40

یومِ استحصالِ کشمیر: کشمیری عوام کے ساتھ یکجہتی کا عزم ایک بار پھر تازہ

یومِ استحصالِ کشمیر کی اہمیت

ہر سال 5 اگست کو پاکستان، آزاد کشمیر اور دنیا بھر میں مقیم کشمیری یومِ استحصالِ کشمیر مناتے ہیں۔ اس دن کا مقصد دنیا کی توجہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں کشمیری عوام کو درپیش مسائل، انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور ان کے حقِ خود ارادیت کی جدوجہد کی جانب مبذول کرانا ہے۔ یہ دن کشمیری عوام کے ساتھ اظہارِ یکجہتی اور ان کے بنیادی حقوق کی حمایت کے عزم کی تجدید کی علامت سمجھا جاتا ہے۔

5 اگست 2019 کا بھارتی اقدام

5 اگست 2019 کو بھارت نے اپنے آئین کے آرٹیکل 370 اور 35-اے کو منسوخ کرتے ہوئے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت ختم کر دی۔ اس اقدام کے بعد علاقے کی انتظامی اور آئینی ساخت میں بڑی تبدیلیاں کی گئیں۔ پاکستان اور کشمیری قیادت نے اس فیصلے کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ یہ اقدام اقوام متحدہ کی متعلقہ قراردادوں اور بین الاقوامی قوانین کے منافی ہے۔

اسلام آباد میں مرکزی ریلی

یومِ استحصالِ کشمیر کے موقع پر وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں وزارتِ خارجہ سے ڈی چوک تک مرکزی ریلی نکالی گئی۔ ریلی میں وفاقی وزرا، مشیران، ارکانِ پارلیمنٹ، مختلف سیاسی و سماجی شخصیات اور شہریوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ شرکا نے کشمیر کی آزادی اور کشمیری عوام کے حقِ خود ارادیت کے حق میں نعرے لگائے اور عالمی برادری سے مسئلہ کشمیر کے منصفانہ حل کے لیے مؤثر کردار ادا کرنے کا مطالبہ کیا۔

ملک بھر میں احتجاجی ریلیاں

کراچی، لاہور، پشاور، کوئٹہ سمیت ملک کے مختلف شہروں میں بھی ریلیاں، واکس اور احتجاجی مظاہرے منعقد کیے گئے۔ ان پروگراموں میں شہریوں، طلبہ، سماجی تنظیموں اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد نے شرکت کی۔ مقررین نے کہا کہ کشمیری عوام کی جدوجہد کو عالمی سطح پر تسلیم کیا جانا چاہیے اور انہیں اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنے کا حق ملنا چاہیے۔

ایک منٹ کی خاموشی اور قومی یکجہتی

یومِ استحصالِ کشمیر کے موقع پر صبح 9 بجے سائرن بجایا گیا، جس کے بعد ملک بھر میں ایک منٹ کی خاموشی اختیار کی گئی۔ اس علامتی اقدام کا مقصد کشمیری عوام کے ساتھ اظہارِ ہمدردی اور یکجہتی کرنا تھا۔ مختلف سرکاری اداروں، تعلیمی اداروں اور عوامی مقامات پر بھی اس موقع پر خصوصی تقریبات منعقد کی گئیں۔

کشمیری عوام کے ساتھ اظہارِ یکجہتی

پاکستان میں یومِ استحصالِ کشمیر صرف ایک یادگاری دن نہیں بلکہ کشمیری عوام کے ساتھ مستقل حمایت کے عزم کی علامت بھی ہے۔ مختلف تقاریب، سیمینارز اور کانفرنسوں میں مسئلہ کشمیر کے تاریخی، سیاسی اور انسانی پہلوؤں پر روشنی ڈالی گئی۔ مقررین نے اس بات پر زور دیا کہ کشمیری عوام کی خواہشات کے مطابق پرامن اور منصفانہ حل ہی خطے میں دیرپا امن کا راستہ ہموار کر سکتا ہے۔

عالمی برادری سے مطالبات

اس موقع پر عالمی برادری، اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کی تنظیموں سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ مقبوضہ جموں و کشمیر کی صورتحال پر توجہ دیں اور ایسے اقدامات کی حمایت کریں جو بین الاقوامی قوانین اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق ہوں۔ مقررین کا کہنا تھا کہ مسئلہ کشمیر کا پائیدار حل خطے کے امن اور استحکام کے لیے اہم ہے۔

مسئلہ کشمیر کی تاریخی حیثیت

مسئلہ کشمیر برصغیر کی تقسیم کے بعد سے جنوبی ایشیا کے اہم ترین تنازعات میں شمار ہوتا ہے۔ گزشتہ کئی دہائیوں سے اس مسئلے پر مختلف سفارتی کوششیں اور مذاکرات ہوتے رہے ہیں، تاہم اب بھی یہ معاملہ حل طلب ہے۔ پاکستان مسلسل یہ مؤقف اختیار کرتا ہے کہ مسئلہ کشمیر کا حل کشمیری عوام کی خواہشات اور متعلقہ بین الاقوامی قراردادوں کے مطابق ہونا چاہیے۔

نتیجہ

یومِ استحصالِ کشمیر ہر سال اس بات کی یاد دہانی کراتا ہے کہ مسئلہ کشمیر آج بھی جنوبی ایشیا کا ایک اہم اور حساس مسئلہ ہے۔ اس دن کے ذریعے کشمیری عوام کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کیا جاتا ہے اور عالمی برادری سے مطالبہ کیا جاتا ہے کہ وہ اس مسئلے کے پرامن اور منصفانہ حل کے لیے اپنی ذمہ داریاں ادا کرے۔ پاکستان بھر میں منعقد ہونے والی ریلیاں، تقریبات اور اظہارِ یکجہتی کی سرگرمیاں اسی عزم کی عکاسی کرتی ہیں کہ کشمیری عوام کے حقوق اور ان کے مستقبل سے متعلق مطالبات کو عالمی سطح پر اجاگر کیا جاتا رہے گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں