31

16 سال سے کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا استعمال پر پابندی کی قرارداد پنجاب اسمبلی میں جمع

بچوں کو سائبر بُلیئنگ، ڈیجیٹل استحصال اور نامناسب مواد سے محفوظ رکھنے کے لیے مؤثر قانون سازی اور عمر کی تصدیق کے نظام کا مطالبہ۔


پنجاب اسمبلی میں بچوں کی آن لائن حفاظت سے متعلق اہم قرارداد

پنجاب اسمبلی میں 16 سال سے کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا استعمال پر پابندی اور صارفین کی عمر کی مؤثر تصدیق کے نظام سے متعلق ایک اہم قرارداد جمع کرا دی گئی ہے۔ اس قرارداد کا مقصد بچوں کو آن لائن دنیا میں درپیش مختلف خطرات سے محفوظ بنانا اور ان کے لیے ایک محفوظ ڈیجیٹل ماحول فراہم کرنا ہے۔

یہ قرارداد رکن پنجاب اسمبلی اور چیئرپرسن چائلڈ پروٹیکشن اینڈ ویلفیئر بیورو پنجاب سارہ احمد کی جانب سے پیش کی گئی، جس میں وفاقی حکومت اور متعلقہ اداروں سے فوری قانون سازی کا مطالبہ کیا گیا ہے۔


قرارداد میں کیا مطالبہ کیا گیا؟

قرارداد میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ کم عمر بچوں کی سوشل میڈیا تک غیر محدود رسائی انہیں مختلف آن لائن خطرات سے دوچار کر سکتی ہے، اس لیے ضروری ہے کہ ایسے مؤثر قوانین متعارف کرائے جائیں جن کے ذریعے 16 سال سے کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا استعمال کو منظم کیا جا سکے۔

اس کے ساتھ ساتھ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر صارفین کی عمر کی تصدیق (Age Verification) کے لیے ایک مؤثر اور قابلِ اعتماد نظام متعارف کرانے کی بھی سفارش کی گئی ہے۔


بچوں کو کن خطرات سے بچانے کی ضرورت ہے؟

قرارداد میں کہا گیا ہے کہ موجودہ دور میں بچے انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا کا بہت زیادہ استعمال کر رہے ہیں، جس کے نتیجے میں انہیں مختلف آن لائن خطرات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

ان خطرات میں سائبر بُلیئنگ، ڈیجیٹل استحصال، نامناسب اور غیر اخلاقی مواد تک رسائی، جعلی اکاؤنٹس، آن لائن دھوکہ دہی اور ذہنی دباؤ جیسے مسائل شامل ہیں۔

ماہرین کے مطابق کم عمر بچوں کی ذہنی اور جذباتی نشوونما پر ایسے منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں، جن سے بچاؤ کے لیے مناسب قانون سازی اور والدین کی نگرانی ضروری ہے۔


وفاقی حکومت اور پی ٹی اے سے مطالبات

قرارداد میں وفاقی حکومت اور پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (PTA) سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ کم عمر صارفین کے سوشل میڈیا استعمال کی نگرانی، ضابطہ کار اور عمر کی تصدیق کے لیے جدید اور مؤثر نظام قائم کیا جائے۔

اس کے علاوہ متعلقہ اداروں سے یہ بھی کہا گیا ہے کہ سوشل میڈیا کمپنیوں کے ساتھ مل کر ایسے اقدامات کیے جائیں جن کے ذریعے بچوں کی آن لائن حفاظت کو یقینی بنایا جا سکے۔


دیگر ممالک کی مثالیں

قرارداد میں اس بات کی نشاندہی بھی کی گئی ہے کہ دنیا کے مختلف ممالک پہلے ہی بچوں کی آن لائن حفاظت کے لیے قوانین متعارف کرا چکے ہیں۔

دستاویز کے مطابق آسٹریلیا، فرانس، چین اور امریکہ کی بعض ریاستوں میں کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا استعمال، عمر کی تصدیق اور آن لائن تحفظ سے متعلق مختلف قوانین اور ضوابط نافذ کیے جا چکے ہیں۔

قرارداد میں تجویز دی گئی کہ پاکستان بھی عالمی تجربات سے فائدہ اٹھاتے ہوئے بچوں کے تحفظ کے لیے مؤثر قانون سازی کرے۔


سارہ احمد کا مؤقف

قرارداد پیش کرتے ہوئے سارہ احمد نے کہا کہ ہر بچے کو محفوظ ڈیجیٹل ماحول فراہم کرنا ریاست کی ذمہ داری ہے۔

ان کے مطابق جدید ٹیکنالوجی کے فوائد سے انکار ممکن نہیں، تاہم بچوں کو اس کے منفی اثرات سے محفوظ رکھنے کے لیے بروقت اور مؤثر قانون سازی ناگزیر ہو چکی ہے۔

انہوں نے اس امید کا اظہار بھی کیا کہ متعلقہ ادارے اس معاملے کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے ضروری اقدامات کریں گے۔


ماہرین کی رائے

ڈیجیٹل سیکیورٹی اور بچوں کے حقوق پر کام کرنے والے ماہرین کا کہنا ہے کہ صرف پابندی کافی نہیں بلکہ والدین کی رہنمائی، ڈیجیٹل تعلیم، اسکولوں میں آگاہی پروگرام اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کی ذمہ داری بھی اتنی ہی اہم ہے۔

ان کے مطابق اگر عمر کی تصدیق کا مؤثر نظام متعارف کرایا جائے اور بچوں کے لیے محفوظ آن لائن ماحول بنایا جائے تو سائبر جرائم اور ڈیجیٹل استحصال کے کئی خطرات کو کم کیا جا سکتا ہے۔


نتیجہ

پنجاب اسمبلی میں جمع کرائی گئی قرارداد نے بچوں کی آن لائن حفاظت، سوشل میڈیا کے محفوظ استعمال اور ڈیجیٹل قوانین کی ضرورت پر ایک اہم بحث کا آغاز کر دیا ہے۔ قرارداد میں 16 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا کے استعمال پر مؤثر ضابطہ کار، عمر کی تصدیق کے نظام اور قانون سازی کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ اگر اس حوالے سے مؤثر اقدامات کیے جاتے ہیں تو بچوں کے لیے زیادہ محفوظ اور ذمہ دار ڈیجیٹل ماحول فراہم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں