گلستانِ جوہر میں تفتیش کو نئی سمت مل گئی
کراچی (3 اگست 2026): گلستانِ جوہر سے نوجوان تاجر میر رضا علی کی لاش ملنے کے ہائی پروفائل کیس میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ تفتیشی حکام نے اس مقام کی سی سی ٹی وی فوٹیج حاصل کر لی ہے جہاں سے مقتول کی لاش برآمد ہوئی تھی۔ نئی فوٹیج نے کیس میں کئی اہم سوالات کھڑے کر دیے ہیں اور پولیس نے اس کی بنیاد پر تحقیقات کا دائرہ مزید وسیع کر دیا ہے۔
ویران مقام پر مشکوک موٹرسائیکل کی آمد
تفتیشی ذرائع کے مطابق حاصل کی گئی سی سی ٹی وی فوٹیج میں دیکھا جا سکتا ہے کہ 29 جولائی کی رات 3 بج کر 36 منٹ پر ایک مشکوک موٹرسائیکل گلستانِ جوہر کے ویران مقام پر آ کر رکی۔ فوٹیج کے مطابق موٹرسائیکل تقریباً 22 سیکنڈ تک اسی مقام پر موجود رہی، جس کے بعد وہاں سے روانہ ہو گئی۔
22 سیکنڈ میں لاش پھینکے جانے کا شبہ
تفتیشی حکام کا کہنا ہے کہ ابتدائی شواہد کی روشنی میں شبہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ مقتول میر رضا علی کی لاش انہی 22 سیکنڈ کے دوران مذکورہ مقام پر پھینکی گئی۔ پولیس کے مطابق علی الصبح اسی جگہ سے نوجوان تاجر کی لاش برآمد ہوئی، جس کے بعد واقعے کی تحقیقات کا آغاز کیا گیا۔
پستول کا ہولسٹر بھی جائے وقوعہ پر ملنے کا انکشاف
ذرائع کے مطابق تفتیش کے دوران یہ شبہ بھی سامنے آیا ہے کہ ملزمان لاش کے ساتھ پستول کا ہولسٹر (کور) بھی جائے وقوعہ پر پھینک کر فرار ہوئے۔ پولیس اس پہلو کا بھی باریک بینی سے جائزہ لے رہی ہے تاکہ قتل میں استعمال ہونے والے ممکنہ شواہد تک رسائی حاصل کی جا سکے۔
سی سی ٹی وی فوٹیج کی فرانزک جانچ جاری
تحقیقات سے وابستہ ذرائع کا کہنا ہے کہ سی سی ٹی وی فوٹیج کو فرانزک تجزیے کے لیے بھی بھیجا گیا ہے تاکہ موٹرسائیکل، اس کے رجسٹریشن نمبر اور اس پر سوار افراد کی شناخت ممکن بنائی جا سکے۔ پولیس مختلف مقامات کی اضافی فوٹیجز بھی اکٹھی کر رہی ہے تاکہ مشتبہ افراد کی نقل و حرکت کا مکمل ریکارڈ حاصل کیا جا سکے۔
پولیس کی مختلف پہلوؤں سے تحقیقات جاری
تفتیشی حکام کا کہنا ہے کہ کیس کے ہر پہلو کا تفصیلی جائزہ لیا جا رہا ہے۔ شواہد، ڈیجیٹل ریکارڈ، سی سی ٹی وی فوٹیجز اور فرانزک رپورٹس کی مدد سے ملزمان تک پہنچنے کی کوشش جاری ہے۔ پولیس کا مؤقف ہے کہ تحقیقات میرٹ پر آگے بڑھائی جا رہی ہیں اور حتمی نتائج سامنے آنے کے بعد ہی کسی بھی نتیجے پر پہنچا جائے گا۔