استعمال شدہ سرنجوں کے دوبارہ استعمال کا الزام، 9 بچوں کی ہلاکت اور سیکڑوں متاثر ہونے کا دعویٰ، عدالت نے حکومت سندھ سے دو ہفتوں میں جواب طلب کر لیا
کراچی: سندھ ہائیکورٹ میں حکومت سندھ کے زیرِ انتظام چلنے والے کلثوم بائی ولیکا اسپتال میں مبینہ طبی غفلت کے باعث معصوم بچوں میں ایچ آئی وی (ایڈز) پھیلنے سے متعلق انتہائی اہم کیس کی سماعت ہوئی۔ درخواست گزار کی جانب سے عدالت کو بتایا گیا کہ اسپتال میں مبینہ طور پر استعمال شدہ سرنجوں کے دوبارہ استعمال کے باعث متعدد بچے ایچ آئی وی کا شکار ہوئے، جن میں سے 9 بچے جان کی بازی ہار چکے ہیں، جبکہ سیکڑوں دیگر متاثر ہونے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔
سندھ ہائیکورٹ میں حساس کیس کی سماعت
سندھ ہائیکورٹ کے آئینی بینچ نے کیس کی سماعت کرتے ہوئے معاملے کی سنگینی کو مدنظر رکھا۔ سماعت کے دوران متاثرہ بچوں اور ان کے اہل خانہ کی بڑی تعداد عدالت میں موجود تھی، جس کے باعث عدالت کا ماحول انتہائی افسردہ اور جذباتی رہا۔
عدالت نے ابتدائی سماعت کے بعد حکومت سندھ اور متعلقہ اداروں سے دو ہفتوں کے اندر تفصیلی رپورٹ طلب کرتے ہوئے آئندہ سماعت پر مکمل ریکارڈ پیش کرنے کی ہدایت کی۔
استعمال شدہ سرنجوں کے دوبارہ استعمال کا الزام
درخواست گزار کے وکیل نے عدالت کے سامنے مؤقف اختیار کیا کہ کلثوم بائی ولیکا اسپتال میں مبینہ طور پر استعمال شدہ انجیکشنز اور سرنجوں کو دوبارہ استعمال کیا گیا، جس کے نتیجے میں معصوم بچے ایچ آئی وی جیسے مہلک مرض کا شکار ہوئے۔
وکیل کے مطابق اب تک 9 بچے اس بیماری کے باعث جان کی بازی ہار چکے ہیں جبکہ سیکڑوں دیگر متاثر ہونے کا دعویٰ کیا گیا ہے، جس پر فوری اور مؤثر کارروائی کی ضرورت ہے۔
آٹھ ماہ گزرنے کے باوجود مؤثر کارروائی نہ ہونے کا دعویٰ
درخواست گزار کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ متاثرہ بچوں کی ہلاکتوں کو آٹھ ماہ گزر چکے ہیں، لیکن تاحال ذمہ داروں کے خلاف کوئی مؤثر قانونی کارروائی نہیں کی گئی۔
انہوں نے کہا کہ لیگل نوٹسز کے بعد ایک انکوائری ضرور کی گئی، تاہم اس کی رپورٹ نہ عدالت میں پیش کی جا رہی ہے اور نہ ہی متاثرہ خاندانوں کو فراہم کی گئی ہے، جس سے شفافیت پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔
یونیسف سمیت عالمی اداروں کی تشویش کا حوالہ
سماعت کے دوران درخواست گزار کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ اس معاملے پر یونیسف سمیت بین الاقوامی اداروں نے بھی تشویش ظاہر کی ہے۔ ان کے مطابق پاکستان میں بچوں میں ایچ آئی وی کے مبینہ پھیلاؤ کی صورتحال عالمی سطح پر بھی توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہے۔
جاں بحق بچوں کی ایف آئی آر درج نہ ہونے کا مؤقف
درخواست میں یہ بھی کہا گیا کہ جاں بحق ہونے والے بچوں کے مقدمات درج نہیں کیے جا رہے۔ درخواست گزار کے مطابق موجودہ قانونی طریقہ کار کے تحت صرف سیکرٹری صحت ہی اس معاملے میں ایف آئی آر درج کروانے کے مجاز ہیں، جس کے باعث متاثرہ خاندان انصاف کے حصول میں مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔
عدالت سے فوری مداخلت کی استدعا
درخواست گزار کے وکیل نے عدالت سے استدعا کی کہ اگر فوری اقدامات نہ کیے گئے تو مزید بچوں کی زندگیاں خطرے میں پڑ سکتی ہیں۔ انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ حکومت کی جانب سے مناسب کارروائی نہ ہونے کے باعث عدالت کو اس معاملے میں مؤثر کردار ادا کرنا ہوگا۔
عدالت کے ریمارکس
سماعت کے دوران بینچ کے سربراہ جسٹس عدنان الکریم میمن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ عدالت ہر معاملے کو قانون اور مقررہ طریقہ کار کے مطابق ہی دیکھتی ہے۔
انہوں نے وکیل کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ عدالت کو اپنا کام کرنے دیا جائے اور تمام متعلقہ فریقین کا مؤقف سامنے آنے کے بعد ہی کوئی قانونی نتیجہ اخذ کیا جا سکتا ہے۔
حکومت سندھ اور متعلقہ اداروں کو نوٹس
عدالت نے حکومت سندھ، محکمہ صحت اور دیگر متعلقہ فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے دو ہفتوں کے اندر تفصیلی جواب جمع کرانے کا حکم دیا۔ عدالت نے واضح کیا کہ تمام متعلقہ ریکارڈ، انکوائری رپورٹ اور دیگر دستاویزات آئندہ سماعت پر پیش کی جائیں تاکہ حقائق کا مکمل جائزہ لیا جا سکے۔
کیس کی سماعت 20 جولائی تک ملتوی
سندھ ہائیکورٹ نے کیس کی مزید سماعت 20 جولائی تک ملتوی کرتے ہوئے حکومت سندھ کو مقررہ مدت میں رپورٹ جمع کرانے کی ہدایت کی ہے۔ عدالت نے متاثرہ خاندانوں کو یقین دلایا کہ قانون کے مطابق تمام پہلوؤں کا جائزہ لیا جائے گا اور انصاف کے تقاضے پورے کیے جائیں گے۔