27

بجٹ ریلیف بے اثر، پنجاب میں مرغی کی قیمتوں کو پر لگ گئے، فی کلو 340 روپے تک پہنچ گئی

راولپنڈی:

وفاقی اور صوبائی بجٹ میں پولٹری مصنوعات پر کوئی نیا ٹیکس عائد نہ کیے جانے کے باوجود راولپنڈی، اسلام آباد اور پنجاب کے مختلف شہروں میں مرغی کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ قیمتوں میں حالیہ اضافے نے شہریوں کی مشکلات میں اضافہ کر دیا ہے، جبکہ روزمرہ استعمال کی اس اہم غذائی شے کی بڑھتی ہوئی قیمتیں عوام کے لیے تشویش کا باعث بن گئی ہیں۔

ہول سیل مارکیٹ میں بڑا اضافہ

مارکیٹ ذرائع کے مطابق جڑواں شہروں کی مرغی منڈی میں ہول سیل قیمت 12,400 روپے فی من تک پہنچ گئی ہے، جو حالیہ دنوں کی بلند ترین سطح سمجھی جا رہی ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ بجٹ پیش ہونے سے قبل مرغی کا ہول سیل ریٹ تقریباً 11,200 روپے فی من تھا، تاہم چند ہی روز میں اس میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔

اوپن مارکیٹ میں شہری پریشان

ہول سیل قیمتوں میں اضافے کا براہ راست اثر اوپن مارکیٹ پر بھی پڑا ہے، جہاں مرغی کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا۔

چند روز قبل تک 265 روپے فی کلو فروخت ہونے والی مرغی اب مختلف علاقوں میں 340 روپے فی کلو تک فروخت کی جا رہی ہے، جس کے باعث گھریلو صارفین کا بجٹ متاثر ہو رہا ہے۔

قیمتوں میں اضافے کی وجوہات

مارکیٹ ذرائع کے مطابق پولٹری فارم مالکان پر مشتمل تنظیموں نے گزشتہ چند روز سے قیمتوں میں اضافے کے لیے کوششیں شروع کر رکھی تھیں، جس کے بعد منڈی میں نرخوں میں مسلسل اضافہ دیکھنے میں آیا۔

پولٹری صنعت سے وابستہ افراد کا کہنا ہے کہ پیداواری لاگت، فیڈ کی قیمتوں اور دیگر اخراجات بھی قیمتوں پر اثر انداز ہوتے ہیں، تاہم صارفین کا مؤقف ہے کہ بجٹ میں کسی نئے ٹیکس کے بغیر اتنا بڑا اضافہ سمجھ سے بالاتر ہے۔

بجٹ ریلیف کا فائدہ عوام تک نہ پہنچ سکا

وفاقی اور صوبائی حکومتوں نے بجٹ میں پولٹری سیکٹر پر کوئی اضافی بوجھ نہ ڈالنے کا اعلان کیا تھا تاکہ عوام کو ریلیف فراہم کیا جا سکے، لیکن مارکیٹ میں قیمتوں کے حالیہ رجحان نے اس ریلیف کے اثرات کو محدود کر دیا ہے۔

شہریوں کا کہنا ہے کہ ضروری اشیائے خورونوش کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے باعث گھریلو اخراجات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے اور مرغی جیسی بنیادی غذائی ضرورت بھی عام آدمی کی پہنچ سے دور ہوتی جا رہی ہے۔

شہریوں کا ردعمل

مرغی کی قیمتوں میں اضافے پر خریداروں نے شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ گوشت پہلے ہی مہنگا تھا، جبکہ اب مرغی کی قیمتوں میں اضافے سے متوسط اور کم آمدنی والے طبقے کے لیے متبادل غذائی ذرائع بھی مہنگے ہو گئے ہیں۔

شہریوں نے متعلقہ اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ قیمتوں میں اضافے کی وجوہات کا جائزہ لیا جائے اور مصنوعی مہنگائی یا ذخیرہ اندوزی کی صورت میں سخت کارروائی کی جائے۔

مستقبل کی صورتحال

ماہرین کے مطابق اگر پولٹری مارکیٹ میں قیمتوں کا موجودہ رجحان برقرار رہا تو آنے والے دنوں میں مرغی اور دیگر پولٹری مصنوعات مزید مہنگی ہو سکتی ہیں۔ اس صورتحال میں حکومت، متعلقہ اداروں اور پولٹری سیکٹر کو مل کر ایسا لائحہ عمل اختیار کرنا ہوگا جس سے پیداوار اور سپلائی کے نظام کو مستحکم رکھا جا سکے اور عوام کو مناسب قیمتوں پر اشیائے خورونوش دستیاب رہیں۔

نتیجہ

راولپنڈی، اسلام آباد اور پنجاب کے مختلف علاقوں میں مرغی کی قیمتوں میں حالیہ اضافہ عوام کے لیے ایک نیا معاشی چیلنج بن گیا ہے۔ بجٹ میں ریلیف کے باوجود ہول سیل اور اوپن مارکیٹ میں قیمتوں کا بڑھنا اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ مارکیٹ کے نظام اور قیمتوں کے تعین پر مؤثر نگرانی کی ضرورت ہے تاکہ صارفین کو بلاجواز مہنگائی سے بچایا جا سکے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں