واشنگٹن میں ٹرمپ کو بڑا سیاسی دھچکا
واشنگٹن (04 جون 2026) — امریکی ایوان نمائندگان نے ایران کے خلاف جاری جنگی کارروائیوں کے حوالے سے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اختیارات محدود کرنے کی قرارداد منظور کر لی ہے۔ اس پیش رفت کو نہ صرف امریکی سیاست میں ایک اہم موڑ قرار دیا جا رہا ہے بلکہ یہ صدر ٹرمپ کی خارجہ پالیسی کے لیے بھی ایک بڑا چیلنج سمجھا جا رہا ہے۔
روئٹرز کے مطابق ریپبلکن اکثریت والے ایوان نمائندگان نے بدھ کے روز اس قرارداد کی منظوری دی جس کا مقصد ایران کے خلاف جنگی کارروائیوں کو کانگریس کی منظوری سے مشروط کرنا ہے۔ قرارداد کے حق میں 215 جبکہ مخالفت میں 208 ووٹ آئے۔ حیران کن طور پر چار ریپبلکن ارکان نے بھی ڈیموکریٹس کا ساتھ دیتے ہوئے قرارداد کے حق میں ووٹ دیا۔
قرارداد میں کیا کہا گیا ہے؟
منظور شدہ قرارداد کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران کے خلاف کسی بھی قسم کی جنگی کارروائی کانگریس کی منظوری کے بغیر جاری نہیں رکھ سکیں گے۔ قرارداد میں واضح طور پر کہا گیا ہے کہ امریکی فوج کو ایران سے واپس بلایا جائے جب تک کہ کانگریس باقاعدہ طور پر جنگ کا اعلان نہ کرے یا فوجی طاقت کے استعمال کی اجازت نہ دے۔
یہ اقدام امریکی آئین میں درج اختیارات کی تقسیم کے اصول کے مطابق کانگریس کے کردار کو مضبوط بنانے کی کوشش قرار دیا جا رہا ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ جنگ اور امن کے فیصلوں میں صرف صدر کو مکمل اختیار دینا جمہوری اصولوں کے منافی ہو سکتا ہے۔
ریپبلکن پارٹی میں اختلافات نمایاں
اگرچہ صدر ٹرمپ کی جماعت ریپبلکن پارٹی کو ایوان نمائندگان اور سینیٹ دونوں میں اکثریت حاصل ہے، تاہم ایران کے معاملے پر پارٹی کے اندر اختلافات واضح طور پر سامنے آ رہے ہیں۔
قرارداد کے حق میں ووٹ دینے والے ریپبلکن ارکان میں ٹام بیرٹ، وارن ڈیوڈسن، بریان فٹزپیٹرک اور تھامس میسی شامل ہیں۔ ان ارکان کا مؤقف ہے کہ جنگ جیسے اہم فیصلوں میں کانگریس کا کردار نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔
سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق یہ ووٹنگ اس بات کا ثبوت ہے کہ ریپبلکن پارٹی کے بعض اراکین ایران کے خلاف جاری پالیسی سے مطمئن نہیں اور وہ جنگ کے مزید پھیلاؤ سے متعلق خدشات رکھتے ہیں۔
قرارداد کی آئینی حیثیت پر بحث
اگرچہ قرارداد ایوان نمائندگان سے منظور ہو چکی ہے لیکن ابھی اسے قانون بننے کے لیے سینیٹ سے بھی منظوری درکار ہوگی۔ اس کے علاوہ قانونی ماہرین کے درمیان اس بات پر بھی بحث جاری ہے کہ آیا ایسی جنگی اختیارات سے متعلق قراردادیں آئینی طور پر مکمل طور پر مؤثر ہیں یا نہیں۔
بعض ماہرین کا کہنا ہے کہ امریکی صدر بطور کمانڈر ان چیف محدود فوجی کارروائیوں کا اختیار رکھتے ہیں، جبکہ دیگر کا مؤقف ہے کہ طویل المدتی جنگی مہمات کے لیے کانگریس کی منظوری لازمی ہونی چاہیے۔
سینیٹ میں منظوری کے امکانات کم
سیاسی مبصرین کے مطابق ریپبلکن اکثریت والے سینیٹ سے اس قرارداد کی منظوری کے امکانات نسبتاً کم ہیں۔ اگر سینیٹ سے بھی یہ قرارداد منظور ہو جاتی ہے تو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو اسے ویٹو کرنے کا اختیار حاصل ہوگا۔
اسی وجہ سے فی الحال اس قرارداد کو زیادہ تر علامتی اہمیت کا حامل قرار دیا جا رہا ہے، تاہم اس کی سیاسی اہمیت سے انکار ممکن نہیں۔ یہ قرارداد اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ کانگریس کے بعض ارکان جنگی پالیسیوں پر زیادہ نگرانی چاہتے ہیں۔
ریپبلکن قیادت کی مخالفت
ایوان نمائندگان کے اسپیکر مائیک جانسن اور بیشتر ریپبلکن ارکان نے قرارداد کی مخالفت کی۔ ان کا مؤقف ہے کہ یہ اقدام ایران کے ساتھ جاری جوہری مذاکرات اور سفارتی کوششوں کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔
خارجہ امور کمیٹی کے چیئرمین برائن مست نے قرارداد پر ووٹنگ کو غیر ضروری قرار دیتے ہوئے کہا کہ موجودہ حالات میں ایسی قراردادیں امریکی مفادات کو نقصان پہنچا سکتی ہیں۔
ریپبلکن قیادت کا کہنا ہے کہ صدر کو بین الاقوامی خطرات سے نمٹنے کے لیے ضروری اختیارات حاصل ہونے چاہئیں تاکہ قومی سلامتی کو یقینی بنایا جا سکے۔
ٹرمپ انتظامیہ کے لیے نئی مشکل
سیاسی حلقوں میں اس قرارداد کو ٹرمپ انتظامیہ کی خارجہ پالیسی پر سب سے سخت جماعتی تنقید قرار دیا جا رہا ہے۔ یہ صورتحال ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ایران کے ساتھ کشیدگی اپنے عروج پر ہے اور جنگ اپنے چوتھے ماہ میں داخل ہو چکی ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق اگرچہ قرارداد فوری طور پر جنگی پالیسی تبدیل نہیں کرے گی، تاہم اس سے صدر ٹرمپ پر سیاسی دباؤ میں اضافہ ہوگا اور مستقبل میں کانگریس کی نگرانی مزید سخت ہو سکتی ہے۔
نتیجہ
امریکی ایوان نمائندگان کی جانب سے ایران کے خلاف جنگ میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اختیارات محدود کرنے کی قرارداد کی منظوری امریکی سیاست میں ایک اہم پیش رفت ہے۔ اگرچہ اس کے قانون بننے کے امکانات محدود ہیں، لیکن یہ ووٹنگ اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ کانگریس کے اندر جنگی پالیسیوں پر سنجیدہ اختلافات موجود ہیں۔ آنے والے دنوں میں سینیٹ کا ردعمل اور وائٹ ہاؤس کا مؤقف اس معاملے کی سمت کا تعین کرے گا۔