32

یومِ استحصالِ کشمیر: صدر آصف علی زرداری اور وزیراعظم شہباز شریف کا کشمیری عوام سے مکمل یکجہتی کا اعادہ

یومِ استحصالِ کشمیر کی مناسبت

ہر سال 5 اگست کو پاکستان، آزاد کشمیر اور دنیا بھر میں مقیم کشمیری یومِ استحصالِ کشمیر مناتے ہیں۔ اس دن کا مقصد عالمی برادری کو مقبوضہ جموں و کشمیر کی صورتحال، کشمیری عوام کے مطالبات اور مسئلہ کشمیر کی اہمیت سے آگاہ کرنا ہے۔ اس موقع پر پاکستان کی سیاسی اور ریاستی قیادت کشمیری عوام کے ساتھ اپنی حمایت اور یکجہتی کا اعادہ کرتی ہے۔

صدر آصف علی زرداری کا پیغام

یومِ استحصالِ کشمیر کے موقع پر صدر مملکت آصف علی زرداری نے اپنے خصوصی پیغام میں کہا کہ بھارت کے 5 اگست 2019 کے یکطرفہ اقدامات غیر قانونی ہیں اور بین الاقوامی قوانین کی روح کے منافی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایسے اقدامات سے جموں و کشمیر کی متنازع حیثیت تبدیل نہیں کی جا سکتی اور نہ ہی کشمیری عوام کے بنیادی حقوق کو ختم کیا جا سکتا ہے۔

صدر مملکت نے اس بات پر زور دیا کہ کشمیری عوام نے تمام تر مشکلات، پابندیوں اور چیلنجز کے باوجود اپنے حقِ خود ارادیت کی جدوجہد جاری رکھی ہوئی ہے، جو ان کے عزم اور حوصلے کی عکاسی کرتی ہے۔

وزیراعظم شہباز شریف کا مؤقف

وزیراعظم شہباز شریف نے اپنے پیغام میں کہا کہ بھارت کے 5 اگست 2019 کے اقدامات کے بعد مقبوضہ جموں و کشمیر میں ریاستی جبر میں اضافہ ہوا اور بنیادی آزادیوں پر مزید پابندیاں عائد کی گئیں۔ انہوں نے کہا کہ کشمیری عوام کی پرامن جدوجہد آئندہ نسلوں کے لیے بھی حوصلے اور استقامت کی مثال ہے۔

وزیراعظم نے اس امید کا اظہار کیا کہ عالمی برادری مسئلہ کشمیر کے منصفانہ اور پائیدار حل کے لیے مؤثر کردار ادا کرے گی تاکہ خطے میں امن اور استحکام کو فروغ مل سکے۔

حقِ خود ارادیت کی حمایت

پاکستان مسلسل یہ مؤقف اختیار کرتا آیا ہے کہ کشمیری عوام کو اقوام متحدہ کی متعلقہ قراردادوں کے مطابق حقِ خود ارادیت دیا جانا چاہیے۔ یومِ استحصالِ کشمیر کے موقع پر بھی اس مطالبے کو دہرایا گیا اور کہا گیا کہ کشمیری عوام کو اپنے مستقبل کا فیصلہ خود کرنے کا موقع ملنا چاہیے۔

پاکستانی قیادت کے مطابق مسئلہ کشمیر کا پائیدار حل صرف پرامن مذاکرات اور بین الاقوامی اصولوں کے مطابق ہی ممکن ہے۔

پاکستان کی خارجہ پالیسی اور مسئلہ کشمیر

وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ جموں و کشمیر کے تنازع کا منصفانہ اور پرامن حل پاکستان کی خارجہ پالیسی کا بنیادی ستون ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان سفارتی، سیاسی اور اخلاقی سطح پر کشمیری عوام کی حمایت جاری رکھے گا اور ان کی آواز کو ہر علاقائی اور بین الاقوامی فورم پر اجاگر کرتا رہے گا۔

انہوں نے کہا کہ مسئلہ کشمیر صرف ایک علاقائی تنازع نہیں بلکہ انسانی حقوق اور انصاف سے جڑا ایک اہم بین الاقوامی معاملہ بھی ہے۔

عالمی برادری سے مؤثر کردار کی اپیل

پاکستانی قیادت نے عالمی برادری، اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں سے مطالبہ کیا کہ وہ مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے فعال کردار ادا کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ خطے میں دیرپا امن کے لیے ضروری ہے کہ مسئلہ کشمیر کو بین الاقوامی قوانین اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل کیا جائے۔

انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ کشمیری عوام کے بنیادی حقوق اور آزادیوں کے تحفظ کے لیے عالمی سطح پر سنجیدہ اقدامات کی ضرورت ہے۔

یومِ استحصالِ کشمیر کی اہمیت

یومِ استحصالِ کشمیر صرف ایک یادگاری دن نہیں بلکہ کشمیری عوام کے ساتھ اظہارِ یکجہتی اور ان کے حقِ خود ارادیت کی حمایت کے عزم کی تجدید کا دن بھی ہے۔ اس موقع پر پاکستان بھر میں مختلف تقریبات، سیمینارز، ریلیاں اور خصوصی دعائیہ اجتماعات منعقد کیے جاتے ہیں، جن میں کشمیری عوام کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کیا جاتا ہے۔

یہ دن اس پیغام کو بھی اجاگر کرتا ہے کہ مسئلہ کشمیر جنوبی ایشیا کے امن و استحکام سے جڑا ایک اہم معاملہ ہے، جس کے منصفانہ حل کے لیے عالمی برادری کی توجہ اور تعاون ضروری ہے۔

نتیجہ

صدر آصف علی زرداری اور وزیراعظم شہباز شریف کے پیغامات نے ایک بار پھر اس عزم کا اظہار کیا کہ پاکستان کشمیری عوام کی سفارتی، سیاسی اور اخلاقی حمایت جاری رکھے گا۔ یومِ استحصالِ کشمیر کے موقع پر دیے گئے بیانات اس بات کی عکاسی کرتے ہیں کہ پاکستان مسئلہ کشمیر کو عالمی سطح پر اجاگر کرنے اور اس کے پرامن و منصفانہ حل کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھنے کے عزم پر قائم ہے۔ کشمیری عوام کے حقِ خود ارادیت کی حمایت اور خطے میں امن کے قیام کے لیے سفارتی کوششوں کو جاری رکھنا پاکستان کی پالیسی کا اہم حصہ قرار دیا گیا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں