رپورٹ۔۔۔ فضہ حسین
ایران پر امریکی و اسرائیلی حملوں کے بعد سونا تاریخ کی بلند ترین سطح پر، فی تولہ قیمت میں 10 ہزار روپے کا بڑا اضافہ
امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملوں کی خبروں نے عالمی مالیاتی منڈیوں میں شدید بے یقینی پیدا کر دی ہے، جس کے نتیجے میں سونے کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ سرمایہ کاروں نے غیر یقینی صورتحال کے باعث محفوظ سرمایہ کاری کی طرف رجوع کیا اور سونے کی خریداری میں تیزی آگئی، جس سے مقامی اور عالمی دونوں سطحوں پر نرخ اوپر چلے گئے۔
مقامی صرافہ بازار میں سونے کی فی تولہ قیمت میں 10 ہزار روپے کا بڑا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ اس اضافے کے بعد فی تولہ سونا 5 لاکھ 50 ہزار 562 روپے کی نئی سطح پر پہنچ گیا ہے۔ یہ اضافہ حالیہ دنوں میں سامنے آنے والی جغرافیائی کشیدگی کے باعث ہوا ہے، جس نے سرمایہ کاروں کے اعتماد کو متزلزل کر دیا اور انہیں محفوظ اثاثوں کی جانب منتقل ہونے پر مجبور کیا۔
اسی طرح دس گرام سونے کی قیمت میں بھی نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ دس گرام سونا 8 ہزار 574 روپے مہنگا ہونے کے بعد 4 لاکھ 72 ہزار 18 روپے کی سطح پر پہنچ چکا ہے۔ یہ اضافہ اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ عالمی منڈی میں ہونے والی تبدیلیاں کس تیزی سے مقامی مارکیٹ کو متاثر کرتی ہیں۔
عالمی مارکیٹ کی بات کی جائے تو وہاں بھی سونے کی قیمت میں 100 ڈالر فی اونس کا اضافہ ہوا ہے۔ اس اضافے کے بعد عالمی سطح پر فی اونس سونا 5 ہزار 278 ڈالر کی سطح پر آ گیا ہے۔ بین الاقوامی مالیاتی تجزیہ کاروں کے مطابق جب بھی مشرق وسطیٰ میں کشیدگی بڑھتی ہے تو سرمایہ کار سونے کو ایک محفوظ پناہ گاہ کے طور پر دیکھتے ہیں، جس سے اس کی طلب میں اضافہ ہوتا ہے اور قیمتیں اوپر چلی جاتی ہیں۔
معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ جنگی خطرات اور سیاسی عدم استحکام کے اشارے عالمی معیشت کے لیے خطرے کی گھنٹی سمجھے جاتے ہیں۔ ایسے حالات میں اسٹاک مارکیٹس میں اتار چڑھاؤ بڑھ جاتا ہے جبکہ کرنسی مارکیٹس بھی دباؤ کا شکار ہو جاتی ہیں۔ اس صورتحال میں سونا نسبتاً محفوظ سرمایہ کاری سمجھا جاتا ہے کیونکہ اس کی قدر عام طور پر غیر یقینی حالات میں برقرار رہتی ہے یا بڑھ جاتی ہے۔
پاکستان جیسے ممالک میں جہاں پہلے ہی مہنگائی کی شرح بلند ہے، سونے کی قیمتوں میں اس قدر اضافہ عوام کے لیے مزید مشکلات کا باعث بن سکتا ہے۔ شادی بیاہ اور دیگر سماجی تقریبات میں سونے کی خریداری ایک روایت سمجھی جاتی ہے، لیکن حالیہ اضافے کے بعد متوسط طبقے کے لیے سونا خریدنا مزید دشوار ہو گیا ہے۔
دوسری جانب صرافہ ڈیلرز کا کہنا ہے کہ عالمی مارکیٹ میں اتار چڑھاؤ کے ساتھ ساتھ روپے کی قدر میں کمی بھی مقامی قیمتوں میں اضافے کی ایک بڑی وجہ ہوتی ہے۔ اگر ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر مزید گرتی ہے تو سونے کی قیمتوں میں مزید اضافہ بھی ممکن ہے، چاہے عالمی مارکیٹ میں استحکام ہی کیوں نہ آ جائے۔
ماہرین کے مطابق اگر خطے میں کشیدگی برقرار رہتی ہے یا مزید بڑھتی ہے تو سونے کی قیمتوں میں مزید تیزی دیکھی جا سکتی ہے۔ تاہم اگر سفارتی سطح پر حالات میں بہتری آتی ہے اور کشیدگی کم ہوتی ہے تو قیمتوں میں کچھ حد تک استحکام یا کمی بھی آ سکتی ہے۔
یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ عالمی سرمایہ کار صرف سونے تک محدود نہیں رہتے بلکہ دیگر محفوظ اثاثوں جیسے امریکی بانڈز اور بعض مضبوط کرنسیوں میں بھی سرمایہ کاری بڑھا دیتے ہیں۔ تاہم سونا تاریخی طور پر سب سے زیادہ قابل اعتماد محفوظ سرمایہ کاری سمجھا جاتا ہے، اسی لیے ہر بڑی عالمی کشیدگی کے بعد اس کی قیمت میں تیزی دیکھی جاتی ہے۔
موجودہ صورتحال میں مارکیٹ کے رجحانات کا انحصار خطے کی سیاسی اور عسکری پیش رفت پر ہے۔ اگر حالات مزید خراب ہوتے ہیں تو سونے کی قیمت نئی بلندیاں چھو سکتی ہے، جبکہ کشیدگی میں کمی کی صورت میں وقتی ریلیف ممکن ہے۔ فی الحال سرمایہ کار محتاط رویہ اختیار کیے ہوئے ہیں اور مارکیٹ میں غیر یقینی کیفیت برقرار ہے۔
مجموعی طور پر ایران پر حملوں کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال نے عالمی اور مقامی سونے کی منڈیوں میں ہلچل مچا دی ہے۔ فی تولہ اور فی دس گرام قیمتوں میں بڑا اضافہ اس بات کا واضح اشارہ ہے کہ عالمی سیاسی واقعات براہِ راست معاشی منڈیوں پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ آنے والے دنوں میں حالات کس رخ پر جاتے ہیں، اس پر ہی سونے کی قیمتوں کا مستقبل منحصر ہوگا۔
15