اسلام آباد: کراچی سمیت ملک بھر کے بجلی صارفین کے لیے ایک اور مہنگائی کی خبر سامنے آگئی ہے، جہاں بجلی کی قیمت میں 82 پیسے فی یونٹ تک اضافے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔ اس سلسلے میں سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی (سی پی پی اے) نے مئی 2026 کی ماہانہ فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ کی مد میں نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) کو درخواست جمع کرا دی ہے۔
نیپرا اس درخواست پر 30 جون 2026 کو سماعت کرے گا، جس کے بعد بجلی کی قیمت میں اضافے یا کمی کا حتمی فیصلہ کیا جائے گا۔ اگر درخواست منظور کر لی جاتی ہے تو ملک بھر کے صارفین پر تقریباً 12 ارب روپے سے زائد کا اضافی مالی بوجھ پڑ سکتا ہے۔
فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ کیا ہے؟
فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ بجلی کی پیداوار میں استعمال ہونے والے ایندھن کی قیمتوں میں ردوبدل کے مطابق صارفین سے اضافی وصولی یا ریلیف دینے کا ایک نظام ہے۔ جب بجلی پیدا کرنے کی لاگت مقررہ تخمینے سے زیادہ ہوجاتی ہے تو اس فرق کو صارفین کے بجلی بلوں میں شامل کیا جاتا ہے۔
سی پی پی اے کی جانب سے دائر درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ مئی 2026 کے دوران بجلی کی پیداواری لاگت تخمینے سے زیادہ رہی، جس کے باعث فی یونٹ 82 پیسے اضافی وصول کیے جانے کی ضرورت پیش آئی ہے۔
مئی میں کتنی بجلی پیدا کی گئی؟
درخواست کے مطابق مئی 2026 کے دوران ملک بھر میں 12 ارب 63 کروڑ 80 لاکھ یونٹس بجلی پیدا کی گئی۔ اس عرصے میں بجلی کی اوسط فیول لاگت 9 روپے 25 پیسے فی یونٹ رہی، جبکہ نیپرا کی جانب سے مقرر کردہ تخمینہ 8 روپے 43 پیسے فی یونٹ تھا۔
اسی فرق کی بنیاد پر بجلی کی قیمت میں اضافے کی درخواست دائر کی گئی ہے۔
بجلی کی پیداوار میں کس ذریعہ کا کتنا حصہ رہا؟
سی پی پی اے کے اعدادوشمار کے مطابق مئی کے دوران سب سے زیادہ بجلی پانی سے پیدا کی گئی، جس کا حصہ 33.27 فیصد رہا۔
اس کے علاوہ:
- مقامی کوئلہ: 11.66 فیصد
- درآمدی کوئلہ: 13.54 فیصد
- فرنس آئل: 0.16 فیصد
- مقامی گیس: 8.31 فیصد
- درآمدی ایل این جی: 11.81 فیصد
- جوہری ایندھن: 14.25 فیصد
جبکہ باقی بجلی دیگر ذرائع سے قومی گرڈ میں شامل کی گئی۔
صارفین پر کتنا بوجھ پڑے گا؟
اگر نیپرا سی پی پی اے کی درخواست منظور کر لیتا ہے تو بجلی صارفین کو آئندہ بلوں میں اضافی ادائیگی کرنا پڑ سکتی ہے۔ تخمینے کے مطابق اس فیصلے سے عوام پر تقریباً 12 ارب روپے کا اضافی مالی بوجھ عائد ہوگا۔
مہنگائی کے موجودہ دور میں بجلی کی قیمتوں میں ممکنہ اضافہ گھریلو، تجارتی اور صنعتی صارفین کے لیے مزید مشکلات پیدا کر سکتا ہے۔
مہنگائی پر کیا اثر پڑے گا؟
معاشی ماہرین کے مطابق بجلی کے نرخوں میں اضافہ صرف صارفین کے بجلی بلوں تک محدود نہیں رہتا بلکہ اس کے اثرات صنعت، زراعت، کاروبار اور روزمرہ استعمال کی اشیاء کی قیمتوں پر بھی پڑتے ہیں۔
پیداواری لاگت بڑھنے سے مختلف شعبوں میں اشیاء اور خدمات مہنگی ہونے کا خدشہ پیدا ہو جاتا ہے، جس سے مجموعی مہنگائی پر دباؤ بڑھ سکتا ہے۔
حتمی فیصلہ نیپرا کرے گا
فی الحال بجلی کی قیمت میں اضافہ حتمی نہیں ہے۔ نیپرا 30 جون کو عوامی سماعت کے دوران سی پی پی اے کے اعدادوشمار اور متعلقہ فریقین کا مؤقف سنے گا، جس کے بعد فیصلہ جاری کیا جائے گا۔
اگر درخواست مسترد یا جزوی طور پر منظور ہوتی ہے تو صارفین پر مالی بوجھ میں کمی آ سکتی ہے، جبکہ مکمل منظوری کی صورت میں بجلی کے بلوں میں اضافی چارجز شامل کیے جائیں گے۔
نتیجہ
ملک بھر کے بجلی صارفین ایک بار پھر بجلی کی قیمتوں میں اضافے کے خدشے سے دوچار ہیں۔ سی پی پی اے کی جانب سے 82 پیسے فی یونٹ اضافے کی درخواست نیپرا میں جمع کرا دی گئی ہے، جس پر 30 جون کو سماعت ہوگی۔ اگر درخواست منظور ہوتی ہے تو صارفین پر تقریباً 12 ارب روپے کا اضافی بوجھ پڑ سکتا ہے۔ تاہم بجلی کی قیمتوں میں اضافے کا حتمی فیصلہ نیپرا کی منظوری کے بعد ہی سامنے آئے گا۔