح کر دیا ہے کہ موجودہ بحران کا پائیدار حل صرف سفارت کاری اور سیاسی مذاکرات میں ہے۔ برطانیہ نے جنگ میں شمولیت کی تردید کرتے ہوئے سیاسی حل کی حمایت کی، جبکہ ایران نے خبردار کیا کہ کسی بھی ملک کی سرزمین کو اس کے خلاف حملے کے لیے استعمال کرنا بین الاقوامی قانون کے تحت جارحیت تصور ہوگا۔ آنے والے دنوں میں عالمی طاقتوں کے فیصلے مشرق وسطیٰ کی صورتحال پر گہرے اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں