35

ایران پر امریکی حملوں اور مشرقِ وسطیٰ کی کشیدگی کے باعث عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ

تعارف

بین الاقوامی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتوں میں ایک بار پھر نمایاں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ امریکہ کی جانب سے ایران پر نئے حملوں اور بحیرۂ احمر میں حوثیوں کی سرگرمیوں نے عالمی توانائی کی منڈی کو شدید متاثر کیا ہے۔ سرمایہ کاروں میں خدشات بڑھنے کے باعث برینٹ اور ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) خام تیل کی قیمتیں کئی ہفتوں کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہیں۔ ماہرین کے مطابق اگر مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی برقرار رہی تو آنے والے دنوں میں عالمی منڈی میں تیل مزید مہنگا ہو سکتا ہے، جس کے اثرات پاکستان سمیت دنیا بھر کی معیشتوں پر پڑ سکتے ہیں۔


امریکہ کے ایران پر نئے حملوں کے بعد عالمی منڈی میں بے چینی

امریکی افواج کی جانب سے ایران پر کیے گئے نئے حملوں نے عالمی سطح پر ایک مرتبہ پھر تشویش کی لہر دوڑا دی ہے۔ مشرقِ وسطیٰ دنیا میں خام تیل کی پیداوار کا سب سے اہم خطہ سمجھا جاتا ہے، اس لیے یہاں کسی بھی قسم کی فوجی کشیدگی براہِ راست عالمی توانائی کی مارکیٹ کو متاثر کرتی ہے۔

سرمایہ کاروں کو خدشہ ہے کہ اگر یہ تنازع مزید شدت اختیار کرتا ہے تو تیل کی سپلائی متاثر ہو سکتی ہے، جس کے نتیجے میں عالمی منڈی میں قیمتیں مزید بڑھ سکتی ہیں۔


بحیرۂ احمر میں حوثیوں کی کارروائیاں بھی قیمتوں میں اضافے کی وجہ

یمن کے حوثیوں کی جانب سے بحیرۂ احمر میں آئل ٹینکروں کو نشانہ بنائے جانے کے واقعات نے عالمی شپنگ روٹس کو خطرات سے دوچار کر دیا ہے۔

بحیرۂ احمر دنیا کی اہم ترین سمندری گزرگاہوں میں شامل ہے جہاں سے روزانہ لاکھوں بیرل خام تیل مختلف ممالک تک پہنچایا جاتا ہے۔ ان حملوں کے بعد شپنگ کمپنیوں نے اضافی حفاظتی اقدامات شروع کر دیے ہیں جبکہ کئی جہازوں نے متبادل راستے اختیار کیے ہیں، جس سے سپلائی کی لاگت بھی بڑھ رہی ہے۔


برینٹ خام تیل کی قیمت 96 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی

تازہ ترین کاروباری سیشن میں برینٹ خام تیل کی قیمت میں 1.97 فیصد یعنی تقریباً 1.93 ڈالر فی بیرل اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

اس اضافے کے بعد برینٹ خام تیل 96 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گیا، جو 8 جون کے بعد بلند ترین سطح قرار دی جا رہی ہے۔

اس سے ایک روز قبل بھی برینٹ خام تیل کی قیمت میں تین ڈالر سے زائد اضافہ ہوا تھا اور مارکیٹ 94.07 ڈالر فی بیرل پر بند ہوئی تھی، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ مسلسل دوسرے روز قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔


امریکی خام تیل (WTI) بھی مہنگا ہوگیا

امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) خام تیل کی قیمت میں بھی نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

اعداد و شمار کے مطابق WTI کی قیمت میں 1.46 فیصد یعنی تقریباً 1.44 ڈالر فی بیرل اضافہ ہوا، جس کے بعد اس کی قیمت 88 ڈالر سے زائد ہو گئی۔

گزشتہ روز بھی WTI کی قیمت میں تقریباً تین فیصد اضافہ دیکھا گیا تھا، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ عالمی سرمایہ کار تیل کی سپلائی سے متعلق خدشات کو سنجیدگی سے لے رہے ہیں۔


مشرقِ وسطیٰ کی کشیدگی عالمی معیشت کے لیے خطرہ

ماہرین معاشیات کا کہنا ہے کہ اگر ایران، امریکہ اور حوثیوں کے درمیان جاری کشیدگی مزید بڑھتی ہے تو عالمی معیشت پر اس کے منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

تیل کی قیمتوں میں اضافے سے نہ صرف ایندھن مہنگا ہوگا بلکہ ٹرانسپورٹ، صنعت، بجلی کی پیداوار اور اشیائے خورونوش کی قیمتیں بھی متاثر ہو سکتی ہیں۔

عالمی مہنگائی میں اضافے کا خدشہ بھی بڑھ رہا ہے، جس سے ترقی پذیر ممالک کو زیادہ مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔


پاکستان پر ممکنہ اثرات

پاکستان اپنی توانائی کی ضروریات کا بڑا حصہ درآمدی خام تیل سے پورا کرتا ہے، اس لیے عالمی منڈی میں قیمتوں میں اضافے کے اثرات براہِ راست ملکی معیشت پر پڑتے ہیں۔

اگر خام تیل مسلسل مہنگا ہوتا رہا تو حکومت کو پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کرنا پڑ سکتا ہے، جس سے عوام پر مالی بوجھ مزید بڑھ جائے گا۔

اس کے علاوہ درآمدی بل میں اضافہ، روپے پر دباؤ اور مہنگائی کی نئی لہر بھی پیدا ہو سکتی ہے۔


ماہرین کی رائے اور مستقبل کا منظرنامہ

توانائی کے شعبے سے وابستہ ماہرین کا کہنا ہے کہ آنے والے دنوں میں عالمی مارکیٹ کی سمت کا انحصار مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال پر ہوگا۔

اگر کشیدگی کم ہوئی تو خام تیل کی قیمتوں میں استحکام آ سکتا ہے، لیکن اگر تنازع مزید شدت اختیار کرتا ہے یا سپلائی میں رکاوٹ پیدا ہوتی ہے تو برینٹ خام تیل 100 ڈالر فی بیرل کی سطح بھی عبور کر سکتا ہے۔

سرمایہ کار اس وقت عالمی سیاسی صورتحال، امریکی پالیسیوں، ایران کے ردعمل اور بحیرۂ احمر کی سیکیورٹی پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔


نتیجہ

عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں حالیہ اضافہ صرف ایک معاشی خبر نہیں بلکہ دنیا بھر کی معیشتوں کے لیے ایک اہم اشارہ ہے۔ امریکہ اور ایران کے درمیان بڑھتی کشیدگی، بحیرۂ احمر میں حوثیوں کی کارروائیاں اور سپلائی کے خدشات نے توانائی کی عالمی مارکیٹ کو غیر یقینی صورتحال سے دوچار کر دیا ہے۔ اگر موجودہ حالات برقرار رہے تو تیل کی قیمتوں میں مزید اضافہ ممکن ہے، جس کے اثرات پاکستان سمیت دنیا بھر میں مہنگائی، ایندھن کی قیمتوں اور اقتصادی سرگرمیوں پر نمایاں طور پر محسوس کیے جا سکتے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں