ایران اور امریکا کے درمیان معاہدے کی امید، ٹرمپ نے بڑی پیش رفت کا اشارہ دے دیا

33

مذاکرات میں رکاوٹ دور، اہم معاہدے کی راہ ہموار

واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ جاری مذاکرات کے حوالے سے اہم بیان دیتے ہوئے کہا ہے کہ حالیہ دنوں میں پیدا ہونے والی ایک معمولی رکاوٹ کو دور کر لیا گیا ہے اور اب دونوں ممالک کے درمیان ایک اہم معاہدے کی راہ ہموار ہو چکی ہے۔

امریکی میڈیا کو دیے گئے انٹرویو میں صدر ٹرمپ نے امید ظاہر کی کہ آئندہ ایک ہفتے کے دوران ایران کے ساتھ جنگ بندی میں توسیع اور آبنائے ہرمز کو بحری آمد و رفت کے لیے دوبارہ کھولنے کے حوالے سے معاہدہ طے پا سکتا ہے۔

ایران کی ناراضی اور مذاکرات میں تعطل

صدر ٹرمپ کے مطابق مذاکرات کے دوران ایک مختصر تعطل اس وقت پیدا ہوا جب ایران نے لبنان میں اسرائیلی کارروائیوں پر شدید تحفظات کا اظہار کیا۔ ایران کا مؤقف تھا کہ خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی امن مذاکرات پر منفی اثر ڈال سکتی ہے۔

ٹرمپ نے بتایا کہ اس صورتحال کے بعد انہوں نے متعلقہ فریقوں سے فوری رابطے کیے، جس کے نتیجے میں کشیدگی میں کمی آئی اور فائرنگ کا سلسلہ رک گیا۔ ان کے مطابق یہ رکاوٹ وقتی تھی جسے سفارتی کوششوں کے ذریعے جلد ختم کر لیا گیا۔

جنگ بندی میں توسیع کا امکان

امریکی صدر کا کہنا تھا کہ اگر مذاکرات کامیاب رہے تو ایران کے ساتھ جنگ بندی کے موجودہ انتظامات کو مزید توسیع دی جا سکتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ خطے میں پائیدار امن کے لیے سفارت کاری سب سے مؤثر راستہ ہے اور امریکا اسی سمت میں پیش رفت کر رہا ہے۔

ماہرین کے مطابق اگر جنگ بندی میں توسیع ہوتی ہے تو اس سے نہ صرف خطے میں کشیدگی کم ہوگی بلکہ عالمی معیشت پر بھی مثبت اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

آبنائے ہرمز کی اہمیت

آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین بحری گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے جہاں سے عالمی سطح پر تیل کی بڑی مقدار گزرتی ہے۔ حالیہ کشیدگی کے باعث اس اہم راستے کی بندش نے عالمی منڈیوں میں بے چینی پیدا کر دی تھی۔

صدر ٹرمپ نے کہا کہ مجوزہ معاہدے کے تحت آبنائے ہرمز کو دوبارہ بحری تجارت کے لیے کھولنے کی کوشش کی جائے گی، جس سے عالمی سپلائی چین اور تیل کی ترسیل معمول پر آنے میں مدد ملے گی۔

اقتصادی ماہرین کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز کی بحالی عالمی توانائی منڈیوں کے استحکام کے لیے انتہائی اہم ثابت ہو سکتی ہے۔

امن معاہدہ فوجی کامیابی سے زیادہ اہم

ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے انٹرویو میں زور دیتے ہوئے کہا کہ ایران کے ساتھ ایک کامیاب امن معاہدہ کسی بھی فوجی کامیابی سے زیادہ اہمیت رکھتا ہے۔

ان کے مطابق جنگیں مسائل کا مستقل حل نہیں ہوتیں جبکہ سفارتی معاہدے دیرپا استحکام اور خطے میں ترقی کی بنیاد فراہم کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ امریکا خطے میں امن اور استحکام کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گا۔

بیروت میں اسرائیلی کارروائیوں پر مؤقف

صدر ٹرمپ نے واضح کیا کہ موجودہ صورتحال میں اسرائیل کی جانب سے بیروت میں کسی نئی زمینی فوجی کارروائی کا امکان نہیں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ تمام فریقوں کو تحمل اور ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا ہوگا تاکہ جاری سفارتی عمل متاثر نہ ہو۔

انہوں نے کہا کہ خطے میں کسی بھی قسم کی نئی فوجی کشیدگی مذاکراتی عمل کو نقصان پہنچا سکتی ہے، اسی لیے تمام فریقین کو محتاط رہنے کی ضرورت ہے۔

امریکا کی حکمت عملی کیا ہے؟

مذاکرات کے دوران پیش آنے والے تعطل پر بات کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ ایران کے پیغامات میں تاخیر یا خاموشی کو فوری طور پر بحران نہیں سمجھنا چاہیے۔ ان کے مطابق مذاکرات مسلسل جاری ہیں اور امریکا سفارتی راستہ اختیار کیے ہوئے ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ اس مرحلے پر امریکا کسی نئی فوجی کارروائی کا ارادہ نہیں رکھتا بلکہ وہ مناسب شرائط کے تحت ایک جامع معاہدے کا منتظر ہے۔

خطے اور عالمی معیشت پر ممکنہ اثرات

اگر ایران اور امریکا کے درمیان مجوزہ معاہدہ طے پا جاتا ہے تو اس کے اثرات مشرق وسطیٰ سے کہیں زیادہ وسیع ہوں گے۔ اس سے عالمی توانائی منڈیوں میں استحکام آئے گا، تیل کی قیمتوں میں غیر یقینی صورتحال کم ہوگی اور بین الاقوامی تجارت کو بھی فائدہ پہنچے گا۔

اسی طرح خطے میں امن کے امکانات بڑھنے سے سرمایہ کاری، اقتصادی سرگرمیوں اور سفارتی تعلقات میں بہتری کی راہ بھی ہموار ہو سکتی ہے۔

نتیجہ

ایران اور امریکا کے درمیان جاری مذاکرات ایک اہم مرحلے میں داخل ہو چکے ہیں۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حالیہ بیانات سے ظاہر ہوتا ہے کہ دونوں فریق کسی بڑے معاہدے کے قریب پہنچ رہے ہیں۔ اگر جنگ بندی میں توسیع اور آبنائے ہرمز کی بحالی پر اتفاق رائے ہو جاتا ہے تو یہ نہ صرف مشرق وسطیٰ بلکہ پوری دنیا کے لیے ایک اہم سفارتی کامیابی تصور کی جائے گی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں