38

خواجہ آصف کا محسن نقوی سے بڑا مطالبہ، “پی سی بی میں انقلاب لا کر دکھائیں”

پی سی بی کی کارکردگی پر خواجہ آصف کی تنقید

اسلام آباد (2 اگست 2026): وزیر دفاع خواجہ آصف نے پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کی موجودہ کارکردگی پر سوالات اٹھاتے ہوئے چیئرمین پی سی بی اور وزیر داخلہ محسن نقوی سے کرکٹ بورڈ میں انقلابی اصلاحات لانے کا مطالبہ کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ پاکستان میں کرکٹ سے محبت کرنے والے شائقین بورڈ کی موجودہ کارکردگی سے مطمئن دکھائی نہیں دیتے، اس لیے عملی اقدامات کی ضرورت ہے۔

خواجہ آصف کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب محسن نقوی کی جانب سے موجودہ نظام کو ناکام قرار دیتے ہوئے نئے انتظامی یونٹس کی ضرورت پر زور دیا گیا، جس کے بعد مختلف سیاسی حلقوں میں بحث شروع ہو گئی۔


محسن نقوی کے بیان پر سیاسی ردعمل

وزیر داخلہ اور چیئرمین پی سی بی محسن نقوی نے حالیہ بیان میں موجودہ نظام کو غیر مؤثر قرار دیتے ہوئے اس میں تبدیلی اور نئے انتظامی یونٹس کی ضرورت پر زور دیا تھا۔

اس بیان کے بعد مختلف سیاسی شخصیات نے اپنی آراء کا اظہار کیا، جن میں وزیر دفاع خواجہ آصف بھی شامل ہیں۔ انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم “ایکس” پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے براہ راست پی سی بی کی کارکردگی کا حوالہ دیا۔


ایکس پر خواجہ آصف کا پیغام

خواجہ آصف نے اپنی پوسٹ میں لکھا کہ:

“نقوی صاحب! سسٹم ہر وقت ایوالو ہوتا رہتا ہے اور ہونا بھی چاہیے، نمونے کے طور پر آپ پی سی بی میں کوئی انقلاب لا کر دکھائیں۔”

ان کے اس بیان کو سوشل میڈیا پر بڑے پیمانے پر شیئر کیا جا رہا ہے، جہاں صارفین مختلف آراء کا اظہار کر رہے ہیں۔


پی سی بی کی کارکردگی پر سوالات

وزیر دفاع نے اپنی پوسٹ میں مزید کہا کہ کرکٹ کے شائقین پاکستان کرکٹ بورڈ کی موجودہ کارکردگی سے زیادہ مطمئن نظر نہیں آتے۔

ان کے مطابق اگر اصلاحات کی بات کی جا رہی ہے تو اس کا آغاز ایسے ادارے سے ہونا چاہیے جہاں مکمل انتظامی اختیارات پہلے ہی موجود ہیں۔


“پی سی بی میں مکمل اختیارات آپ کے پاس ہیں”

خواجہ آصف نے اپنی پوسٹ میں یہ نکتہ بھی اٹھایا کہ پی سی بی میں تمام انتظامی اختیارات چیئرمین کے پاس موجود ہیں۔

انہوں نے لکھا کہ:

  • پی سی بی میں کسی وزیراعظم کی رکاوٹ نہیں۔
  • پارلیمنٹ کی کوئی مداخلت نہیں۔
  • کوئی فرسودہ سیاسی نظام اصلاحات میں آڑے نہیں آتا۔

ان کا کہنا تھا کہ ایسی صورتحال میں نتائج بہتر بنانے کی پوری ذمہ داری بھی متعلقہ انتظامیہ پر عائد ہوتی ہے۔


پاکستان کرکٹ کے مسائل پر بحث

گزشتہ کچھ عرصے سے پاکستان کرکٹ کی کارکردگی، ڈومیسٹک اسٹرکچر، ٹیم کے نتائج، سلیکشن پالیسی اور بورڈ کے انتظامی فیصلے مسلسل تنقید کی زد میں رہے ہیں۔

کرکٹ ماہرین کا کہنا ہے کہ بہتر منصوبہ بندی، مضبوط ڈومیسٹک نظام، میرٹ پر فیصلے اور مستقل پالیسی ہی پاکستان کرکٹ کو دوبارہ عالمی سطح پر مضبوط بنا سکتی ہے۔


سوشل میڈیا پر ملا جلا ردعمل

خواجہ آصف کی پوسٹ کے بعد سوشل میڈیا پر مختلف آراء سامنے آئیں۔

کچھ صارفین نے ان کے مؤقف کی حمایت کرتے ہوئے پی سی بی میں اصلاحات کا مطالبہ کیا، جبکہ دیگر نے اسے سیاسی تنقید قرار دیا۔ کئی کرکٹ شائقین نے بھی قومی ٹیم کی حالیہ کارکردگی پر مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے بورڈ میں مؤثر تبدیلیوں کی ضرورت پر زور دیا۔


کیا پی سی بی میں بڑی تبدیلیاں آئیں گی؟

محسن نقوی کی قیادت میں پی سی بی میں مختلف انتظامی فیصلے کیے جا چکے ہیں، تاہم شائقین کی توقع ہے کہ مستقبل میں ڈومیسٹک کرکٹ، انفراسٹرکچر، ٹیلنٹ ڈیولپمنٹ اور قومی ٹیم کی کارکردگی بہتر بنانے کے لیے مزید عملی اقدامات کیے جائیں گے۔

اگر اصلاحاتی اقدامات مؤثر ثابت ہوتے ہیں تو اس سے نہ صرف قومی کرکٹ بلکہ نوجوان کھلاڑیوں کے لیے بھی نئے مواقع پیدا ہو سکتے ہیں۔


نتیجہ

خواجہ آصف کے بیان نے پاکستان کرکٹ بورڈ کی کارکردگی پر جاری بحث کو مزید تقویت دی ہے۔ ان کا مؤقف ہے کہ جب کسی ادارے میں مکمل انتظامی اختیارات موجود ہوں تو اصلاحات اور بہتر نتائج کی توقع بھی اسی ادارے سے کی جاتی ہے۔ اب دیکھنا یہ ہوگا کہ پی سی بی مستقبل میں کن عملی اقدامات کے ذریعے اپنی کارکردگی بہتر بنانے کی کوشش کرتا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں