33

ایران کے خلاف امریکی بحری ناکہ بندی برقرار، سینٹکام کا دعویٰ

سینٹکام کا اہم بیان

امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) نے کہا ہے کہ ایران کے خلاف بحری ناکہ بندی بدستور برقرار ہے اور اس پر مکمل طور پر عملدرآمد کیا جا رہا ہے۔ امریکی حکام کے مطابق اس کارروائی کا مقصد خطے میں اپنی بحری حکمت عملی کو مؤثر بنانا اور مخصوص سیکیورٹی اہداف کا حصول ہے۔

24 تجارتی جہازوں کا رخ موڑنے کا دعویٰ

غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق سینٹکام کا کہنا ہے کہ 14 جولائی سے نافذ کی گئی بحری ناکہ بندی کے دوران اب تک 24 تجارتی بحری جہازوں کا رخ تبدیل کیا جا چکا ہے۔ امریکی حکام کے مطابق ان اقدامات کے ذریعے بحری نقل و حرکت پر کڑی نگرانی رکھی جا رہی ہے۔

دو جہاز ناکارہ بنانے کا دعویٰ

سینٹکام نے مزید دعویٰ کیا کہ کارروائیوں کے دوران دو جہازوں کو ناکارہ بنایا گیا، جبکہ دو دیگر جہازوں پر سوار ہو کر آپریشن بھی کیا گیا۔ امریکی حکام کے مطابق یہ تمام اقدامات بحری ناکہ بندی کے نفاذ کا حصہ ہیں۔

آئل ٹینکر پر کارروائی

رپورٹس کے مطابق ایران جانے والے ایک خالی آئل ٹینکر کو امریکی طیارے نے میزائل حملے کے ذریعے ناکارہ بنا دیا۔ امریکی حکام کا مؤقف ہے کہ یہ کارروائی بحری پابندیوں پر عملدرآمد کو یقینی بنانے کے لیے کی گئی۔

نگرانی کے لیے جدید فضائی نظام

سینٹکام کے مطابق امریکی بحریہ کا پی-8 پوسیڈون (P-8 Poseidon) نگرانی طیارہ مشرق وسطیٰ کے سمندری علاقوں میں مسلسل گشت کر رہا ہے۔ یہ طیارہ بحری سرگرمیوں کی نگرانی، معلومات اکٹھی کرنے اور آپریشنل معاونت فراہم کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

فضا میں ایندھن کی فراہمی

بیان کے مطابق پی-8 پوسیڈون طیارہ دورانِ پرواز امریکی فضائیہ کے KC-135 Stratotanker سے ایندھن حاصل کرتا ہے، جس کے باعث وہ طویل عرصے تک فضائی نگرانی جاری رکھنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

بحری ناکہ بندی کا مقصد

امریکی حکام کا کہنا ہے کہ بحری ناکہ بندی کا مقصد خطے میں سیکیورٹی کو برقرار رکھنا، مخصوص بحری راستوں کی نگرانی کرنا اور امریکی مفادات کا تحفظ یقینی بنانا ہے۔ اس حوالے سے امریکی بحری اور فضائی افواج مسلسل مشترکہ کارروائیاں انجام دے رہی ہیں۔

خطے میں بڑھتی کشیدگی

دفاعی ماہرین کے مطابق ایران اور امریکا کے درمیان جاری کشیدگی کے باعث مشرق وسطیٰ میں سیکیورٹی صورتحال بدستور حساس ہے۔ بحری ناکہ بندی اور فوجی سرگرمیوں نے عالمی تجارت، تیل کی ترسیل اور علاقائی استحکام سے متعلق خدشات میں اضافہ کیا ہے۔

عالمی برادری کی نظریں

بین الاقوامی مبصرین کا کہنا ہے کہ آنے والے دنوں میں بحری ناکہ بندی، ایران کے ممکنہ ردعمل اور سفارتی کوششوں پر پوری دنیا کی توجہ مرکوز رہے گی، کیونکہ کسی بھی نئی پیش رفت کے عالمی معیشت اور خطے کی سلامتی پر اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

نتیجہ

امریکی سینٹرل کمانڈ کے مطابق ایران کے خلاف بحری ناکہ بندی تاحال برقرار ہے اور اس کے نفاذ کے لیے بحری اور فضائی وسائل مسلسل استعمال کیے جا رہے ہیں۔ تاہم اس معاملے پر مختلف فریقین کے مؤقف اور آئندہ پیش رفت خطے کی مجموعی صورتحال پر اہم اثر ڈال سکتی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں