حوثیوں کے میزائل اور ڈرون حملے
یمن میں حوثی باغیوں نے مارب اور حضرموت کے صوبوں میں یمنی سرکاری فوج کے کیمپوں پر شدید میزائل اور ڈرون حملے کیے، جن کے نتیجے میں کم از کم 58 فوجی اہلکار شہید ہونے کی اطلاعات ہیں۔ یہ حملے سعودی عرب پر مبینہ حملے سے چند گھنٹے قبل کیے گئے، جس کے بعد خطے میں کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے۔
مارب اور حضرموت کے فوجی کیمپ نشانہ
عرب میڈیا کے مطابق حوثیوں نے صوبہ الجوف سے 8 میزائل داغے۔ ان میزائلوں نے حضرموت کے علاقوں الثنیہ اور العبر جبکہ مارب کے علاقے الروک میں یمنی فوج کے کیمپوں کو نشانہ بنایا۔
حملے کے وقت فوجی اہلکار تربیتی مشق کے لیے جمع تھے، جس کے باعث ایک ہی مقام پر بڑی تعداد میں اہلکار موجود تھے اور جانی نقصان زیادہ ہوا۔
ہلاکتوں کی تعداد 58 تک پہنچ گئی
بی بی سی کے مطابق حملے میں جاں بحق ہونے والے فوجیوں کی حتمی تعداد کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہو سکی۔ تاہم اے ایف پی نے ایک فوجی ذریعے کے حوالے سے بتایا کہ کم از کم 58 یمنی فوجی مارے گئے ہیں۔
اس سے قبل ہلاکتوں کی تعداد 38 بتائی گئی تھی، تاہم بعد ازاں مزید ہلاکتوں کی اطلاعات سامنے آئیں۔ یمنی حکام نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ زخمیوں میں سے مزید افراد دم توڑ سکتے ہیں۔
حوثی ترجمان کا بڑا دعویٰ
حوثی ترجمان یحییٰ سریع نے حملوں کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ یہ کارروائیاں یمنی حکومتی فوج کی حالیہ عسکری نقل و حرکت کے جواب میں کی گئیں۔
حوثیوں کا کہنا ہے کہ حکومتی فورسز کی فوجی سرگرمیوں میں اضافہ ہوا تھا، جس کے ردعمل میں فوجی اہداف کو نشانہ بنایا گیا۔
2022 کے بعد خونریز ترین جھڑپیں
عرب میڈیا کے مطابق رواں سال یمن میں ہونے والی یہ کارروائیاں 2022 کے بعد کی سب سے خونریز فوجی جھڑپوں میں شمار کی جا رہی ہیں۔
حالیہ حملوں نے یمن میں جاری کشیدگی کو ایک مرتبہ پھر انتہائی سنگین بنا دیا ہے، جبکہ خطے میں بڑے فوجی تصادم کے خدشات بھی بڑھ گئے ہیں۔
عرب اتحاد کا اظہارِ تعزیت
عرب اتحاد کے ترجمان میجر جنرل ترکی المالکی نے یمنی حکومت اور عوام سے حوثیوں کے حملے پر گہرے دکھ اور تعزیت کا اظہار کیا۔
انہوں نے جاں بحق ہونے والے فوجی اہلکاروں کے خاندانوں سے ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے حملے پر افسوس کا اظہار کیا۔
امریکا نے حملے کو بزدلانہ دہشت گردی قرار دے دیا
امریکی سفارت خانے نے بھی حوثیوں کے حملوں کی مذمت کرتے ہوئے انہیں “بزدلانہ دہشت گردی” قرار دیا ہے۔
امریکی سفارت خانے کی جانب سے شہید ہونے والے فوجیوں کے اہلِ خانہ سے دلی تعزیت کا اظہار کیا گیا۔
سعودی عرب پر حملے سے پہلے بڑی کارروائی
رائٹرز کے مطابق اس سے قبل ایک سینئر سعودی عہدیدار نے بتایا تھا کہ پاسداران انقلاب کی ہدایت پر عراقی ملیشیائیں حوثیوں کے ساتھ مل کر یمن کے شمال اور جنوب دونوں اطراف سے حملے کر سکتی ہیں۔
سعودی عرب پر مبینہ حملے سے چند گھنٹے قبل یمنی فوجی کیمپوں پر ہونے والی کارروائی نے خطے کی پہلے سے کشیدہ صورتحال کو مزید پیچیدہ کر دیا ہے۔
یمن میں کشیدگی مزید بڑھنے کا خدشہ
حالیہ حملوں کے بعد یمن میں ایک مرتبہ پھر بڑے پیمانے پر فوجی کارروائیوں کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔ یمن کئی برسوں سے سیاسی بحران اور مسلح تنازع کا شکار ہے اور مختلف فریقوں کے درمیان کشیدگی کے باعث امن کا قیام ایک بڑا چیلنج بنا ہوا ہے۔
58 فوجیوں کی ہلاکت کی اطلاعات نے صورتحال کی سنگینی کو مزید واضح کر دیا ہے۔ عالمی برادری کی توجہ ایک مرتبہ پھر یمن کی جانب مرکوز ہو گئی ہے، جبکہ آنے والے دنوں میں فریقین کے اقدامات خطے کی سلامتی کے لیے انتہائی اہم قرار دیے جا رہے ہیں۔