لانڈھی جیل میں ہونے والی دوستی نے خطرناک ڈکیت گینگ کی بنیاد رکھی، گرفتار ملزمان نے دورانِ تفتیش کئی راز اگل دیے
ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں تفتیش نے نئے حقائق سامنے لا دیے
کراچی (16 جولائی 2026): ڈاکٹر آکاش قتل کیس کی تحقیقات میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ پولیس کی جانب سے گرفتار کیے گئے تین ملزمان نے دورانِ تفتیش واردات کی منصوبہ بندی، گینگ کے سربراہ، رقم کی تقسیم اور دیگر ساتھیوں کے کردار سے متعلق اہم انکشافات کیے ہیں۔ پولیس ذرائع کے مطابق ملزمان کے بیانات نے اس ہائی پروفائل کیس کے کئی اہم پہلوؤں سے پردہ اٹھا دیا ہے، جبکہ مزید گرفتاریاں بھی متوقع ہیں۔
گینگ کا سرغنہ کون تھا؟
پولیس ذرائع کے مطابق ڈکیت گینگ کا سرغنہ اسلم عرف بابا ہے، جو قائد آباد کا رہائشی بتایا جاتا ہے۔ تفتیش سے معلوم ہوا کہ واردات کے روز اسلم عرف بابا خود موقع پر موجود نہ ہونے کے باوجود گاڑی میں بیٹھ کر اپنے ساتھیوں کو مسلسل ہدایات دے رہا تھا۔ اسی گاڑی میں دیگر ملزمان کے ساتھ ایک خاتون بھی موجود تھی، جو پورے آپریشن کے دوران ان کے ساتھ رہی۔
ڈاکٹر آکاش کی گاڑی کا مسلسل تعاقب کیا گیا
تحقیقات کے مطابق ملزمان نے واردات سے قبل ڈاکٹر آکاش کی گاڑی کا باقاعدہ تعاقب کیا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ گینگ نے پہلے سے منصوبہ بندی کر رکھی تھی اور مناسب موقع ملتے ہی ڈکیتی کی کوشش کی گئی، جو مزاحمت کے بعد فائرنگ اور قتل کی واردات میں تبدیل ہو گئی۔ تفتیشی حکام اس بات کا بھی جائزہ لے رہے ہیں کہ آیا ملزمان نے پہلے سے ڈاکٹر آکاش کو نشانہ بنانے کا منصوبہ بنایا تھا یا وہ صرف موقع کی تلاش میں تھے۔
واردات کے بعد رقم کیسے تقسیم ہوئی؟
پولیس ذرائع کے مطابق واردات کے فوراً بعد لوٹی گئی رقم آپس میں تقسیم کر دی گئی۔ ایک ملزم کے حصے میں ایک لاکھ پچیس ہزار روپے آئے، جبکہ رام چند کو ستر ہزار روپے دیے گئے۔ مزید انکشاف ہوا کہ تیس ہزار روپے مکان مالک کو بھی دیے گئے۔ پولیس اس بات کی بھی تحقیقات کر رہی ہے کہ مکان مالک واردات سے آگاہ تھا یا نہیں۔
لوٹی گئی رقم گاؤں کیسے پہنچائی گئی؟
تفتیش کے دوران معلوم ہوا کہ لوٹی گئی رقم ملزم کے بھائی کشور کے پاس گاؤں بھجوائی گئی۔ پولیس کے مطابق اس مقصد کے لیے ایزی پیسہ شاپ کا استعمال کیا گیا تاکہ رقم آسانی سے منتقل کی جا سکے۔ اب تفتیشی ادارے مالی لین دین کا مکمل ریکارڈ حاصل کر رہے ہیں تاکہ رقم کی منتقلی کے تمام شواہد اکٹھے کیے جا سکیں۔
لانڈھی جیل میں دوستی، پھر خطرناک گینگ کی تشکیل
پولیس ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ رام چند اور اسلم عرف بابا کی ملاقات لانڈھی جیل میں ہوئی تھی۔ دونوں کے درمیان 2021 میں دوستی ہوئی، جو بعد ازاں ایک منظم ڈکیت گینگ کی صورت اختیار کر گئی۔ جیل سے رہائی کے بعد دونوں نے مختلف ساتھیوں کو شامل کر کے وارداتوں کا سلسلہ شروع کیا، جس میں بینکوں کے باہر شہریوں کو نشانہ بنایا جاتا تھا۔
رام چند کا اعتراف، ایک ماہ میں تین ڈکیتیاں
دورانِ تفتیش ملزم رام چند نے اعتراف کیا کہ صرف موجودہ ماہ کے دوران بینکوں کے باہر تین مختلف ڈکیتیوں میں ملوث رہا ہے۔ پولیس کے مطابق اس اعتراف کے بعد دیگر مقدمات کا ریکارڈ بھی کھنگالا جا رہا ہے تاکہ گینگ کی مزید وارداتوں کا سراغ لگایا جا سکے۔ رام چند قائد آباد کا رہائشی ہے اور فرمان نامی شخص کے گھر کرایہ دار تھا۔
مزید ملزمان کی گرفتاری کا امکان
تفتیشی حکام کا کہنا ہے کہ گرفتار ملزمان کے بیانات کی روشنی میں گینگ کے دیگر ارکان کی تلاش جاری ہے۔ مختلف علاقوں میں چھاپے مارے جا رہے ہیں اور امید ہے کہ جلد مزید گرفتاریاں عمل میں آئیں گی۔ پولیس اس کیس کے تمام پہلوؤں کی باریک بینی سے تحقیقات کر رہی ہے تاکہ تمام ذمہ داروں کو قانون کے کٹہرے میں لایا جا سکے۔
کراچی میں بڑھتے جرائم پر تشویش
ڈاکٹر آکاش قتل کیس نے کراچی میں بڑھتی ہوئی اسٹریٹ کرائم کی وارداتوں پر ایک بار پھر سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ شہری حلقوں کا کہنا ہے کہ بینکوں کے باہر ہونے والی ڈکیتیوں کی روک تھام کے لیے مزید مؤثر سیکیورٹی اقدامات کی ضرورت ہے۔ ماہرین کے مطابق جدید نگرانی، پولیس گشت میں اضافہ اور منظم جرائم پیشہ گروہوں کے خلاف سخت کارروائیاں ہی ایسے واقعات کی روک تھام میں مددگار ثابت ہو سکتی ہیں۔
نتیجہ
ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں ہونے والے انکشافات نے واضح کر دیا ہے کہ یہ ایک منظم ڈکیت گینگ کی کارروائی تھی، جس کی منصوبہ بندی پہلے سے کی گئی تھی۔ پولیس کی تحقیقات تیزی سے آگے بڑھ رہی ہیں اور امید ظاہر کی جا رہی ہے کہ تمام ملزمان کو جلد گرفتار کر کے قانون کے مطابق سزا دلوائی جائے گی۔