42

انسدادِ دہشت گردی عدالت کا بڑا فیصلہ، علیمہ خانم اور عظمیٰ خان اشتہاری قرار، دائمی وارنٹ گرفتاری جاری

اسلام آباد کی انسدادِ دہشت گردی عدالت کا اہم فیصلہ

اسلام آباد: انسدادِ دہشت گردی عدالت نے سابق وزیراعظم اور بانی پی ٹی آئی کی بہنوں علیمہ خانم اور عظمیٰ خان کو اشتہاری قرار دیتے ہوئے ان کے دائمی وارنٹ گرفتاری جاری کر دیے ہیں۔ عدالت نے یہ فیصلہ 4 اکتوبر کے احتجاج سے متعلق درج مقدمے کی سماعت کے دوران سنایا، جس کے بعد کیس نے ایک نئی قانونی صورت اختیار کر لی ہے۔

عدالتی فیصلے کے بعد پولیس کو دونوں ملزمات کو گرفتار کر کے عدالت میں پیش کرنے کے مستقل احکامات جاری کر دیے گئے ہیں۔

مقدمے کی سماعت عدالت میں

انسدادِ دہشت گردی عدالت اسلام آباد میں مقدمے کی سماعت جج طاہر عباس سپرا نے کی۔ سماعت کے دوران پولیس نے عدالت کو بتایا کہ ملزمات کے خلاف اشتہاری قرار دینے کی قانونی کارروائی مکمل کر لی گئی ہے۔

پولیس نے اپنی تفصیلی رپورٹ بھی عدالت میں جمع کرائی، جس میں اشتہاری کارروائی کے تمام مراحل مکمل ہونے سے متعلق آگاہ کیا گیا۔

عدالت نے پولیس رپورٹ کا جائزہ لیا

عدالت نے پولیس کی جانب سے پیش کی گئی رپورٹ اور مقدمے کے ریکارڈ کا تفصیلی جائزہ لینے کے بعد علیمہ خانم اور عظمیٰ خان کو اشتہاری قرار دینے کا حکم جاری کیا۔

عدالتی فیصلے میں کہا گیا کہ ملزمات کی مسلسل عدم پیشی کے باعث قانونی تقاضے پورے ہونے کے بعد انہیں اشتہاری قرار دیا جا رہا ہے۔

دائمی وارنٹ گرفتاری جاری

انسدادِ دہشت گردی عدالت نے دونوں ملزمات کے دائمی وارنٹ گرفتاری بھی جاری کر دیے ہیں۔ اس فیصلے کے بعد قانون نافذ کرنے والے ادارے انہیں کسی بھی وقت گرفتار کر کے عدالت میں پیش کرنے کے پابند ہوں گے۔

قانونی ماہرین کے مطابق دائمی وارنٹ گرفتاری اس وقت جاری کیے جاتے ہیں جب ملزم مسلسل عدالت میں پیش نہ ہو اور قانونی کارروائی مکمل ہو جائے۔

جائیدادوں کی تفصیلات طلب

عدالت نے اپنے حکم میں علیمہ خانم اور عظمیٰ خان کی جائیدادوں کی مکمل تفصیلات بھی طلب کر لی ہیں۔

عدالتی حکم کے مطابق متعلقہ ادارے دونوں ملزمات کے نام پر موجود منقولہ اور غیر منقولہ اثاثوں کی معلومات عدالت میں جمع کرائیں گے تاکہ آئندہ قانونی کارروائی مکمل کی جا سکے۔

جائیداد ضبطی کی کارروائی کا امکان

عدالتی فیصلے کے بعد اب دونوں بہنوں کی جائیدادیں ضبط کرنے کی کارروائی شروع کیے جانے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔

قانون کے مطابق اگر کسی اشتہاری ملزم کی گرفتاری ممکن نہ ہو تو مخصوص قانونی مراحل کے بعد اس کی جائیداد ضبط کرنے کی کارروائی بھی عمل میں لائی جا سکتی ہے۔

پولیس کو مستقل احکامات

عدالت نے اسلام آباد پولیس کو واضح ہدایت جاری کی ہے کہ علیمہ خانم اور عظمیٰ خان کو گرفتار کر کے عدالت کے روبرو پیش کیا جائے۔

پولیس اب عدالتی احکامات کی روشنی میں دونوں ملزمات کی تلاش اور گرفتاری کے لیے مزید اقدامات کر سکتی ہے۔

مقدمے کی قانونی اہمیت

یہ مقدمہ 4 اکتوبر کے احتجاج سے متعلق درج کیا گیا تھا، جس میں مختلف افراد کے خلاف قانونی کارروائی جاری ہے۔ انسدادِ دہشت گردی عدالت میں اس کیس کی سماعت کئی مراحل سے گزر چکی ہے اور اب عدالت نے اشتہاری قرار دینے کا اہم فیصلہ سنایا ہے۔

قانونی حلقوں کے مطابق آئندہ سماعتوں میں عدالت پولیس کی پیش رفت، گرفتاری کی کوششوں اور دیگر قانونی معاملات کا بھی جائزہ لے گی۔

سیاسی اور قانونی اثرات

عدالتی فیصلے کے بعد سیاسی حلقوں میں بھی اس کیس پر مختلف آراء سامنے آ رہی ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ عدالت کے فیصلے کے بعد تمام متعلقہ کارروائیاں قانون کے مطابق آگے بڑھیں گی اور آئندہ پیش رفت عدالتی ریکارڈ اور پولیس رپورٹ کی بنیاد پر ہوگی۔

نتیجہ

اسلام آباد کی انسدادِ دہشت گردی عدالت نے 4 اکتوبر کے احتجاج سے متعلق مقدمے میں اہم پیش رفت کرتے ہوئے بانی پی ٹی آئی کی بہنوں علیمہ خانم اور عظمیٰ خان کو اشتہاری قرار دے دیا ہے۔ عدالت نے دونوں کے دائمی وارنٹ گرفتاری جاری کرنے کے ساتھ ان کی جائیدادوں کی تفصیلات بھی طلب کر لی ہیں، جبکہ پولیس کو انہیں گرفتار کر کے عدالت میں پیش کرنے کے مستقل احکامات جاری کیے گئے ہیں۔ آئندہ دنوں میں اس مقدمے میں مزید قانونی پیش رفت متوقع ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں