29

لاہور میں غیر ملکی خواتین سے مبینہ اغوا اور زیادتی کیس، تفتیش میں کرپٹو کرنسی کا حیران کن انکشاف

لاہور: پولیس تحقیقات نے کیس کا رخ بدل دیا

لاہور (3 جولائی 2026): لاہور میں غیر ملکی خواتین سے مبینہ اغوا اور زیادتی کے کیس میں پولیس تفتیش نے اہم موڑ اختیار کر لیا ہے۔ ابتدائی تحقیقات میں ایسے شواہد سامنے آئے ہیں جن کے مطابق یہ معاملہ صرف اغوا یا زیادتی کے الزامات تک محدود نہیں بلکہ کروڑوں روپے مالیت کے کرپٹو کرنسی تنازع سے بھی جڑا ہوا ہو سکتا ہے۔

پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ تفتیش کا دائرہ مزید وسیع کر دیا گیا ہے اور مالی لین دین سمیت مختلف پہلوؤں کا بھی باریک بینی سے جائزہ لیا جا رہا ہے۔

کرپٹو کرنسی کا 15 لاکھ ڈالر کا تنازع

پولیس ذرائع کے مطابق تحقیقات میں معلوم ہوا ہے کہ مرکزی ملزم رضا ڈار اور غیر ملکی خواتین کے درمیان تقریباً 15 لاکھ امریکی ڈالر کی مالی لین دین کا تنازع موجود تھا۔

یہ رقم پاکستانی کرنسی میں تقریباً 45 کروڑ روپے بنتی ہے، جس کے باعث دونوں فریقوں کے درمیان اختلافات شدت اختیار کر گئے تھے۔ تفتیشی حکام اس مالی معاملے سے متعلق دستاویزی شواہد اور ڈیجیٹل ریکارڈ بھی حاصل کر رہے ہیں۔

خواتین کو پاکستان بلانے کا دعویٰ

تحقیقاتی ذرائع کا کہنا ہے کہ ملزم رضا ڈار نے مبینہ طور پر رقم کی وصولی کے لیے غیر ملکی خواتین کو مختلف بہانوں سے پاکستان آنے پر آمادہ کیا۔

پولیس کے مطابق خواتین کی پاکستان آمد کے بعد پیش آنے والے واقعات کی مکمل ٹائم لائن تیار کی جا رہی ہے تاکہ معلوم کیا جا سکے کہ منصوبہ بندی کس مرحلے پر کی گئی اور اس میں کون کون شامل تھا۔

مبینہ اغوا کا ڈراما کیسے رچایا گیا؟

پولیس کے مطابق تحقیقات میں یہ بھی انکشاف ہوا ہے کہ ملزم نے مبینہ طور پر اغوا کا ایک ڈراما ترتیب دیا تاکہ مالی تنازع کو دوسری سمت دی جا سکے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ اس منصوبے کے تحت ملزم نے خود کو بھی اغوا ہونے والوں میں شامل ظاہر کیا تاکہ واقعے کو حقیقت کا رنگ دیا جا سکے اور شبہات کو دوسری جانب منتقل کیا جا سکے۔

مختلف پہلوؤں سے تحقیقات جاری

قانون نافذ کرنے والے ادارے اس کیس کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لے رہے ہیں، جن میں مالی لین دین، بین الاقوامی روابط، سفری ریکارڈ، موبائل فون ڈیٹا اور دیگر ڈیجیٹل شواہد شامل ہیں۔

تحقیقاتی ٹیم متعلقہ افراد کے بیانات بھی قلم بند کر رہی ہے تاکہ واقعے کی مکمل حقیقت سامنے لائی جا سکے۔

پولیس کا مؤقف

پولیس حکام کا کہنا ہے کہ تفتیش ابھی جاری ہے اور تمام حقائق سامنے آنے کے بعد ہی حتمی نتیجہ اخذ کیا جائے گا۔ حکام کے مطابق کسی بھی شخص کو مکمل تحقیقات سے قبل قصوروار قرار نہیں دیا جا سکتا۔

پولیس نے واضح کیا ہے کہ کیس میں سامنے آنے والے ہر نئے شواہد کو قانونی تقاضوں کے مطابق جانچا جا رہا ہے اور اگر مزید افراد کے ملوث ہونے کے ثبوت ملے تو ان کے خلاف بھی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

مزید اہم انکشافات کا امکان

تحقیقاتی ذرائع کے مطابق کیس میں مالی ریکارڈ، بین الاقوامی رابطوں اور کرپٹو کرنسی ٹرانزیکشنز کی جانچ کے بعد مزید اہم انکشافات سامنے آ سکتے ہیں۔

حکام کا کہنا ہے کہ تفتیش مکمل ہونے تک تمام امکانات کا جائزہ لیا جائے گا، جبکہ کیس کی پیش رفت پر متعلقہ ادارے مسلسل نظر رکھے ہوئے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں