25

گلگت بلتستان اسمبلی کا تاریخی مطالبہ، عبوری صوبائی حیثیت دینے کی قرارداد منظور

آئینی ترمیم، مساوی حقوق اور قومی نمائندگی کا مطالبہ، پاک فوج سے اظہارِ یکجہتی کی قرارداد بھی متفقہ طور پر منظور

گلگت بلتستان اسمبلی کا اہم آئینی اقدام

گلگت بلتستان اسمبلی نے ایک اہم پیش رفت کرتے ہوئے خطے کو عبوری صوبائی حیثیت دینے سے متعلق مشترکہ قرارداد منظور کر لی۔ قرارداد میں وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ آئین میں مناسب ترمیم کے ذریعے گلگت بلتستان کو عبوری صوبہ قرار دیا جائے تاکہ یہاں کے عوام کو پاکستان کے دیگر صوبوں کے برابر آئینی، سیاسی اور جمہوری حقوق حاصل ہو سکیں۔ اس اقدام کو خطے کی سیاسی تاریخ میں ایک اہم سنگ میل قرار دیا جا رہا ہے۔

عبوری صوبائی حیثیت کا مطالبہ

اسمبلی میں منظور ہونے والی قرارداد میں واضح کیا گیا کہ گلگت بلتستان کے عوام کئی دہائیوں سے مکمل آئینی شناخت اور مساوی حقوق کے منتظر ہیں۔ ارکان اسمبلی نے زور دیا کہ عبوری صوبائی حیثیت سے نہ صرف عوام کے بنیادی حقوق کو تحفظ ملے گا بلکہ وفاقی سطح پر بھی ان کی نمائندگی مزید مؤثر اور مضبوط ہوگی۔ قرارداد میں اس بات پر بھی زور دیا گیا کہ آئینی اصلاحات کے ذریعے خطے کو قومی دھارے میں مزید مضبوط انداز میں شامل کیا جائے۔

آئینی، سیاسی اور جمہوری حقوق کی فراہمی

قرارداد کے متن میں وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا گیا کہ گلگت بلتستان کے عوام کو دیگر صوبوں کی طرح مکمل آئینی، سیاسی اور جمہوری حقوق دیے جائیں۔ ارکان اسمبلی نے مؤقف اختیار کیا کہ قومی ترقی میں خطے کے عوام کا کردار ہمیشہ اہم رہا ہے، اس لیے انہیں بھی برابر کے حقوق اور آئینی تحفظ فراہم کیا جانا چاہیے۔ قرارداد میں اس امر پر بھی زور دیا گیا کہ مستقبل کی قانون سازی میں گلگت بلتستان کے عوام کی رائے کو بھرپور اہمیت دی جائے۔

قومی سطح پر مؤثر نمائندگی کی ضرورت

اسمبلی نے اس بات پر زور دیا کہ گلگت بلتستان کو قومی اداروں میں مؤثر نمائندگی دی جائے تاکہ خطے کے عوام کے مسائل اور ترقیاتی ضروریات بہتر انداز میں اجاگر ہو سکیں۔ ارکان کا کہنا تھا کہ قومی فیصلوں میں شمولیت سے نہ صرف عوام کا اعتماد بڑھے گا بلکہ ملکی ترقی میں خطے کا کردار بھی مزید مضبوط ہوگا۔

پاک فوج سے اظہارِ یکجہتی کی قرارداد منظور

گلگت بلتستان اسمبلی کے اجلاس میں پاک فوج سے اظہارِ یکجہتی کی ایک الگ قرارداد بھی متفقہ طور پر منظور کی گئی۔ ایوان نے ملکی دفاع، امن و استحکام اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاک فوج کی خدمات کو سراہتے ہوئے افواجِ پاکستان اور شہداء کی قربانیوں کو زبردست خراجِ تحسین پیش کیا۔ ارکان اسمبلی نے کہا کہ ملکی سلامتی اور قومی یکجہتی کے لیے سیکیورٹی فورسز کی خدمات ہمیشہ قابلِ قدر رہیں گی۔

فوج مخالف بیانات کی مذمت

اسمبلی نے قرارداد کے ذریعے پاک فوج کے خلاف دیے جانے والے بیانات کی شدید الفاظ میں مذمت کی۔ ارکان نے اس عزم کا اظہار کیا کہ قومی اداروں کے احترام اور ملکی سلامتی کے تحفظ کے لیے ہر سطح پر مثبت کردار ادا کیا جائے گا۔ ایوان نے اس بات پر بھی زور دیا کہ قومی اتحاد اور یکجہتی ہی ملک کی ترقی اور استحکام کی ضمانت ہے۔

شہداء کی قربانیوں کو خراجِ تحسین

قرارداد میں شہداء اور سیکیورٹی اہلکاروں کی قربانیوں کو قوم کا سرمایہ قرار دیتے ہوئے کہا گیا کہ ملک کے دفاع اور امن کے لیے جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والوں کی خدمات ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔ ارکان اسمبلی نے شہداء کے خاندانوں کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار بھی کیا اور ان کی قربانیوں کو ناقابلِ فراموش قرار دیا۔

سیاسی اور آئینی اہمیت

ماہرین کے مطابق گلگت بلتستان اسمبلی کی جانب سے عبوری صوبائی حیثیت سے متعلق قرارداد کی منظوری آئینی اور سیاسی اعتبار سے ایک اہم پیش رفت ہے۔ اگر اس حوالے سے آئینی ترمیم عمل میں آتی ہے تو خطے کے عوام کو نمائندگی، قانون سازی اور آئینی حقوق کے حوالے سے نئی راہیں کھل سکتی ہیں۔ تاہم اس معاملے پر حتمی فیصلہ پارلیمنٹ اور وفاقی حکومت کی آئینی کارروائی کے بعد ہی ممکن ہوگا۔

نتیجہ

گلگت بلتستان اسمبلی نے عبوری صوبائی حیثیت، مساوی آئینی حقوق اور قومی نمائندگی کے مطالبات پر مبنی مشترکہ قرارداد منظور کر کے ایک اہم سیاسی پیغام دیا ہے۔ ساتھ ہی پاک فوج سے اظہارِ یکجہتی اور شہداء کو خراجِ تحسین پیش کرنے کی قرارداد نے قومی یکجہتی کے عزم کو بھی اجاگر کیا۔ اب نگاہیں وفاقی حکومت اور پارلیمنٹ پر مرکوز ہیں کہ وہ اس مطالبے پر آئینی سطح پر کیا پیش رفت کرتی ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں