31

ایف بی آر نے جولائی کا ٹیکس ہدف عبور کر لیا، 40 ارب روپے زائد وصولیاں، مالی سال کا مضبوط آغاز

تعارف

وفاقی حکومت کو نئے مالی سال 2026-27 کے آغاز میں ایک اہم مالی کامیابی حاصل ہوئی ہے۔ فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے جولائی 2026 کے دوران مقررہ ہدف سے 40 ارب روپے زائد ٹیکس وصول کر کے مالی سال کا مثبت آغاز کیا ہے۔ سرکاری دستاویزات کے مطابق ایف بی آر نے نہ صرف ٹیکس وصولی کا ہدف حاصل کیا بلکہ مختلف شعبوں میں ریونیو کلیکشن بھی توقعات سے بہتر رہی، جسے حکومت کے لیے ایک حوصلہ افزا پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔

جولائی میں ٹیکس ہدف سے زیادہ وصولیاں

سرکاری دستاویزات کے مطابق جولائی 2026 کے لیے ایف بی آر کو 780 ارب روپے کا ٹیکس ہدف دیا گیا تھا، تاہم ادارے نے 820 ارب روپے کی نیٹ ٹیکس وصولی کر کے ہدف سے 40 ارب روپے زیادہ جمع کیے۔

یہ کارکردگی ظاہر کرتی ہے کہ نئے مالی سال کے آغاز میں ٹیکس وصولی کی رفتار حکومتی توقعات سے بہتر رہی۔

مجموعی ٹیکس کلیکشن 918 ارب روپے

دستاویزات کے مطابق جولائی کے دوران ایف بی آر نے مجموعی طور پر 918 ارب روپے ٹیکس اکٹھا کیا۔

اس دوران حکومت نے ٹیکس دہندگان کو 98 ارب روپے کے ریفنڈز بھی ادا کیے، جس کے بعد نیٹ ٹیکس کلیکشن 820 ارب روپے رہی۔

اعداد و شمار کے مطابق جولائی 2026 میں ایف بی آر نے اپنے ہدف کا تقریباً 105 فیصد حاصل کیا۔

انکم ٹیکس کی وصولی کی صورتحال

جولائی میں انکم ٹیکس کی مد میں 323 ارب روپے کا ہدف مقرر کیا گیا تھا۔

ایف بی آر نے مجموعی طور پر 343 ارب روپے انکم ٹیکس وصول کیا، تاہم 35 ارب روپے کے ریفنڈز ادا کیے گئے، جس کے بعد نیٹ انکم ٹیکس کلیکشن 308 ارب روپے رہی۔

یہ اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ انکم ٹیکس کی مجموعی وصولی مضبوط رہی، اگرچہ ریفنڈز کی ادائیگی کے باعث نیٹ وصولی ہدف سے کچھ کم رہی۔

سیلز ٹیکس سے نمایاں آمدن

سیلز ٹیکس حکومتی آمدنی کا ایک اہم ذریعہ رہا۔

جولائی کے دوران مجموعی طور پر 413 ارب روپے سیلز ٹیکس جمع کیا گیا، جبکہ حکومت نے کاروباری اداروں اور برآمد کنندگان کو 53 ارب روپے کے سیلز ٹیکس ریفنڈز بھی جاری کیے۔

اس کے بعد سیلز ٹیکس کی نیٹ آمدن حکومتی ریونیو میں اہم کردار ادا کرتی رہی۔

فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی نے بھی ہدف عبور کر لیا

فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی (FED) کی مد میں بھی ایف بی آر نے بہتر کارکردگی دکھائی۔

جولائی میں 47 ارب روپے کے مقررہ ہدف کے مقابلے میں 48 ارب روپے وصول کیے گئے، جو اس شعبے میں بھی ہدف سے بہتر نتائج کی نشاندہی کرتے ہیں۔

کسٹمز ڈیوٹی میں بھی نمایاں اضافہ

کسٹمز ڈیوٹی کی وصولی بھی حکومتی اہداف سے بہتر رہی۔

سرکاری دستاویزات کے مطابق جولائی میں 105 ارب روپے کے ہدف کے مقابلے میں 115 ارب روپے کسٹمز ڈیوٹی وصول کی گئی۔

ماہرین کے مطابق درآمدات اور کسٹمز کلیکشن میں بہتری نے مجموعی ریونیو میں اہم کردار ادا کیا۔

ریفنڈز کی بروقت ادائیگی

ایف بی آر نے جولائی کے دوران مجموعی طور پر 98 ارب روپے کے ٹیکس ریفنڈز بھی جاری کیے۔

ان میں 35 ارب روپے انکم ٹیکس جبکہ 53 ارب روپے سیلز ٹیکس ریفنڈز شامل تھے۔

کاروباری حلقوں کے مطابق بروقت ریفنڈز کی ادائیگی سے برآمدی شعبے اور صنعتوں کے لیے مالی دباؤ میں کمی آ سکتی ہے۔

حکومتی معیشت کے لیے مثبت اشارہ

مالیاتی ماہرین کے مطابق مالی سال کے پہلے ہی مہینے میں ٹیکس ہدف سے زیادہ وصولیاں حکومت کے لیے ایک مثبت اشارہ ہیں۔

اگر یہی رفتار برقرار رہی تو حکومت کے لیے بجٹ خسارہ کم کرنے، ترقیاتی منصوبوں کی مالی معاونت اور آئی ایم ایف سمیت دیگر مالیاتی اداروں کے ساتھ اہداف پورے کرنا نسبتاً آسان ہو سکتا ہے۔

تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ آنے والے مہینوں میں بھی اسی کارکردگی کو برقرار رکھنا اصل چیلنج ہوگا۔

نتیجہ

ایف بی آر کی جانب سے جولائی 2026 میں مقررہ ہدف سے 40 ارب روپے زائد ٹیکس وصول کرنا نئے مالی سال کے لیے ایک مضبوط آغاز تصور کیا جا رہا ہے۔ مجموعی طور پر 918 ارب روپے کی ٹیکس کلیکشن، بروقت ریفنڈز کی ادائیگی، اور انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس، فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی اور کسٹمز ڈیوٹی میں بہتر کارکردگی حکومت کی مالی پوزیشن کو تقویت دے سکتی ہے۔ اب توجہ اس بات پر مرکوز ہوگی کہ آیا آنے والے مہینوں میں بھی یہی رفتار برقرار رہتی ہے یا نہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں