کراچی ایئرپورٹ پر ہائی الرٹ، سکیورٹی مزید سخت 13

کراچی ایئرپورٹ پر ہائی الرٹ، سکیورٹی مزید سخت

رپورٹ۔۔۔ فضہ حسین

کراچی ایئرپورٹ پر ہائی الرٹ، سکیورٹی مزید سخت — مسافروں کو بروقت پہنچنے کی ہدایت
جناح انٹرنیشنل ایئرپورٹ اور اس کے اطراف سکیورٹی انتظامات کو مزید سخت کر دیا گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق حالیہ صورتحال کے پیش نظر ایئرپورٹ کی حدود اور ملحقہ سڑکوں پر اضافی نفری تعینات کی جا رہی ہے تاکہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے بروقت نمٹا جا سکے اور مسافروں کے تحفظ کو یقینی بنایا جا سکے۔
اطلاعات کے مطابق رینجرز، پولیس اور ایئرپورٹ سکیورٹی فورس (اے ایس ایف) کے اضافی اہلکار مختلف داخلی و خارجی راستوں پر تعینات ہوں گے۔ اہم شاہراہوں اور چیک پوائنٹس پر کڑی نگرانی کی جائے گی جبکہ گاڑیوں اور افراد کی جامع تلاشی کا عمل بھی معمول سے زیادہ سخت ہوگا۔ سکیورٹی اداروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ مکمل الرٹ رہیں اور مشتبہ سرگرمیوں پر فوری کارروائی یقینی بنائیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ ایئرپورٹ کے اندر داخلے کے حوالے سے بھی نئی پابندیاں عائد کی گئی ہیں۔ صرف وہی افراد ٹرمینل بلڈنگ میں داخل ہو سکیں گے جن کے پاس درست سفری دستاویزات اور کنفرم ٹکٹ موجود ہوں گے۔ مسافروں کو چھوڑنے یا وصول کرنے آنے والے غیر متعلقہ افراد کو ایئرپورٹ آنے سے گریز کرنے کی ہدایت کی گئی ہے تاکہ غیر ضروری رش سے بچا جا سکے اور سکیورٹی عملے کو اپنے فرائض کی انجام دہی میں آسانی ہو۔
اس کے علاوہ پاکستان ایئرپورٹس اتھارٹی کے ہیڈکوارٹرز اور پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز کے مرکزی دفاتر کی سکیورٹی بھی مزید سخت کر دی گئی ہے۔ حساس عمارتوں کے اطراف اضافی اہلکار تعینات کیے جا رہے ہیں اور داخلی راستوں پر نگرانی کے نظام کو مزید فعال بنایا گیا ہے۔ متعلقہ حکام کے مطابق ان اقدامات کا مقصد مجموعی سکیورٹی ماحول کو مضبوط بنانا اور کسی بھی ممکنہ خطرے کو پیشگی روکنا ہے۔
ذرائع نے بتایا کہ سول ایوی ایشن کالونی میں بھی داخلے کے قواعد سخت کر دیے گئے ہیں۔ صرف وہاں کے رہائشیوں اور متعلقہ ملازمین کو شناختی دستاویزات کی جانچ کے بعد داخلے کی اجازت ہوگی۔ غیر متعلقہ گاڑیوں کے داخلے پر مکمل پابندی عائد کی جا سکتی ہے۔ اسی طرح پی آئی اے ٹاؤن شپ کی سڑک سے ایئرپورٹ، پی آئی اے ہیڈ آفس اور پی اے ہیڈکوارٹرز جانے کی اجازت بھی محدود کر دی گئی ہے تاکہ غیر ضروری آمدورفت کو روکا جا سکے۔
حکام کے مطابق ان سکیورٹی اقدامات کے باعث ایئرپورٹ جانے والے راستوں پر چیکنگ کا عمل وقت لے سکتا ہے۔ اسی لیے تمام مسافروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اپنی پرواز کے مقررہ وقت سے خاصا پہلے ایئرپورٹ پہنچیں۔ خاص طور پر بین الاقوامی پروازوں کے مسافروں کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ کم از کم تین سے چار گھنٹے پہلے روانہ ہوں تاکہ راستے میں چیکنگ، ٹریفک یا دیگر رکاوٹوں کے باعث پرواز مس نہ ہو۔
ایئرپورٹ ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ تمام اقدامات عارضی نوعیت کے بھی ہو سکتے ہیں اور صورتحال کے مطابق ان میں ردوبدل کیا جائے گا۔ تاہم فی الوقت سکیورٹی ادارے مکمل الرٹ ہیں اور کسی قسم کی غفلت کی گنجائش نہیں رکھی جا رہی۔ سی سی ٹی وی کیمروں کے ذریعے نگرانی کو مزید مؤثر بنایا گیا ہے جبکہ حساس مقامات پر خصوصی گشت کا سلسلہ بھی بڑھا دیا گیا ہے۔
شہریوں سے بھی اپیل کی گئی ہے کہ وہ سکیورٹی اداروں کے ساتھ مکمل تعاون کریں، غیر ضروری بحث و مباحثے سے گریز کریں اور چیکنگ کے عمل کو آسان بنانے کے لیے اپنی شناختی دستاویزات اور سفری کاغذات تیار رکھیں۔ انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ یہ اقدامات شہریوں کی حفاظت اور قومی سلامتی کے پیش نظر کیے جا رہے ہیں اور عوام کا تعاون ہی ان کی کامیابی کی ضمانت ہے۔
مجموعی طور پر دیکھا جائے تو کراچی ایئرپورٹ اور اس سے متعلقہ تنصیبات کو ہائی الرٹ پر رکھا گیا ہے۔ اضافی نفری کی تعیناتی، محدود رسائی، سخت چیکنگ اور داخلی راستوں کی نگرانی جیسے اقدامات اس بات کی عکاسی کرتے ہیں کہ حکام کسی بھی ممکنہ خطرے سے نمٹنے کے لیے پیشگی تیاری کر رہے ہیں۔ مسافروں کے لیے ضروری ہے کہ وہ تازہ ہدایات سے باخبر رہیں، بروقت روانگی کا اہتمام کریں اور سکیورٹی ضوابط پر مکمل عملدرآمد کو یقینی بنائیں تاکہ سفری عمل بلا تعطل مکمل ہو سکے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں