مانسہرہ: ٹک ٹاک ویڈیو مہنگی پڑ گئی
مانسہرہ (3 جولائی 2026): سیاحتی مقام ناران میں ٹک ٹاک اور سوشل میڈیا ریلز بنانے کے لیے ویگو ڈالا گاڑی دریائے کنہار میں اتارنے کے مقدمے میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ عدالت نے گرفتار تین ملزمان کو ضمانت پر رہا کرنے کا حکم دے دیا، جبکہ مقدمے کے مرکزی ملزم نے پہلے ہی ضمانت قبل از گرفتاری حاصل کر رکھی ہے۔
یہ واقعہ سوشل میڈیا پر بھی خاصا زیر بحث رہا، جہاں خطرناک اسٹنٹ اور سیاحوں کی غیر ذمہ دارانہ سرگرمیوں پر شدید تنقید کی گئی۔
عدالت نے تین ملزمان کو ضمانت دے دی
پولیس کے مطابق واقعے میں گرفتار کیے گئے تین سیاح، علی عثمان، محسن خان اور آصف علی کو عدالت میں پیش کیا گیا۔
عدالت نے تینوں ملزمان کو ایک، ایک لاکھ روپے کے مچلکوں اور دو، دو ضامنوں کے عوض ضمانت پر رہا کرنے کا حکم جاری کر دیا، جس کے بعد انہیں رہا کر دیا گیا۔
دفعہ 144 کی خلاف ورزی پر مقدمہ درج
پولیس کا کہنا ہے کہ ناران میں دفعہ 144 نافذ ہونے کے باوجود ٹک ٹاک ویڈیو بنانے کی غرض سے ویگو ڈالا گاڑی خطرناک انداز میں دریائے کنہار کے اندر اتاری گئی۔
اس اقدام پر ٹک ٹاکر سلطان اور ان کے تین ساتھیوں کے خلاف تھانہ ناران میں مقدمہ درج کیا گیا، جس میں سرکاری احکامات کی خلاف ورزی اور انسانی جانوں کو خطرے میں ڈالنے کی دفعات شامل کی گئیں۔
مرکزی ملزم نے پہلے ہی حفاظتی ضمانت حاصل کر لی
تحقیقات کے مطابق مقدمے کے مرکزی ملزم سلطان نے گرفتاری سے بچنے کے لیے پہلے ہی عدالت سے ضمانت قبل از گرفتاری حاصل کر رکھی ہے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ مقدمے کی مزید تفتیش جاری ہے اور تمام قانونی تقاضے مکمل کیے جا رہے ہیں۔
ویگو گاڑی پولیس کی تحویل میں
حادثے کے بعد دریائے کنہار میں ڈوبنے والی ویگو ڈالا گاڑی کو ریسکیو کارروائی کے ذریعے دریا سے نکال لیا گیا۔
پولیس نے گاڑی کو اپنی تحویل میں لے لیا ہے، جبکہ واقعے سے متعلق تکنیکی اور قانونی پہلوؤں کا بھی جائزہ لیا جا رہا ہے۔
رافٹنگ ٹیم نے سیاحوں کی جان بچا لی
حادثے کا شکار ہونے والے سیاحوں نے محفوظ رہنے پر مقامی رافٹنگ ٹیم، پولیس اور دیگر اداروں کا شکریہ ادا کیا۔
رہا ہونے والے سیاح علی عثمان نے بتایا کہ ٹک ٹاک ویڈیو بناتے ہوئے ان کی گاڑی دریائے کنہار کے تیز بہاؤ میں بہہ گئی تھی، تاہم موقع پر موجود رافٹنگ ٹیم نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے تمام افراد کو بحفاظت باہر نکال لیا۔
انہوں نے کہا کہ اگر ریسکیو ٹیم فوری مدد نہ کرتی تو بڑا جانی نقصان بھی ہو سکتا تھا۔
مقامی عوام اور اداروں کا شکریہ
علی عثمان نے پولیس، ریسکیو اہلکاروں اور ناران کے مقامی شہریوں کا خصوصی شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ مشکل وقت میں سب نے بھرپور تعاون کیا اور ہر ممکن مدد فراہم کی۔
ان کے مطابق مقامی لوگوں کے مثبت رویے نے انہیں اس مشکل صورتحال سے نکلنے میں حوصلہ دیا۔
سیاحوں کے نام اہم پیغام
حادثے کے بعد سیاحوں نے دیگر افراد کو بھی احتیاط برتنے کا مشورہ دیا ہے۔
علی عثمان نے ناران اور دیگر سیاحتی مقامات پر آنے والے لوگوں سے اپیل کی کہ وہ سوشل میڈیا پر شہرت حاصل کرنے یا ویوز کے لیے اپنی اور دوسروں کی جان خطرے میں نہ ڈالیں۔
انہوں نے کہا کہ دریاؤں، جھیلوں اور دیگر قدرتی مقامات پر خطرناک اسٹنٹ یا ویڈیوز بنانے سے گریز کیا جائے اور ہمیشہ انتظامیہ کی ہدایات پر عمل کیا جائے تاکہ کسی ناخوشگوار واقعے سے بچا جا سکے۔
انتظامیہ کی وارننگ
ضلعی انتظامیہ اور پولیس نے بھی سیاحوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ دفعہ 144 سمیت تمام حفاظتی احکامات پر عمل کریں۔ حکام کا کہنا ہے کہ آئندہ بھی ایسے خطرناک اقدامات کرنے والوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی جاری رہے گی تاکہ سیاحتی مقامات پر انسانی جانوں کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔