36

سورینج کان سانحہ: بند کی گئی کوئلے کی کان دوبارہ کیسے چلتی رہی؟ 34 کان کن جاں بحق، تحقیقات کا حکم

تعارف

بلوچستان کے ضلع کوئٹہ کے نواحی علاقے سورینج میں کوئلے کی کان میں ہونے والے خوفناک دھماکے نے ایک بار پھر کان کنوں کی حفاظت، حکومتی نگرانی اور کان کنی کے نظام پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ اس افسوسناک حادثے میں 34 کان کن جان کی بازی ہار گئے، جبکہ بعد ازاں یہ انکشاف بھی سامنے آیا کہ متعلقہ کان کو گزشتہ سال حفاظتی خدشات کے باعث بند کرایا گیا تھا۔ اپوزیشن لیڈر خیبرپختونخوا اسمبلی ڈاکٹر عباد نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کان کے مالک کے خلاف پہلے ہی ایف آئی آر درج کرائی گئی تھی، تاہم اس کے باوجود کان دوبارہ فعال ہو گئی۔

سورینج میں المناک حادثہ

کوئٹہ کے نواحی علاقے سورینج میں کوئلے کی کان میں گیس بھرنے کے باعث اچانک زوردار دھماکا ہوا، جس کے نتیجے میں کان کے اندر کام کرنے والے 34 مزدور جاں بحق ہو گئے۔

ریسکیو ٹیموں نے کئی گھنٹوں کی کارروائی کے بعد لاشوں کو کان سے نکالا، جبکہ یہ سانحہ بلوچستان کی حالیہ تاریخ کے بدترین کان حادثات میں شمار کیا جا رہا ہے۔

بند کان دوبارہ کیسے کھولی گئی؟

اپوزیشن لیڈر خیبرپختونخوا اسمبلی ڈاکٹر عباد نے حیران کن انکشاف کرتے ہوئے کہا کہ اسی کان کو گزشتہ سال حفاظتی وجوہات کی بنیاد پر بند کرایا گیا تھا۔

ان کے مطابق اس کان میں اس سے پہلے بھی جان لیوا حادثہ پیش آیا تھا، جس کے بعد متعلقہ حکام نے کارروائی کرتے ہوئے اسے بند کر دیا تھا۔

اب سوال یہ پیدا ہو رہا ہے کہ جب کان بند تھی تو اسے دوبارہ کس کی اجازت سے چلایا گیا اور حفاظتی اصولوں پر کیوں عمل نہیں کیا گیا۔

مالک کے خلاف ایف آئی آر بھی درج تھی

ڈاکٹر عباد نے بتایا کہ کان کے مالک کے خلاف گزشتہ حادثے کے بعد ایف آئی آر بھی درج کرائی گئی تھی۔

ان کا کہنا تھا کہ اگر قانون پر مؤثر عمل درآمد کیا جاتا اور ذمہ داروں کے خلاف سخت کارروائی ہوتی تو شاید آج 34 خاندان اپنے پیاروں سے محروم نہ ہوتے۔

انہوں نے مطالبہ کیا کہ اس سانحے کے تمام ذمہ دار افراد کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے۔

حکومت کی جانب سے تحقیقات کا حکم

ڈاکٹر عباد نے بتایا کہ وہ وزیراعلیٰ بلوچستان اور چیف سیکریٹری بلوچستان سے مسلسل رابطے میں ہیں۔

ان کے مطابق چیف سیکریٹری نے واقعے کی مکمل تحقیقات کا حکم دے دیا ہے تاکہ حادثے کی اصل وجوہات سامنے لائی جا سکیں اور ذمہ داروں کا تعین کیا جا سکے۔

حکومت کا کہنا ہے کہ تحقیقات شفاف انداز میں مکمل کی جائیں گی۔

متاثرہ خاندانوں کے لیے معاوضے کا اعلان

صوبائی اور وفاقی حکومتوں نے اعلان کیا ہے کہ جاں بحق کان کنوں کے لواحقین کو مالی معاوضہ فراہم کیا جائے گا۔

حکام کا کہنا ہے کہ متاثرہ خاندانوں کو ہر ممکن امداد دی جائے گی اور ان کی بحالی کے لیے بھی اقدامات کیے جائیں گے۔

تاہم مزدور تنظیموں کا مؤقف ہے کہ صرف معاوضہ کافی نہیں بلکہ مستقبل میں ایسے حادثات کی روک تھام کے لیے مؤثر قانون سازی ضروری ہے۔

شانگلہ سے تعلق رکھنے والے مزدور

حادثے میں جاں بحق ہونے والے بیشتر مزدوروں کا تعلق خیبرپختونخوا کے ضلع شانگلہ سے تھا۔

حادثے کے بعد 16 مزدوروں کی میتیں شانگلہ پہنچائی گئیں جہاں ان کی آبائی قبرستانوں میں تدفین کر دی گئی۔

تدفین کے موقع پر علاقے میں سوگ کی فضا رہی اور ہزاروں افراد نے نماز جنازہ میں شرکت کی۔

کان کنوں کے تحفظ کا مسئلہ

پاکستان میں کوئلے کی کانوں میں حفاظتی انتظامات کی کمی ایک پرانا مسئلہ ہے۔

ماہرین کے مطابق گیس کی بروقت نگرانی، جدید حفاظتی آلات، ایمرجنسی نظام اور مزدوروں کی مناسب تربیت نہ ہونے کے باعث ایسے حادثات بار بار پیش آتے ہیں۔

مزدور تنظیمیں کئی برسوں سے حکومت سے مطالبہ کر رہی ہیں کہ کان کنی کے شعبے میں عالمی معیار کے حفاظتی اصول نافذ کیے جائیں۔

عوامی اور سیاسی ردعمل

سورینج کان حادثے کے بعد سیاسی، سماجی اور مزدور تنظیموں نے شدید افسوس کا اظہار کیا ہے۔

مختلف حلقوں نے مطالبہ کیا ہے کہ اگر ثابت ہو جائے کہ بند کان کو غیر قانونی طور پر دوبارہ چلایا گیا تو اس میں ملوث تمام افراد کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔

عوام کا کہنا ہے کہ صرف تحقیقات کے اعلانات کافی نہیں بلکہ عملی اصلاحات کی ضرورت ہے تاکہ آئندہ کسی مزدور کی جان غفلت کی نذر نہ ہو۔

نتیجہ

سورینج کوئلہ کان کا المناک سانحہ نہ صرف 34 قیمتی جانوں کے ضیاع کا باعث بنا بلکہ اس نے حفاظتی نظام، حکومتی نگرانی اور قانون پر عمل درآمد کے حوالے سے بھی کئی سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ اگر واقعی یہ کان پہلے بند کی جا چکی تھی تو اس کا دوبارہ فعال ہونا ایک بڑا انتظامی سوال ہے۔ اب پوری قوم کی نظریں تحقیقات پر ہیں کہ آیا ذمہ داروں کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جاتا ہے یا یہ سانحہ بھی ماضی کے واقعات کی طرح صرف ایک فائل بن کر رہ جاتا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں