37

پی ٹی آئی رہنما عبداللہ طاہر قتل کیس: پولیس کا بڑا دعویٰ، ریت کے ٹھیکے کی رنجش سامنے آگئی

عبداللہ طاہر قتل کیس میں اہم پیش رفت

لاہور (2 اگست 2026): پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما عبداللہ طاہر کے قتل کیس میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ پولیس ذرائع کے مطابق تحقیقات میں ایسے انکشافات ہوئے ہیں جنہوں نے کیس کا رخ بدل دیا ہے۔ پولیس کا دعویٰ ہے کہ قتل کی وجہ نارووال میں ریت کے ٹھیکے کا تنازع بنا، جس کے بعد مبینہ طور پر کرائے کے قاتلوں کے ذریعے واردات کروائی گئی۔

پولیس کا کہنا ہے کہ تفتیش مختلف پہلوؤں سے جاری ہے اور واقعے میں ملوث تمام افراد کو قانون کے کٹہرے میں لانے کے لیے کارروائی کی جا رہی ہے۔


پولیس ذرائع کا سنسنی خیز دعویٰ

پولیس ذرائع کے مطابق ابتدائی تحقیقات میں معلوم ہوا ہے کہ عبداللہ طاہر نے نارووال میں ریت کا ٹھیکہ حاصل کیا تھا، جس پر پہلے سے موجود بعض افراد کو اعتراض تھا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ اسی تنازع نے بعد ازاں شدید دشمنی کی شکل اختیار کر لی، جس کے نتیجے میں عبداللہ طاہر کو نشانہ بنایا گیا۔


ریت کے ٹھیکے کا تنازع قتل کی وجہ قرار

تحقیقات سے وابستہ ذرائع کے مطابق امریکا میں مقیم زمان کوگی بٹ نے عبداللہ طاہر کو ریت کا ٹھیکہ نہ لینے کی مبینہ طور پر تنبیہ کی تھی۔

پولیس کے مطابق اس مبینہ تنبیہ کے باوجود عبداللہ طاہر نے نارووال میں ریت کا ٹھیکہ حاصل کیا، جس کے بعد دونوں فریقوں کے درمیان تنازع مزید بڑھ گیا۔

پولیس کا دعویٰ ہے کہ اسی تنازع کے باعث قتل کی منصوبہ بندی کی گئی۔


کرائے کے قاتلوں کے ذریعے قتل کا الزام

پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ تحقیقات میں یہ دعویٰ سامنے آیا ہے کہ عبداللہ طاہر کو مبینہ طور پر کرائے کے شوٹرز کے ذریعے قتل کروایا گیا۔

تاہم اس معاملے میں عدالتی کارروائی اور مزید تحقیقات ابھی جاری ہیں، اس لیے حتمی ذمہ داری کا تعین عدالت میں پیش ہونے والے شواہد کی بنیاد پر ہوگا۔


زمان کوگی بٹ کے ریڈ وارنٹ کی تیاری

پولیس کے مطابق امریکا میں مقیم ملزم زمان کوگی بٹ کے خلاف ریڈ وارنٹ جاری کرانے کے لیے قانونی کارروائی شروع کر دی گئی ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ اگر ریڈ وارنٹ جاری ہو جاتے ہیں تو بین الاقوامی تعاون کے ذریعے ملزم کی گرفتاری کی کوشش کی جائے گی تاکہ اسے پاکستان لا کر قانونی کارروائی مکمل کی جا سکے۔


پولیس کا بڑا دعویٰ

پولیس ذرائع کے مطابق زمان کوگی بٹ پر متعدد سنگین جرائم میں ملوث ہونے کے الزامات بھی موجود ہیں۔

حکام کا کہنا ہے کہ ان الزامات کی بھی تحقیقات جاری ہیں اور تمام شواہد کو قانونی تقاضوں کے مطابق جانچا جا رہا ہے۔


کرائے کے شوٹرز تاحال گرفتار نہیں ہو سکے

پولیس کے مطابق عبداللہ طاہر پر فائرنگ کرنے والے مبینہ شوٹرز ابھی تک قانون کی گرفت میں نہیں آ سکے۔

تاہم تفتیشی ٹیموں کا کہنا ہے کہ وہ ملزمان کے انتہائی قریب پہنچ چکی ہیں اور جلد گرفتاریاں متوقع ہیں۔


تحقیقات کا دائرہ وسیع

قانون نافذ کرنے والے ادارے قتل کے تمام محرکات، سہولت کاروں، مالی معاملات اور رابطوں کا بھی جائزہ لے رہے ہیں۔

تفتیشی حکام کا کہنا ہے کہ جدید ٹیکنالوجی، موبائل ڈیٹا، سی سی ٹی وی فوٹیج اور دیگر شواہد کی مدد سے کیس کو منطقی انجام تک پہنچایا جائے گا۔


قانونی کارروائی جاری

پولیس کا کہنا ہے کہ کیس کی تحقیقات میرٹ پر جاری ہیں اور کسی بھی ملزم کو قانون سے بالاتر نہیں سمجھا جائے گا۔

ماہرین کے مطابق اس نوعیت کے مقدمات میں حتمی فیصلہ عدالت ہی شواہد اور قانونی کارروائی کی بنیاد پر کرتی ہے، اس لیے تحقیقات مکمل ہونے تک تمام دعوؤں کو الزامات یا پولیس کے مؤقف کے طور پر دیکھا جانا چاہیے۔


نتیجہ

عبداللہ طاہر قتل کیس میں سامنے آنے والے پولیس کے دعوؤں نے اس مقدمے کو نئی جہت دے دی ہے۔ ریت کے ٹھیکے کے تنازع، بیرون ملک موجود مبینہ ملزم، ریڈ وارنٹ کی کارروائی اور کرائے کے شوٹرز کی تلاش جیسے پہلو اس کیس کو مزید اہم بنا رہے ہیں۔ اب تمام نظریں پولیس کی آئندہ کارروائی، ممکنہ گرفتاریوں اور عدالتی پیش رفت پر مرکوز ہیں، جہاں شواہد کی بنیاد پر حقائق کا تعین کیا جائے گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں